’قرآن و سنت میںحقوق العباد اور ہمارا رویہ‘ کے موضوع پر خطاب عام

لکھنؤ: جہاں ہمیں اللہ کے حقوق ادا کرنے ہیں، وہیں بندوں کے حقوق بھی ادا کرنا ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر گناہ معاف کر سکتا ہے، صدق دل سے توبہ کرنے پر اللہ اپنے حقوق بھی معاف کر سکتا ہے، لیکن اللہ کی سنت ہے کہ بندوں کے حقوق جب تک بندہ معاف نہ کر دے اللہ معاف نہیں کرتا۔ ان خیالات کا اظہار مولانا ولی اللہ سعیدی فلاحی نائب امیر جماعت اسلامی ہند نے جامع مسجد منشی پلیا میں جماعت اسلامی ہند شہر لکھنؤکی جانب سے منعقدہ خطاب عام میں کیا۔
’قرآن و سنت میںحقوق العباد اور ہمارا رویہ‘ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے مولانا ولی اللہ سعیدی نے کہا کہ ہمارے اوپر رشتہ داروں، پڑوسیوں،اہل محلہ، اپنی بیویوں اور بچوں کے حقوق ہیں ان کی ادائیگی ان کے حق کے مطابق کرنا ہمارا دینی فریضہ ہے۔ اللہ کے رسولؐ کی حدیث ہے کہ تم میں سے بہتر شخص وہ ہے جو اپنے اہل وعیال کے لئے بہتر ہو۔ ماں باپ اس دنیا میں سب سے بڑی نعمت ہیں، ان کے سامنے عاجزی کے ساتھ پیش آؤ۔ان کو کبھی اُف تک نہ کہو۔
انہوں نے کہا کہ حقوق العباد کا لحاظ رکھنے کے ساتھ ساتھ ہمارے اندر ایثار کا بھی جذبہ ہونا چاہیے۔ جس طرح سے صحابہ کرامؓ کی زندگیوں میں ایثار کا نمونہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ انہوں نے اپنے جان و مال کو کس طریقہ سے اللہ کے راستے میں ایثار کیا، خود بھوکے پیاسے رہے لیکن اپنے ساتھیوں کا خیال رکھا۔
پروگرام میں شریک حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے مولانا ولی اللہ سعیدی فلاحی نے کہا کہ کوئی بھی گھر ایک مثالی گھر تبھی بن سکتا ہے جس گھر میں میاں بیوی ایک دوسرے کے حقوق پورے ایمانداری کے ساتھ ادا کرتے ہوں، اور ایک دوسرے کے کام میں تعاون کرتے ہوں، ایک دوسرے کو نیک کام کرنے کے لیے ابھارتے ہوں۔ اگر بیوی کوئی اچھا کام کرے تو شوہر کو چاہیے کہ اس کی حوصلہ افزائی کرے اور اگر شوہر کوئی نیک کام کرتا ہو تو بیوی اس کی حوصلہ افزائی کرے۔ مولانا نے کہا کہ ہماری زندگیوں میں موبائل فون ایک زحمت بن گیا ہے، گھروں کے اندر بھی میاں بیوی الگ الگ اپنے فون میں مصروف رہتے ہیں جس کی وجہ سے بچوں کی تربیت پر خاص توجہ نہیں دے پاتے ہیں، لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اگر ہم اپنے درمیان امام بخاری، امام ابو حنیفہ، صلاح الدین ایوبی اور محمد بن قاسم پیدا کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں بھی اپنے بچوں کی تربیت اسی معیار کی کرنی ہوگی۔
پروگرام کا آغاز مفتی علی نعیم رازی کے درس قرآن سے ہوا، جس میں انہوں نے کہا کہ رحمان کے بندوں کی صفت ایسی ہونی چاہیے جس کا ذکر قرآن میں کیا گیا ہے۔ علی نعیم رازی نے کہا کہ ایک مومن کی شان یہ ہونی چاہیے کہ جب وہ چلے تو دیکھنے والے کو معلوم ہو کہ ایک بندۂ مومن جا رہا ہے، جیسے ایک مجرم چلتا ہے تو اس کی چال سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مجرم ہے، ایک حکمران چلتا ہے تو اس کی چال سے پتہ چلتا ہے کہ ایک بادشاہ جا رہا ہے، اسی طرح ایک مومن کی چال میں میانہ روی ہونی چاہیے، اس میں تکبر نہ ہو۔ اس کے جملہ اعمال قرآنی احکامات کے مطابق ادا ہو رہے ہوں۔
پروگرام کا اختتام مولانا امجد سعید فلاحی ناظم شہر کے اظہار تشکر کے سے ہوا۔ مذکورہ اطلاع جماعت اسلامی ہند یوپی مشرق کے شعبہ میڈیا نے جاری ایک پریس ریلیز میں دی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے