خواتین انفرادی و اجتماعی طرز حیات میں سیرۃالنبی کو اپنائیں: محمد شریف فلاحی

فیشن کے دور میں حجاب کا حکم خواتین کیلئے نعمت خداوندی: عالمہ فاطمہ زہرہ

بانسی (سدھارتھ نگر): موجودہ دور میں جس طرح مختلف طبقات کے لوگ مختلف قسم کے اخلاقی امراض کا شکار ہیں اسی طرح سے امت مسلمہ کی خواتین و طالبات بھی کسی نہ کسی قدر ان اخلاقی برائیوں میں ملوث نظر آتی ہیں۔ جھوٹ ، وعدہ خلافی ، حسد، بدظنی، بدگوئی ، گالی، فحش گوئی وغیرہ جیسے اخلاقی برائیاں ہماری بہنوں اور خواتین میں پائی جا رہی ہیں۔ جو بعض اوقات دھیرے دھیرے فحاشیت و اباحیت کے دہانے کی طرف لے جا رہا ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ امت کی مائیں اور بہنیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ کریں۔ ازواج مطہرات و صحابیات کی سیرت کی روشنی میں اپنے طرز حیات کا جائزہ لے کر گھر اور خاندان کی تعمیر و ترقی میں اپنا نمایاں رول ادا کریں اور صداقت شعاری، ایفائے عہد حسن ظن خیر خواہی و غمگساری جیسے اوصاف سے خود کو متصف کریں۔ تاکہ اپنے حقوق کو پہچان کر اپنے فرائض و ذمہ داری کو کما حقہ ادا کر سکیں۔

مذکورہ خیالات کا اظہار محمد شریف فلاحی امیر مقامی بانسی نے جامعۃ الصالحات بانسی کے کانفرنس ہال میں جماعت اسلامی ہند اور گرلس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا کے باہمی تعاون و اشتراک سے منعقد ہونے والے رہبر انسانیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر عنوان پروگرام میں سیرۃالنبی کا پیغام خواتین کے نام کے موضوع پر خطاب کے دوران کیا۔ اس موقع پر محمد شریف فلاحی نے سیرت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا ایک اہم پہلو اطاعت و فرمانبرداری بھی ہے اس وقت امت کی مائیں اور بہنیں جن جن مسائل کا شکار ہیں اس کا واحد حل نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طرز زندگی کو حرز جاں بنا کر اپنی زندگی میں نافذ کرنا اور اس پیغام اپنی دوسری بہنوں کو بتانا ہے اسی وقت دنیا اور آخرت میں سرخرو ہو سکتے ہیں جب ہم نبی کی سیرت کے تمام گوشوں کو اپنی استطاعت کے مطابق لوگوں تک پہونچائیں۔ محمد شریف فلاحی نے اس پر زور دے کر کہا کہ خواتین محاسبہ نفس،احساس بندگی، اور فرد شناسی سے خود کو آراستہ کرکے گھریلو زندگی کو خوشگوار بنائیں۔

اس موقع پر عالمہ فاطمہ زہرہ فلاحی نے عصر حاضر اور پردہ عنوان پر اپنے خطاب میں پردہ کے بعض گوشوں پر کتاب و سنت کی روشنی میں شر ح و بسط سے روشنی ڈالی۔ اور پردہ کے تقاضوں اور اس کے حدود و قیود پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ علاوہ ازیں شبینہ نے بھی سیرۃ النبی کے بعض اہم پہلو پر روشنی ڈالی۔ پروگرام کا آغاز نائلہ کی تلاوت اور مریم افشاں سمیہ خاتون کے ترجمہ سے ہوا۔ اور عالمہ شاہ جبیں نے افتتاحی کلمات میں امت کے خواتین کی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے پروگرام کے اغراض و مقاصد کو بیان کیا۔دوران پروگرام راضیہ، کوثر جہاں، اور زینت پروین کے نظموں سے خواتین و طالبات محظوظ ہوئیں۔ نظامت کی ذلت داری راضیہ خاتون نے انجام دی۔

مولانا مشتاق احمد فلاحی صدرمدرس جامعۃ الصالحات بانسی کے زیر اشراف منعقد ہونے والے اس پروگرام کا اختتام دعا پر ہوا۔ پروگرام میں طالبات و شہر کی خواتین کے علاوہ جملہ معلمات موجود تھیں۔ مولانا ابوبکر فلاحی، مولانا شمیم احمد سنابلی، مولانا جمال احمد قاسمی، مولانا اسامہ فلاحی نے انتظامی امور کو انجام دیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے