اٹوا(سدھارتھ نگر): بزمِ اربابِ ادب اٹوا کی 82ویں ماہانہ طرحی ادبی شعری نشست جناب ڈاکٹر ایازاعظمی کی صدارت اور جناب ارشداقبال کی نظامت میں بروز اور شب میں آنلاٸن تحریری منعقد ہوٸی جس میں شعرآ ٕ نے اپنے کلام سے نوازا چنندہ اشعار اردودوست ،ادب نواز باذوق قارٸین کی بصارتوں کے حوالےہیں ۔
دلیلِ صبح تاباں ہےسیاہی ظلمتِ شب کی
ہمیشہ بطنِ فردا میں سنہرے خواب پلتےہیں
ڈاکٹرایازاعظمی
کمندیں ڈال دی ہیں چاندتاروں پرمگراب بھی
کچھ اندھے،زاٸچے ہی دیکھ کر گھرسے نکلتےہیں
جمال قدوسی
ہمیں بارود کی چنگاریوں سےکیاڈراتےہو
بلاٸیں پاٶں پڑتی ہیں جدھرسےہم گزرتےہیں
ہدایت اللہ شمسی
لہوعالم میں انسانوں کےپانی سے بھی سستےہیں
جہاں میں خونچکاں منظرسےزندہ دل تڑپتےہیں
ظہیررحمانی
شہادت کیاخبرآجاۓگی کب ہم سے گلےملنے
سجاکرجاں ہتھیلی پر سوہم گھرسے نکلتےہیں
ارشداقبال
اثررکھاہےرب نےایسا اس کےروۓ تاباں میں
نظرپڑتے ہی اس پر سارےپتھردل پگھلتےہیں
التجاحسین نورصدیقی
اخوت باہمی کا آج کیوں فقدان ہے ہم میں
کہیں پربھاٸی مرتے ہیں کہیں ہم رقص کرتےہیں
سیدعزیزالرحمٰن عاجز
کوٸی توبھیج دے پھرسےصلاح الدین اےمولی!
مِرے معصوم بچے آج یہ فریادکرتےہیں
جمال اجمل
زمانےمیں بلامحنت میسرکچھ نہیں ہوتا
اگر ہو عزم کامل کوہ سے دریا نکلتے ہیں
شکیل ضاغط
عجب سی کشمکش ہوتی ہے ان رنگوں میں پھرکیفی
بہاروں میں کھلے گل جب کبھی سجتےسنورتےہیں
کفیل کیفی
مسلسل ظلم سے فرعون کی فرعونیت ڈوبی
مگرایمان والے مثل سورج کے ابھرتےہیں
عبدالمبین مبیں
میں بادہ کش نہ ہی میخانے کی مجھ کو ضرورت ہے
مگرمیں جام پی لوں گا جو آنکھوں سے چھلکتےہیں
سلمان حنیف
بڑوں کی راۓ کےبرعکس جوبھی راہ چلتےہیں
بےچارےعمربھرپھروہ کفِ افسوس ملتےہیں
رحمت علی راہی
ان کے علاوہ جناب عبدالرب جوہروغیرہ نے بھی اپناکلام پیش کیا
