خون مسلم رائیگاں نہیں جائیگا قاتلوں پرعذاب لائے گا!
سہارنپور 14 ، اکتوبر(احمد رضا): 1967 سے یہودی مسلم آبادی کے دشمنوں کے ساتھ ساز باز کرکے مسلم دنیا کو نیست و نابود کر نے پر ٹلا ہوا ہے وہ خد کو اعلی اور مسلم آبادی کو سب سے کم تر مانتے ہوئے اس پر امن اور مہذب طور طریقہ والی قوم کو مٹا نے کی جی جان سے کوشش کر رہا ہے غازہ پٹی پر اسرائیل کے خطرناک حملہ اس سازش کی بد ترین سچی مثال ہے دنیا مسلم آبادی کے قتل عام پر خاموش بیٹھی ہوئی ہے ؟ مسلم آبادی کے خلاف یہودیوں نے جو کہا وہ ان کی سرکار نے سچ ثابت کر دکھایا اسرائیل نے سچ مچ اسلام دشمنی کا کھلا مظاہرہ کرتے ہوئے غازہ پٹی میں مسلم آبادی کا اجتماعی قتل عام انجام دے دیا ہے اس ظلم و جبر پوری دنیا کھلی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے اس اجتماعی قتل عام سے اسرائیل نے خد کو فرعون ثابت کر دکھا یا فلسطینی عوام کو پچہلے 67 سال سے اسرائیل برداشت نہیں کر پا رہا ہے غازہ کے قتل عام کو دنیا بھر کی زمہ دار میڈیا نے خوب دیکھا ہے غازہ پٹی میں قریب قریب 40 ہزار خطرناک کیمیائی بم بر سا کر نوجوانوں، خواتین اور معصو م بچوں کو موت کے گھاٹ اتار کر اسرائیل آج گھمنڈ سے دوبالا ہو رہا ہے۔ اصل میں اس طرح کی جارحیت سے یہودی سرکار نے خد اپنی سرکار اور اپنے اقوام کی بر بادی کی تاریخِ رقم کردی ہےآج پوری دنیا میں اسرائیل اقوام کے خلاف ذبردست غم و غصہ بر پا ہے کل نمازِ جمعہ کے بعد صرف اور صرف سہارنپور کمشنری میں ہی قریب پانچ سو مساجد میں ان جابرانہ حملوں کی مزمت کی گئی اور قاتل جابر گروہ کی تباہی اور بربادی کی صدائیں بلند ہوئی جگہ جگہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف مظا ہرہ دیکھنے کو ملے!
یہ بات بھی سبھی خوب جانتے ہیں کہ جابر اسرائیل لمبے عرصے سے یہی چاہتا ہے کہ غازہ پٹی کو نیست و نابود کر فلسطینیوں کا نام و نشان تک مٹا دے حماس کے حملہ کے بعد سے بوکھلائے یہودی وزیر اعظم نے فلسطین کو برباد کر نے کی کھلی ہوئی دھمکی دی ہے رو س نے اس جابرانہ دھمکی پر سخت اعتراض جتا یا ہے اب آپ خد انداز لگائیں کہ اصل دہشت گرد حماس ہے یا اسرائیل ؟ پوری دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کو دہشت گردی سے جوڑ نیوالے آنکھ کے اندھوں اور دل کے کا لوں کو آج تک بھی اسرائیلی فوج اور حکومت کی دہشت گرد ی نظر نہی آئی ظالم نے لاکھوں نہتے فلسطینیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا لعنت ایسی حکومت پر! 60 سالوں سے فلسطین پر جاری تشدد کے ذریعہ یہودی(اسرائیل) اقوام لگاتار فلسطینی مسلانوں کی نسل کشی پر آمادہ ہے پوری دنیا اس دہشت اور قتل عام سے خوب واقف ہے آج اسرائیل حماس کو قصور وار ٹھرا رہا ہے جبکہ اس حملہ کا ذمہ دار خود اسرائیل ہی ہے!
ملت اسلامیہ کا درد محسوس کرتے ہوئے راشٹریہ سماجک سوشل کارکنان تنظیم کے کنوینر محمد آفاق نے جاری اپنے بیان میں کہا کہ حماس کے بہادر سپا ہیوں نے بہ مجبوری اچانک اسرائیل پر زمینی اور فضائی حملہ کرکے پورے تل ابیب کو دھول چا ٹنے پر مجبور کر دیا ہے ان حملوں سے اسرائیل پر بوکھلاہٹ طاری ہو گئی ہے ان حملوں سے یقینی طور پر اسرائیل کو زبردست جانی اور مالی نقصان پہنچایا ہے حماس کے جیالوں نے بڑی تعداد میں اسرائیلیوں کو سبق سکھا کر حق کی فتح کا بگل بجا دیا ہے اور سیکڑوں کو یرغمال بنالیا ہے ہلاک ہونے اور یرغمال بننے والوں میں خاصی تعداد اسرائیلی فوجیوں اور ان کے اعلیٰ افسروں کی ہے اسرائیل کےلئے بڑی شرمندگی اور رسوائی کی بات یہ ہے کہ ٹیکنالوجی اور انٹیلیجنس کے میدان میں مہارتوں کے باوجود حملے کا آغاز ہونے سے قبل اسے کانوں کان خبر نہیں ہوسکی یہی تو اللہ تعالیٰ کی مصلحت کی شاندار مثال ہے اس پر مختلف ممالک کے حکمرانوں ، عالمی تنظیموں کے سربراہوں اور بین الاقوامی اداروں کے ذمے داروں کے الگ الگ ردّ عمل سامنے آئے ہیں زیادہ تر اسرائیل کی حمایت کررہے ہیں تو کچھ فلسطینیوں کے حقوق کی پامالی اور اسرائیل کی مسلسل جارحیت پر اس کا مواخذہ کرنے کی بات کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے اسرائیل کی حمایت کی ہے وہ حماس کے حملے کو دہشت گردی سے تعبیر کررہے ہیں اور فلسطینی مزاحمت کاروں کو مجرم بناکر پیش کررہے ہیں اسی کو کہتے ہیں چوری اور سینہ زوری کتنی عجیب بات ہے کہ جو لوگ ستّر برسوں سے مسلسل ظلم و ستم کا شکار ہیں ، جن کی زمینوں پر زبردستی قبضہ کرکے انہیں بے گھر کردیا گیا ہے ، جو مسلسل جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں حماس نے جو کیا ہے اس واردات سے مظلومین کا کیا رشتہ یہ تو یہودیوں کی اسلام دشمنی کی کھلی نظیر ہے!
