آج غزہ اور اسرائیل جنگ کوپورا مہینہ ہو گیا ہے لیکن جنگ بندی کی کوئی اُمید نظر نہیں آرہی ہے ۹ہزار سے زیادہ فلسطینی شہید ہو چُکےہیں جن میں ۳ہزار سے زائد بچے ہیں. ہسپتال، اسکول، میڈکل پناہگاہ کیمپ ہر اُس جگہ کو تباہ کیا جا رہا ہے جہاں سے فلسطینی ذرا سی بھی راحت لے سکیں. یونیسیف کے مطابق ہر دس منٹ میں ایک بچّہ شہید ہو رہا ہے. مظلوم فلسطینیوں کو برہنہ کرکےاُنکی لاشوں کے ساتھ بے حرمتی کی تصاویر دیکھکر دل دہل جاتا ہے . غاصب اسرائیل موت کا سوداگر بچے بوڑھے خواتین کسی کی بھی پرواہ کیے بغیر مسلسل بم دھماکہ کر رہا ہے پورا شہر ملبے میں تبدیل ہو چکا ہے 25 لاکھ مظلوم فلسطینی بے سرو سامان کھانا پانی سے محروم بےگھر ہو چکے ہیں ۔
35 صحافیوں کو ماردیا گیا میڈیا رپورٹز کے مطابق محمد ابو حاتب صحافی کو انکے پورے گھر 11 افراد ساتھ ماردیا گیا اور اس طرح اور اس طرح صحافت کا گلا گھوٹا جا رہا ہے. لیکن شاید یہ خبریں انسانیت کے نام نہاد ٹھیکیداروں کو موصول نہیں ہو رہی ہیں یہاں تک کہ امریکہ مسلسل اسرائیل کو مدد فراہم کیے جا رہا ہے دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ نے سب سے بڑا بجٹ اسرائیل کے لیے منظور کیا ہے جس کی قیمت 124 بلین ڈالر ہو گئی ہے ،ساری دنیا سے مذمتی بیانات جاری ہو رہے ہیں روس کے وزیراعظم پوتن نے بھی کہا کہ معصوم بچوں کی چیخیں سن کر دل دہل جاتا ہے لیکن اس نسل کشی پر عالمی طاقتوں کا خاموش رہنا تعجب ہے کیوں تماشائی بنے ہوئے ہیں کچھ ممالک نے اپنی سفارتی تعلقات اسرائیل سے منقطع کر دیے ہیں لیکن مجال کے عالم اسلام کی اتنی بڑی بڑی طاقتیں اسرائیل کو کھلا چیلنج کر دیں یا کم از کم فلسطینیوں کو سہولیات فراہم کر دیں ہتھیار یا کھانا پانی بھجوا دیں عرب حکام غفلت کی نیند سو رہے ہیں مذہبی بیانات کے علاوہ کوئی مضبوط کاروائی دیکھنے میں نہیں آرہی ہے جملے بازی کے سوا کچھ نہیں ہو رہا ہے پوری دنیا جانتی ہے کہ اسرائیل غاصب ہے فلسطینیوں کو دھوکہ دے کر اور بالفور کی مدد سے فلسطین پر قبضہ کیا اور اس کو اپنا ملک بنا لیا اور وہاں کے اصلی شہریوں کو تباہ کر کے رکھ دیا ساری دنیا اس سے واقف ہے لیکن امریکہ اور اقوام متحدہ کے پس پردہ اس مسئلے کو کبھی اٹھایا ہی نہیں گیا 75 سال سے پریشان مظلوم فلسطینیوں نے ایک منصفانہ کروٹ لی تو ساری صہیونیت در پہ اگئی اور پہلے اسرائیل کا رونا رویا گیا اور حماس کے اسرائیل پر حملے کی جم کر تصاویر وائرل ہوئیں اور صہیونی میڈیا نے حماس اور غزہ کو ٹیررسٹ ثابت کرنے کے لیے اپنی ایڑی چوٹی کی طاقت لگا دی جس کا اثر ہم نے امریکہ میں معصوم بچے کی قتل کی شکل میں دیکھا صہیونی میڈیا نے ایک عرصے تک بلکہ ابھی بھی حماس غزا کے لیے آتنکی اور ٹیررسٹ کا لفظ استعمال کیا جس سے منفی خیالات عوام کے ذہنوں میں ائیں لیکن چند دنوں میں ہی معلوم ہو گیا کہ کون ٹیررسٹ ہے اور کون انسانیت کی دھجیاں اڑا رہا ہے اور کون معصوم بچوں کی جانوں سے کھیل رہا ہے جو لوگ اسرائیل کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیے تھے وہ شرمندہ ہوئے اور ہو رہے ہیں ساری دنیا اسرائیل کا خونی کھیل دیکھ رہی ہے لیکن اقوام متحدہ سے ابھی تک اس کو ٹیررسٹ قرار نہیں دیا گیا بلکہ اقوام متحدہ کے اندر یہ ووٹنگ چل رہی ہے کہ جنگ بندی کی جائے یا نہیں جو کہ تمام ممبران کے لیے اور عالم کے لیے ایک سبق ہے یہاں انسانیت کا جنازہ نکل رہا ہے اور وہ مجالس پر مجالس کرتے کرتے دن بدن حملوں کے اضافے کا سبب بن رہے ہیں اسرائیل میں 75 سال سے جو ماں ظالمانہ سلوک فلسطین کے ساتھ کیا وہ اس سے سمجھ چکے ہیں کہ عالمی طاقتیں اور عالم اسلام مذمتی بیانات کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتے جس کی جس سے ان کو ہمت ملتی رہی اور اج وہ سپولا ازدہا بن کر فلسطین کو ڈس رہا ہے لیکن انسانیت نواز تنظیمیں اور خود عالم عرب اور عالم اسلام خاموش ہیں بیان بازی پر اکتفا کیے ہوئے ہیں اگر جنگ بندی نہ کی گئی اور اسرائیل کو سبق نہ سکھایا گیا اور وہ اپنی منمانی اور ظلم کرتا رہا تو عنقریب اندیشہ ہے کہ دنیا اس سے بڑی ہلاکت دیکھے گی اس سے پہلے ساری دنیا کو یہ بات جان لینی چاہیے کہ چند کسی مسئلے کا حل نہیں جنگ خود اپنے ساتھ ہزاروں مسائل لے کر اتی ہے عیسائیوں کے مذہبی پیشوا پوپ فرانسز میں بھی یہی کہا کہ جنگ مسئلے کا حل نہیں بیٹھ کر مسئلے کو سلجھایا جائے لیکن جو بائیڈن صہیونیت نوازی میں بالکل کسر نہیں چھوڑ رہے ہیں جس کی وجہ سے وہ ہر طرف سے مذمتوں کا شکار ہو رہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
