سدھارتھ نگر(پریس ریلیز): تعلیم کے ساتھ تعمیری سوچ چاہئے ورنہ تخریب کا آغاز ہوجاتا ہے۔ اس لئے اسکے ساتھ فکری واسلامی تربیت بھی چاہئے تاکہ تعلیم کے بعد چالاکی آہے تو انسان دوسروں پر ظلم نہ کرکے شفقت کا اظہار کرے۔
تعلیم سے تعمیر کا پلان لانا ہے تو ترغیب اور تشویق بھی چاہئے اور اگر بات نہ بنے تو ترغیب کے ساتھ ترہیب بھی استعمال کریں۔ بچے صرف خوش کلامی سے سدھر نہیں سکتے ان کے ساتھ سخت کلامی کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔ بہر حال سیاست سے دین خالی ہوجائے تو چنگیزی آجاتی ہے اسی طرح ذہین انسان اگر فکری اعتبار سے کھوکھلا ہو تو اسکا علم تعمیری ہونے کے بجائے تخریبی ہوجاتا ہے۔ اس لئے تدریسی ملازم کے بجائے ایک مثالی معلم پیدا کریں ورنہ تعلیم کے بعد بس سب پیدا ہوں گے جو بیوہ کے پنشن کارڈ میں بھی نیتا کے ساتھ وکٹم کارڈ کھیل کر کمیشن کھالیں گے۔
راشن کارڈ میں بھی مذہب اور غریبی کارڈ کھیلا جارہا ہے۔ چھوٹے نیتا وہاں بھی سو پچاس کھائی لیتے ہیں۔ اس لئے تعلیم کے بعد بابو بنیں یا یہ بچے نیتا بنیں یہ چنگیزی اس وقت ختم ہوگی جب ایک بہتر فکر ساتھ اساتذہ کی تیاری کا یقینی بنایا جائے گا۔
ان خیالات کا اظہار گریٹ انڈیا نیشنل اکیڈمی نور نگر (کرمہوا) کونڈراگرانٹ سدھارتھ نگر کے ڈائریکٹر جناب نوراللہ خان نے کیا۔ آپ نے مزید کہا کہ بامقصد تعلیم اسی نظام تعلیم سے ممکن ہے جہاں تیز طرار طالب علم کی تعریف کے ساتھ اسکے اخلاق وکردار پر بھی نظر ہو اور صرف پیسے کمانے کی سوچ کے بجائے سماج سیوا کا بھی تصور ذہن میں باقی ہو۔
اس مادہ پرست دور میں تعلیم کو ہنر اور روزگار سے واسبتہ پروفیشنل کورسز کے ساتھ جوڑنا ہوگا تاکہ مایوس، پریشان، خالی اوقات میں سماجی برائی میں لت پت ہورہی نسل کو روزگار سے جوڑا جا سکے۔غریبی سماج کیلئے ایک مہلک بیماری ہے جو بہت سارے امراض کو جنم دیتی ہے۔
