مجیب الرحمٰن فلاحی
پانچ ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے تعلق سے کہا جارہا ہے کہ 2024 کے الیکشن ہونے سے پہلے اسمبلی انتخابات ششماہی امتحان کی حیثیت رکھتے ہیں۔جیسے ہی پانچ ریاستوں میں الیکشن کے تاریخ کا اعلان ہوتے ہی تمام پارٹیوں کے اندر اضطرابی کیفیت طاری ہوگئ ہے۔ان 5 صوبائ ریاستوں میں الیکشن ہی کے ذریعہ طے کریگا کون پارٹی 2024 کے پارلیمانی انتخاب میں کامیاب ہوسکتاہے۔بہر حال ان ریاستوں کے انتخاب میں انڈیا بنام مودی ہے۔ان انتخابات میں راہل اور مودی کی تاثیر انکی مقبولیت اور انکا قد طے کریں گے۔
ان ریاستوں میں مسلمانوں کے ووٹوں کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔اسلۓ کانگریس انہیں لبھانے کے لۓ اپنی روایتی طریقہ پر عمل پیراہوگی ۔تو وہیں دوسری طرف بی جے پی ملک میں بڑی اکثریت والی پارٹی گردوجال پھینک رکھے ہیں۔ایک جانب انڈیا گٹھبندھن کے امیدوار مسلمانوں کے پاس جاکر مسلمانوں کو جانی ومالی تحفظ فراہم کرنے کے بلندوبانگ دعوے کریں گے۔تو دوسری طرف نریندرمودی کی قیادت میں ہندؤوں کے ووٹ کو اکٹھا کرنے کے لۓ ہندو مسلمان کے درمیان زہر گھول کر ہندو بھائیوں کا ووٹ حاصل کرنے میں کوئ کثر نہیں چھوڑیں گے۔ کیا عوام انکی باتوں میں آکر دھرم کے نام پر ووٹ دیں گے؟
یا ووٹر تعمیروترقی طبی کی سہولت پر یا تعلیم وروزگار کو پانے کے لۓ اپنا قیمتی ووٹ دیں گے؟ پانچ ریاست کے ووٹر ہوشمندی سے کام لیں ورنہ پانچ سال آپکو پچھتانہ پڑیگا۔
میں تمام عوام سے گزارش کرتا ہوں کہ آپسی بھائ چارگی بناۓ رکھتے ہوۓ اچھے امیدوار کا انتخاب کریں تاکہ آپکے مسائل کو با آسانی سے حل کرکے آپ کو اطمینان و سکون پہنوچے۔
