محمدیوسف رحیم بیدری ، بیدر، کرناٹک۔
۱۔ تری آرزو:۔ 
اپنی تنظیم کو لٹتے پٹتے وہ دیکھ رہے تھے ۔ اوراس کوبچانے کیلئے جو کچھ کرسکتے تھے وہ کربھی رہے تھے جس کے گواہ اس شہر کے معمر افرا دتھے ۔ نوجوانوں کو ان کی کوششوں سے کچھ لینادینانہیں تھا۔ اور یوں بھی جوانی کہاں ڈاکومنٹیشن یاتاریخ کے چکر میں پڑی رہتی ہے۔ وہ تو ایک طوفانی دور ہوتاہے۔ ان کے طوفانی دور کے دوران بزرگ احباب رب سے لولگائے تنظیم کو بچانے میں مصروف تھے اوردعا کررہے تھے کہ رب کریم ہماری تنظیم کو لٹنے پٹنے سے بچائیے ، پھر نوجوانوں سے متعلق بھی دعا کہ کہ ’’خدا یاان کی آرزو بدل دے‘‘
قریب میں کھڑاشیطان ہنس رہاتھا۔
۲۔ مجھے بھوک لگی ہے :۔ 
میںنے بات کرنے کیلئے بلایاتھا۔ وہ نوجوان آگیا، ادب سے بیٹھا۔ پھر باتوں ہی باتوں میں میں نے کچھ ایسی بات کہہ دی کہ اس بات پر اس نے شور وہنگامہ کرنا ضروری سمجھا۔ میرالہجہ نرم تھا مزید نرم ہوگیا۔ اسی نرم لہجے میں کہاگیاکہ ہم پھیل کرگفتگو کریں گے تو بات دور تلک جائے گی۔ اور نتیجہ خیز بھی نہیں ہوگی۔ ایک ہی نکتہ پر بات ہوتو کوئی نتیجہ برآمدہوسکتاہے۔ وہ نوجوان تیار نہ ہوسکا۔ بات کو پھیلاتارہا، پھیلاتارہا، ایک کے بعد دوسرااور دوسرے کے بعد تیسر انکتہ اٹھاتارہا۔ پھرا س نے ہی کہا’’مجھے بھوک لگی ہے میں چلتاہوں ‘‘
ظاہر سی بات ہے کہ اس قدرتیز گفتگو کے بعد بھوک تو جم کرلگے گی نا
۳۔ اتناہی بولوکہ :۔ 
’’انسانی حقوق اور میڈیاکی آزادی کو یقینی بنایاجائے ‘‘ مطالبہ کیاگیاتھا۔ جواب ملا’’یہ کیاہوتاہے ؟‘‘ جواب الجواب کچھ یوں تھا’’ایڑا بن کر پیڑا کھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ چوں کہ تمہیں انسانی حقوق اور میڈیا کی آزادی کاپتہ نہیں ہے ، اسی لئے مطالبہ کیاجارہاہے کہ اِن دونوں کی آزادی کوملک میں یقینی بنایاجائے ۔ اگر ایسا نہیں کرسکتے توپھر اس کے نتائج بھگتنے کے لئے تیاررہیں۔ دنیا وی سطح پر یکاوتنہا کردئے جاؤگے ‘‘
انتباہ خطرناک تھا۔ اس لئے کچھ انسانی حقوق کی اپنی تنظیموں اور میڈیا کے اپنے کارپوریٹ گھرانوں کو حکومت نے اپنے خلاف بولنے کی اجازت دے دی ۔ اور خبردار بھی کیاگیاکہ اتناہی بولنا چاہیے جس سے ہمارانقصان نہ ہو۔اگر نقصان ہواتو اس کے ذمہ دار تم خود ہوں گے۔
۴۔ پیاس بجھ چکی:۔ 
پانی کے لئے پوچھاگیاتھا،آدھا گھنٹہ تک پانی نہیں آیا، اس کے باوجود لگاکہ پیاس بجھ گئی ہے۔ پھر کبھی ایسا وقت نہیں آیاکہ پانی کے لئے اس نے اپنی محترمہ سے پوچھاہو۔
۵۔اُخروی عزائم :۔ 
کوئی کچھ لائیں یانہ لائیں۔ وہ جب آتاہے تو عمدہ قسم کی چائے پلانے کاجذبہ لے آتاہے اورپھر محفل چاہے جتنی بڑی ہو، سبھی کوچائے ملتی ضرور ہے۔ ایک عمدہ قسم کی چائے ۔ اُس نے اپنی چائے کاسبھی کودیوانہ بنارکھاہے۔کسی نے کہا’’وہ شاید ،سیاست میں آنا چاہتاہے‘‘ سب نے انکار کرتے ہوئے سنجیدگی سے کہا’’اس کے عزائم اُخروی ہیں۔ وہ اس مقبولیت کو اپنے اللہ کے ہاں کیش کرانا چاہتاہے ‘‘
۶۔ موضوعاتی قلمکار:۔ 
کسی کومعلوم ہویانہ ہو، اخبارکے مرتبین ، رسائل کے ایڈیٹر حضرات اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ ایک عمدہ ترین قلمکار ہے۔ اس کے پاس موضوعات کی کمی نہیں ہے۔ وہ اپنے موضوعات کے ذریعہ سبھی کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلیتاہے لیکن اعتراف کون کرے ؟ یہی سوال ہر اخبار ، ہر رسالے ، ایڈیٹر ، مرتبین اور قلمکار کا ہے کہ ان کی عظمت کا اعتراف کون کررہاہے ، لہٰذا اس ’’موضوعاتی قلمکار‘‘ کی عظمت کااعتراف بھی ہمارے ساتھ دفن ہوگا۔
۷۔ ہم 20:۔ 
ہم جمع ہوئے تھے ۔ ہم سب کو لگاکہ ہم بہت کچھ کرسکتے ہیں لیکن اچانک ہی ایک ابلیسی خیال سبھی کے دماغوں میں درآیاکہ پھر ہماری انفرادی شناخت کاکیاہوگا؟ اوریہی اصل ہے ۔کہاجاتاہے کہ ہم 20کے تحت جمع ہونے کے مثبت فائدے گناتے ہوئے مجلس برخواست کردی گئی۔ ان فوائد کو مجتمع کرکے سب مل کر ان فوائد کو حاصل کرنے سے عملاً اور فوری توبہ کرلی گئی۔ اورکسی کو پتہ بھی نہیں چلا۔
۸۔ رب کاکرشمہ :۔
وہ شدت سے نہ صرف سوچتابلکہ اس سوچ پر عمل بھی کرتاتھا اور سبھی کے درمیان رہ بھی رہاتھا۔ حیرت ہوئی ، اس طرح کیسے ممکن ہے ؟شدت پسندوں کی جگہ سیول سوسائٹیز میں نہیں ہوتی، وہ توجنگلوں یا کم افراد والے دیگر مقامات پر رہتے ہیں لیکن سنا ہے کہ وہ سب کے درمیان نہ صرف رہ رہاتھابلکہ سینکڑوں افراد کے ایک واٹس گروپ کااڈمن بھی تھا۔ میں نے واٹس گروپ کے ممبران کی قوت ِ برداشت کو غائبانہ سلام کیا اور انسانوں کے اِس سماجی کنکشن کو رب کاکرشمہ قرار دینے پر مجبور ہوگیا۔
۹۔ امن پسند :۔
وہ سب مضبوط موقف رکھنے کے بجائے ، اپنے اپنے موقف پرڈٹے اور اڑے رہنے کوترجیح دیتے تھے۔اسلئے کوئی کسی کو ٹچ نہیں کرتاتھا۔ اگر ٹچ کیاگیاتو خوف تھاکہ کہیں ہنگامہ نہ کھڑا ہوجائے۔ عجب طرفہ تماشاتھاکہ وہ امن پسند بھی تھے۔کسی نے کیاخوب کہاہے کہ اسی لئے ان امن پسندوں پرتشددپسند حکومت کررہے تھے۔
۱۰۔ مصروف آدمی:۔
واٹس ایپ پر پیغام موصول ہواتھا۔ مولانا نے بڑے غور سے دیکھا، پڑھ بھی لیا۔ پیغام کیاتھا، ان کی کی گئی تقریر کی رپورٹنگ تھی ۔ کسی صحافی نے بھیجی تھی ، شاید اسی نے ان کی تقریرکی رپورٹنگ کی ہوگی۔ ایک لمباچوڑا،سلام تحریر کرنے کے بعد اس نے رپورٹ بھیجی تھی۔ مولانا مصروف آدمی تھے۔ کہاں ان ترسیلات کے گورکھ دھندے میں پڑتے ۔ وہ دیگر گروپ اور افراد کی ترسیلات کو دیکھنے آگے بڑھ گئے ۔ ویسے انہیں اپنی چھپی ہوئی تقریر اچھی لگی۔خصوصاً آیات ِ قرآنی اور احادیث مبارکہ کاترجمہ دیاگیاتھا۔اور احسان کی تشریح آسان الفاظ میں کی گئی تھی۔ اور کہاگیاتھاکہ احسان کابدلہ جوابی احسان سے بڑھ کردوسرا نہیں ہوسکتا۔ اور یہ کہ جس قدر ایک دوسرے کو سلام کیاجائے گا اس قدر سلامتی پھیلے گی ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے