نوجوان شاعراسرارعدیلؔ کے اعزاز میں شعری نشست
مرتب: عبدالغفار صدیقی
9897565066
نورپور، بجنور: شعرو ادب کی مجلسیں ہماری روشن ادبی تہذیب کا قیمتی سرمایہ اور بقا کی ضامن ہیں ۔شعری نشستیں ہماری شعری صلاحیتوں کو نکھارنے میں معاون ہوتی ہیں ۔ان خیالات کا اظہارحکیم سعید انصاری کی دعوت پر محلہ حضرت نگر نورپور میں منعقد ہ شعری محفل میں عبدالغفار دانش نے اپنی صدارتی گفتگو میں کیا ۔ موصوف نے مشورہ دیا کہ یہ نشستیں ہر ماہ منعقد کی جانی چاہئیں۔ اس سے نئے تخلیق کاروں کو تحریک ملے گی اور بستی میں علمی فضا ہموار ہوگی۔یہ شعری مجلس نورپور کے نوجوان شاعر اسرار عدیل کے اعزاز میں منعقد کی گئی تھی جس کی صدارت معروف کالم نگار اور شاعر عبدالغفاردانش نے کی ۔ نظامت کے فرائض علی اکرم انصاری نے بحسن و خوبی انجام دیے ۔نشست کا آغاز حکیم سعیدانصاری اور ماسٹرہاشم حصیری کے نعتیہ کلام سے ہوا۔پسندیدہ اشعار ہدیہ قارئین ہیں ۔
جو ایک رات کو مہمان بن کے ٹھہرے تھے
ہماری نیند چرالے گئے سرھانے سے
عبدالغفاردانشؔ
نشان میری محبت کا مٹ نہ پائے گا
لہو کو صاف بھی کردے اگر رومال سے وہ
علی اکرم ؔانصاری
وقت آتا ہے تو چپکے سے بچھڑجاتے ہیں لوگ
کون دیتا ہے کسی کا ساتھ ساری زندگی
اسرارعدیلؔ
شوق لکھنے کا ہے اگر تم کو
لائو اپنا قلم صحافت میں
اسرارالحق اسرارؔ
جہاں میں ہیں بہت مفلس جو ٹکڑوں کو ترستے ہیں
مرے مولیٰ انھیں تو پیٹ بھر روٹی عطا کردے
سعیدؔ انصاری
درد کا مرے دل سے جیسے دوستانہ ہے
ان کے روٹھ جانے کا سلسلہ پرانا ہے
ہاشمؔ حصیری
کوئی جاکے کہہ دے ہوائوں سے یوسف
میں طوفاں کا رستا بدلتا رہا ہوں
یوسف قریشی
ہمیں خبر بھی نہیں کس کی یاد آتی ہے
یہ آستین مگر روز بھیگ جاتی ہے
نعیم ؔراجا
