سدھارتھ نگر(پریس ریلیز): گزشتہ شب انجمن پیغام ادب کے زیر اہتمام ماہانہ شعری نشست کا انعقاد جاوید سرور کی رہائش گاہ پر ہوا۔ جس کی صدارت کہنہ مشق اور استاذ شاعر سالک بستوی نے کیا اور مہمان خصوصی کے طور پر ڈاکٹر نیاز اعظمی کی موجودگی قابل ستائش رہی اور نشست کی نظامت اردو ادب کے بہترین بزرگ شاعر نور قاسمی نے کیا۔ بزم کے چند پسندیدہ اشعار درج ذیل ہیں:-
بزم کا افتتاح بحیثیت مہدی حسن سالم فیضی کے نعت پاک سے ہوا۔
خود ہیں بھوکے کھلایا غیر کو
اس قدر دھنوان ہیں میرے نبی
سالکؔ بستوی-
بدل جائیگا یہ نظم گلستاں وقت آنے دو،
نظر آئیگی فصل بہاراں وقت آنے دو۔
جاوید سرور-
خون میں لپٹی ہوئی معصوم نو زائیدہ لاش،
فتح کی لائیگی اِک دن اک نئی تازہ بہار ۔
نورؔ قاسمی۔
سسکتے بھوک سے بچے نہ بیوہ دیکھ سکی،
عزت کو بیچ کے روٹی خرید لائی ہے۔
مونسؔ فیضی-
ہے حرمین کعبہ کی صفِیں پھٹی پھٹی ہوئی،
محبتوں کی ڈوریاں سبھی کٹی کٹی ہوئی،
اسی لیے ہماری راہ شوق میں ہزار غم،
میرے حریم محترم یروشلم یروشلم، یروشلم
ڈاکٹر نیاز اعظمی-
چمن میں وہ خار ہی خار بو کے بھاگ گیا،
میرا سفینہ بھنور میں ڈبو کے بھاگ گیا۔
ریاض قاصدؔ
ہوائے دہر جو گدلا کرے گا
محال اپنا بھی وہ جینا کرے گا
پنکج سدھارتھ
مست نظروں سے پیوں، جام کو بے کار کروں
پردۂ ناز الٹ، حسن کا دیدار کروں
ارشد صغیر کشی نگری-
محبت میں تڑپ کیا ہے تجھے دیکھا تو جانا ہے،
تڑپتے دل کی آہیں ذرا سن لو ذرا سن لو۔
اس کے علاوہ ریاض قاصد اور پنکج سدھارتھ نے بھی اپنے اپنے کلام پیش کیے۔ پروگرام دیر رات 10 بجے تک جاری رہا۔ جس میں ادب اور شاعری سے خصوصی لگاؤ رکھنے والے سامعین پروگرام کے اختتام تک شعراء کو داد و تحسین سے نوازتے رہے۔ آخر میں جاوید سرور نے تمام شعراء اور سامعین کا شکریہ ادا کیا اور پروگرام کو اگلے ماہ تک ملتوی کرنے کا اعلان بھی کیا۔
