انعام عظیم تیمی مدنی

اسٹیج سجا کر،پھولوں کا گلدستہ لگا کر،بےشمار مسرت و شادمانی کو دلوں میں بسا کر طلبہ کو صف بستہ ترتیب دیکر جامعہ سلفیہ جنکپور دھام کے ذمہ داران و اساتذۂ کرام اپنے مہمانان گرامی کا انتظار کررہے تھے،شیخ الجامعہ بشیر حبیب مدنی حفظہ اللہ ان سےمسلسل رابطے میں تھے،آخر کار وہ 3:35 PM پر تشریف لائے۔

وہ آئے گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے
کبھی ہم ان کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں

ہم نماز سے فارغ ہوگئے تھے،وہ آتے ہی سب سے پہلے نماز عصر ادا کیے،بعد نماز فورا پروگرام کا آغاز کردیا گیا،راقم الحروف (انعام عظیم تیمی مدنی) کی نظامت تھی،تلاوت قرآن سے پروگرام کا آغاز کرنے کیلئے مصطفی عمیر (طالب جامعہ سلفیہ جنکپور دھام) کو دعوت دی گئی،نعتیہ اشعار حافظ ذکاء اللہ(استاذ جامعہ سلفیہ جنکپور دھام)نے ترنم کے ساتھ پڑھا، بعدہ میں نے مکمل ادب و احترام کے ساتھ فضیلة الشیخ بشیر حبیب مدنی(شیخ الجامعہ) کو ماضی، حال، مستقبل کے آئینے میں اھداف و مقاصد مع مستقبل کے عزائم جامعہ کا تعارف پیش کرنے کیلئے دعوت دی، آپ نے مختصر وقت میں بہت ہی بہترین انداز میں اپنی باتوں کو رکھا،جس سے آئے ہوئے مہمان کافی متاثر ہوئے،یہ بات کسی سے مخفی نہیں ہے کہ جامعہ عوام ہی کی کرم فرمائی پر چل رہی ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ اس پر کسی مستحکم اہل خیر کا ہاتھ ہو، تاکہ جامعہ میں قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں گونجتی رہیں۔

انہیں حقیر سمجھ کر نہ گل کرو یارو
یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی

پھر میں نے کویت سے آئے مہمان خصوصی کو پندونصیحت کیلئے دعوت دی،آپ نے حصول علم کی اہمیت اور اس میں آنے والی پریشانیوں پر تبصرہ کیا،آپ عربی زبان میں اپنی بات پیش کررہے تھے جس کا مکمل سلیس اردو ترجمہ شیخ بشیر حبیب مدنی حفظہ اللہ نے کیا،جس سے طلبہ اور عوام کافی مستفید ہوئے،اخیر میں فضیلت الشیخ عزیزالرحمان تربت تیمی مدنی سے نصحیت کرنے کی گزارش کی گئی،آپ نے بھی طلبہ سے کافی قیمتی باتیں کیں، اساتذۂ کرام سے خوب خوب استفادہ پر ابھارا۔
آپ کے خطاب کے بعد میں نے تمام مہمانان عظام، ذمہ داران اور اساتذۂ جامعہ کا شکریہ ادا کیا، دعائیہ کلمات سے نوازا اور پروگرام کے اختتام کا اعلان کردیا۔
پروگرام کے اختتام کے بعد شیخ الجامعہ نے ذمہ داران و اساتذہءکرام کے ساتھ مہمان کو آفس، لائبریری،مسجد کے دور اول اور چھٹ پر جاکر جامعہ کے ارد گرد کی زمین (جہاں سے جامعہ کے مستقبل کے بہت سارے عزائم جڑے ہوئے ہیں) کا معائنہ کروایا،وہ جامعہ کے نشاطات اور سسٹم سے کافی خوش ہوئے، خاص کر جب وہ لائبریری گئے اور وہاں کتابوں کے ساتھ دس بارہ کمپیوٹر کو دیکھا تو کافی خوش ہوئے، وہاں شیخ الجامعہ نے کہا "طلبہ و طالبات کے ایک ہاتھ میں قرآن و حدیث تو دوسرے ہاتھ میں کمپیوٹر اور سائنس ہو اس فکرمندی کے ساتھ ہم جامعہ کو آگے لیکر چل رہے ہیں)
مختصر یہ کہ وہ کافی خوش ہوئے جامعہ کو ایسی جگہ سے دعوت دین اور درس و تدریس دیتے دیکھ کر جہاں چاروں طرف سے غیرمسلموں کا بول بالا ہے، اللہ جامعہ کی حفاظت فرمائے، آئے ہوئے مہمانان کرام کو بہتر بدلہ دے اور ان کے یہاں آنے کو جامعہ کیلئے باعث خیر بنائے آمین یارب العرش العظیم۔

کوشش بھی کر امید بھی رکھ راستہ بھی چن
پھر اس کے بعد تھوڑا مقدر تلاش کر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے