ابو احمد مہراج گنج

انسانی معاشرہ جن رشتوں کے بدولت پروان چڑھتا ہے ان رشتوں میں "داماد”کو ایک اہم مقام حاصل ہے ۔داماد کسے کہتے ہیں یہ کوئی بتانے کی چیز نہیں ہے ۔پھر بھی کچھ تعارف کراہی دیتے ہیں ۔
عام بول چال میں داماد بیٹی کے شوہر کو کہتے ہیں ،لیکن اس سے آگے سالے لوگوں کی زبان میں داماد کو بہنوئی یا جیجا کہتے ہیں تو کچھ مزاح پسند لوگ داماد کو بلی کا بکرا تو کچھ کی زبان میں بڑے جگر گردے والا بندہ بھی کہاجاتا ہے۔
ویسے بھی داماد ہونے اور بننے میں ایک بنیادی فرق ہے ۔داماد ہونے کا مطلب یہ ہے کہ أپ کسی گھرانے کی سب سے نڈر شیرنی کو کنٹرول کرنے والے رنگ ماسٹر ہوتے ہیں جو ہرلمحہ اور ہرلحظہ اپنی جان پر کھیل کر شیرنی کے کھیل بھی دیکھتا ہے اور دوسروں کو اس کے شروفتن سے بچانے میں لگا رہتا ہے ۔
اور داماد بننے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے اندر اینٹھن ہونی چاہیئے اور وہ اینٹھن گفتار سے لیکر کردار تک میں نظر بھی آنی چاہیے۔ آپ کے ایٹیٹوٹ سے دیکھنے والے کو معلوم ہوجانا چاہیے کہ آپ سسرال میں ہیں ۔چہرہ پر تمازت اور آنکھوں میں رعب اس طرح نظر آۓ کہ آپ کی ناک اور آپ کی شان پر کوئی حرف آ گیا ہو۔
ویسے ہی جب بات ناک کی آگئی تو بتادیں داماد کی ناک ہمیشہ اوپر کی جانب گامزن رہتی ہے کیونکہ وہ اس خاندان کی شیرنی کا کمانڈر ان چیف ہوتا ہے ۔اس کے آگے پیچھے سالوں کی ایک فوج ہوتی ہے جو اس کے ایک اشارے کی منتظر ایک جانب کھڑی رہتی ہے تو دوسری جانب سالیوں کی مصنوعی محبت اور پیار بھرے جملوں سے بنے گئے جال ہوتے ہیں جو داماد کو ہمیشہ شکار بنانے کے فراق میں رہتے ہیں اور کبھی کبھار اوپر کی طرف تنی ہوئ ناک اسی جال میں پھنس کر ہمیشہ کے لیے نیچی ہوجاتی ہے۔
یہی شان وشوکت والے داماد اپنی اک ترچھی نظر سے ساس کی نید اور سسرے کا چین اڑا دینے والے داماد ،ایک منٹ میں سالوں کی دھجی اور سالیوں کی خوشیوں کو ملیامیٹ کر نے والے داماد جب شیرنی کے اشاروں پر ناچنے لگتے ہیں جب شیرنی کے دم چھلے بن جاتے ہیں تو ان کو ہی پھوپھا کہا جاتا ہے ۔
پھوپھا بھی کئی قسم کے ہوتے ہیں جو میں نے دیکھا وہ یہ کہ عام طور پر پھوپھا تین قسم کے ہوتے ہیں ۔
ایک وہ جو اپنے داماد ہونے کے دن ابھی بھولے نہیں ہوتے اس لئے ان کے دماغ میں داماد بنے رہنے کا کیڑا کلبلاتا رہتا ہے جس کا مظاہرہ وقتا فوقتاً شادی بیاہ یا دیگر کسی تقریب میں پھوپھا جی کے برتاؤ اور سلوک سے نظر آجا تا ہے ۔پھوپھا جی کے اندر پرانے والے داماد کی جھلک دکھائی دیتی ہے جس سے سب لوگ انتہائ شدّت سے محسوس کرلیتے ہیں اور پھوپھا جی اپنا پرانا پروٹوکول حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔
دوسری قسم ان پھوپھا لوگوں کی ہے جو یہ سمجھ چکے ہوتے ہیں کہ ان کے پرانے دن لوٹنے سے رہے اس لئے اب وہ اس شیرنی کے سایہ میں اپنی دھاک بٹھانے میں لگ جاتے ہیں اور شیرنی کو آگے بڑھا کر اپنے ذات کی ہورہی بے توجہی کو حاصل کرنے کے حربے استعمال کرتے ہیں ۔مطلب پھوپھا کی یہ والی قسم خود تو متانت وسنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہیں لیکن پھوپھی کے کان میں پھونک پھانک کر ماحول میں گرمی پیدا کرکے اس میں سرخروئی حاصل کرنے میں مصروف رہتے ہیں ۔
تیسری قسم ان پھوپھا کی ہے جو اپنے جیسے دوسرے پھوپھاوں کے ساتھ اپنا غم غلط کرتے ہوئے سوچتے ہیں کہ جب ہم داماد تھے تو سرکے تاج تھے ،ساس کی نظروں میں ہیرا تھے ۔سالیوں کے نظروں میں مثالی شوہر تھے اور سالوں کی نظر میں بھائی جان تھے اور محلے کے لونڈوں کے لئے تفریح کے سامان تھے۔اور آج جب ہم پھوپھا ہوگئے ہیں تو اب ہم پھوں پھاں ہوگئے ہیں ۔
میرا حال پوچھ کے ہم نشیں میرے سوز دل کو ہوا نہ دے
بس یہی دعا میں کروں ہوں اب کہ یہ غم کسی کو خدا نہ دے
اگر برا نہ مانیں تو میں پوچھ لوں أپ پھوپھا کی کونسی قسم میں آتے ہیں ۔اور اگر پھوپھا نہیں ہوےہیں تو کونسی قسم کے ہونا چاہیں گے ۔سوچیے گا ضرور۔ خدا حافظ ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے