زین العابدین

ہم اپنے اس تحریر میں عیسائیت پر اس لیئے بحث نہیں کریں گے کیونکہ یہ ایک ہی سکہ کے دو رخ ہیں ۔یعنی کہہ لیں کہ یہ یہود و عیسائی آج بھائی بھائی ہیں ۔گرچکہ قرآن میں ان دونوں کے اوصاف بعض چیزوں میں یکساں تو بعض چیزوں میں مختلف بیان کیئے گئے ہیں ۔لہذا عیسایئت پر الگ سے لکھنے کی ضرورت نہیں ہے ۔

آگے بڑھنے سے پہلے دونوں کے بارے میں قرآن کی کچھ آیات سامنے رکھتے ہیں۔

وَ قَالُوۡا لَنۡ یَّدۡخُلَ الۡجَنَّۃَ اِلَّا مَنۡ کَانَ ہُوۡدًا اَوۡ نَصٰرٰی ؕ تِلۡکَ اَمَانِیُّہُمۡ ؕ قُلۡ ہَاتُوۡا بُرۡہَانَکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ۔ سورۃ البقرة : آیت ١١١

منافق کی سب سے پہلی سیڑھی جھوٹ ہوتی ہے اور یہ یہود و نصاری دونوں میں پایا جاتا ہے ۔ان کا دعوی سنیں جو اللہ نے بیان کردیا ہے اول یہ یہود صرف اپنے ساتھ نصاری کو جنتی سمجھتے تھے جبکہ ان کے پاس اسکی کوئی دلیل نہیں ہے بس خیالی باتیں و آرزوئیں تھیں جیسے آج ہمارے مسلمانوں کے طبقات ہیں جو اپنے آپ کو ہی جنتی باقی سب کو جہنم میں پھینک دیتے ہیں ۔

اب اس جھوٹ کے بعد دوسرا دعوی سنیں اللہ نے اسکو بھی بیان کردیا ہے ۔۔

وَقَالَتِ ٱلۡيَهُودُ لَيۡسَتِ ٱلنَّصَٰرَىٰ عَلَىٰ شَيۡءٖ وَقَالَتِ ٱلنَّصَٰرَىٰ لَيۡسَتِ ٱلۡيَهُودُ عَلَىٰ شَيۡءٖ وَهُمۡ يَتۡلُونَ ٱلۡكِتَٰبَۗ كَذَٰلِكَ قَالَ ٱلَّذِينَ لَا يَعۡلَمُونَ مِثۡلَ قَوۡلِهِمۡۚ فَٱللَّهُ يَحۡكُمُ بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ فِيمَا كَانُواْ فِيهِ يَخۡتَلِفُونَ ۔سورة بقرة کی آیت نمبر ١١٣ ۔

اس سے دو آیت قبل میں ان کے جنت میں داخل ہونے کے ایک دعوے تھے اب آیت ھذا میں ان دونوں کی آپسی اختلاف و عداوت کو بیان کیا گیا ہے کہ اس حد تک یہ دشمن تھے کہ یہود عیسائی کو کہتے تھے کہ تمہاری کوئی بنیاد نہیں تم کسی راستہ پر نہیں ہو اور یہی جملہ عیسائی یہود کے بارے میں کہتے تھے اور یہی بات بے علم لوگ ,جاہل لوگ ان کی باتوں میں آکر کہنے لگے حالانکہ اللہ کہتا ہے کہ یتلون الکتب یہ کتاب کو پڑھتے ہیں اسکے باوجود ایک دوسرے کے بارے میں ایسی باتیں کہتے ہیں ۔

اسی سورة میں آگے چل کر اللہ فرماتے ہیں: اور یہ بات یاد رکھیں کہ یہ قیامت تک کے لیئے مہر ہے کہ یہود و عیسائی مسلمانوں سے کبھی بھی خوش ,راضی نہیں ہوسکتے جب تک مسلمان ان کے مذہب کی اتباع نہ کریں مذہب کو قبول نہ کرلیں ۔

وَلَن تَرۡضَىٰ عَنكَ ٱلۡيَهُودُ وَلَا ٱلنَّصَٰرَىٰ حَتَّىٰ تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمۡۗ قُلۡ إِنَّ هُدَى ٱللَّهِ هُوَ ٱلۡهُدَىٰۗ وَلَئِنِ ٱتَّبَعۡتَ أَهۡوَآءَهُم بَعۡدَ ٱلَّذِي جَآءَكَ مِنَ ٱلۡعِلۡمِ مَا لَكَ مِنَ ٱللَّهِ مِن وَلِيّٖ وَلَا نَصِيرٍ ۔١٢٠

اچھا ان کی یہ بھی دلی خواہش تھی کہ مسلمان یا تو یہودیت اپنالیں یا عیسایئت تو ہی راہ راست پر آسکتے ہیں ورنہ نہیں حالانکہ ان کا خواب شروع سے ابھی تک پورا نہیں ہوا ۔

اس کو بھی اللہ نے بیان کردیا ہے:

وَ قَالُوۡا کُوۡنُوۡا ہُوۡدًا اَوۡ نَصٰرٰی تَہۡتَدُوۡا ؕ قُلۡ بَلۡ مِلَّۃَ اِبۡرٰہٖمَ حَنِیۡفًا ؕ وَ مَا کَانَ مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ۔ سورۃ البقرة : آیت ١٣٥

اچھا ان سب میں یعنی یہود و نصاری و بت پرست لوگوں میں عیسائی کچھ حد تک سمجھدار اور مسلمانوں کے قریب تھے چونکہ نبیﷺ کی نبوت کے اعلان کے بعد کئی عیسائی عالم پڑھے لکھے لوگ نبیﷺ کی نبوت کو تسلیم کیئے تھے اسلام قبول کیئے تھے تو ان کی اس وقت تعریف بھی کی گئی اور مسلمانوں کے دشمن یہود اور بت پرستوں کو بتایا گیا جو کھلے عام شرک کرتے تھے ۔

اللہ فرماتے ہیں:

لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ ٱلنَّاسِ عَدَٰوَةٗ لِّلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱلۡيَهُودَ وَٱلَّذِينَ أَشۡرَكُواْۖ وَلَتَجِدَنَّ أَقۡرَبَهُم مَّوَدَّةٗ لِّلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱلَّذِينَ قَالُوٓاْ إِنَّا نَصَٰرَىٰۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّ مِنۡهُمۡ قِسِّيسِينَ وَرُهۡبَانٗا وَأَنَّهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُونَ۔سورة المائدہ ٨٢ ۔

مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن ایک تو یہود کو بتایا گیا اور دوسرا مشرکوں کو ۔دوسرا مسلمانوں کے سب سے زیادہ قریبی دوست دیگر مذاہب میں وہ لوگ ہیں جو عیسائی ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو نصاری کہا تھا۔کیونکہ ان میں عالم ,درویس پائے جاتے تھے اور ایک صفت یہ تھی کہ تکبر نہیں کرتے تھے ۔ظاہر سی بات ہے کہ ایک انسان کو نبی تسلیم کرنا ان کی نبوت پر ایمان لانا اپنے مذہب میں عالم ہوتے ہوئے بھی تکبر کو توڑنا ہی ہے تکبر کے ہوتے ہوئے یہ ممکن نہیں ہے ابلیس نے تکبر کے آڑ میں اللہ کی بات نہیں مانی تھی ورنہ آدم کو سجدہ کرتا تھا ۔خیر اس وقت کے عیسائیت کی جو اچھی صفات قرآن میں موجود ہے وہ آج نہیں پائی جاتی ہے الا ماشاء اللہ ۔بلکہ جو ان کے پہلے دشمن ہوتے تھے اب وہی ان کے دوست بن چکے ہیں یعنی یہودی ۔

اگر اللہ و رسول و دین و قرآن و مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن و نقصان پہچانے والے شروع سے ہیں تو ایک لفظ میں بولا جاسکتا ہے کہ وہ منافق ہیں ۔منافق یہود میں بھی پائے جاتے ہیں عیسائی میں, مسلمانوں میں, اور مشرکوں میں بھی پائے جاتے ہیں۔

یہودیوں کی سب سے بڑی خرابی ان کے اندر کی منافقت ہی تھی جس کو کئی بار اللہ نے قرآن میں نشاندہی کی ہے ۔اور یہی منافقت جلدی کسی کو سمجھ نہیں آتی ہے کیونکہ منافق نفاق منافقت کہتے ہی ہیں کہ ظاہر میں کچھ اور باطن میں کچھ اور ہو ، دوغلا پن ,دل میں کفر رکھنا اور زبان سے اظہار ایمان کرنا ۔ دشمنی , عداوت , نفرت , بیزاری , پھوٹ , ناچاقی , اختلاف , بگاڑ , بغض, کینہ ,تعصب حسد , جلن, پھوٹ ڈالنا,جھوٹ ,گالی,کتمان حق,صحیح بات کو غلط بات کے ساتھ خلط ملط کرنا یہ سب منافقت کی صفات میں شامل ہیں ۔یہودی کی ایک صفت یہ بھی تھی کہ یہ تذبذب کے شکار ہوتے تھے یہ لفظ ,ذبابہ سے نکلا ہے اور عربی لغات میں ذبابہ کہتے ہیں مکھی کو ۔کیونکہ مکھی ایک جگہ نہیں بیٹھتی ہے کبھی یہاں تو کبھی وہاں ۔مذبذب انسان کو شرعی اصطلاح میں منافق کہا گیا ہے۔

اور یہ منافق بھی نفاقہ سے ہے ۔عربی میں نافقہ ایک گوہ جانور کے بل کے لیئے بولا جاتا ہے جس کے دونوں طرف سوراخ ہوتے ہیں ایک طرف سے داخل ہوتے تو دوسری طرف نکل جاتے تھے ۔

اور یہ یہود کی باطنی صفت تھی جس کو یہ اپنے عمل سے ظاہر کرتے تھے ۔ان کے اس برے صفت کو قرآن نے بیان کیا ہے۔

در اصل ان کے دل میں اسلام و مسلمانوں کے لیئے نفرت تھا بغض تھا حسد تھا یہ اسلام کی سر بلندی کو نہیں پسند کرتے تھے نبیﷺ کے ساتھیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد ان کو ہضم نہیں ہورہا تھا وہ دیکھتے آرہے تھے کہ نبیﷺ پر جو بھی ایمان لاتا ہے اسلام قبول کرتا ہے وہ کبھی واپس پلٹتا نہیں ہے چاہے کوئی بھی ظلم و ستم یا آزمائش آجائے مگر مدینہ کا معاملہ کچھ مختلف ہے یہاں کمزور ایمان والے بھی ہیں تو انہوں نے آپسی تدبیر سوچی کہ ہم ایسا کرتے ہیں کہ صبح ایمان لاتے ہیں اور شام میں اپنے کفر میں واپس پلٹ جائیں گے تاکہ جو لوگ نئے نئے اسلام قبول کیئے ہیں یا جن کے ایمان کمزور ہیں ان کو لگے کہ کچھ تو اسلام میں مسئلہ ہے کچھ تو خرابی ہے تبھی تو یہ لوگ اسلام چھوڑ رہے ہیں ۔

وَ قَالَتۡ طَّآئِفَۃٌ مِّنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ اٰمِنُوۡا بِالَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ عَلَی الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَجۡہَ النَّہَارِ وَ اکۡفُرُوۡۤا اٰخِرَہٗ لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ ۔سورۃ آل عمران ٧٢ ۔

شروع سے یہودی اپنے پورے زور و شور سے بغات اللہ و رسول و مسلمان سے کرتے آئے ہیں ۔انہوں نے اس وقت بھی جھوٹے دعوے اور جھوٹ بولے تھے آج بھی جھوٹ بول رہے ہیں آج ان کی مغربی میڈیا پر دیکھ لیں کس طرح سے جھوٹ پھیلایا جاتا ہے مظلوموں کو دہشت گرد اتنک وادی ثابت کرتے ہیں اور خود کو مظلوم اور امن پسند ثابت کرتے ہیں ۔ان کی اپنی حرکتوں کی وجہ سے اللہ نے ان کو وعیدیں سنائی ہیں اور ان کو ماضی میں پہلے مسلمانوں کے ہاتھوں سے ذلیل کیا پھر ان کو ہٹلر نے تباہ و برباد کیا ۔

ان کا دوسرا حربہ جیسے کمزور ایمان والوں کے سامنے چلائی تھی آج بھی مسلمانوں کے آپسی اختلاف و انتشار کو دیکھتے ہوئے اسی کو مضبوط ہتھیار بنایا اور مسلمان کو ہی مسلمان کا سب سے بڑا دشمن ثابت کرکے خود کو دوست و ہمدرد ثابت کرتا ہے ۔

آج کی شوشل میڈیا اپنے حقوق کے لیئے لڑائی کو دہشت گرد و اتنک وادی کا نام دے رہی ہے اور مظلوموں کو چھوڑ کر ظالم کا ساتھ دے رہی ہے ۔انہی یہودیوں کو عرب و فسلطین نے مل کر پناہ دیا تھامگر یہ کب کسی کا احسان مانے ہیں جنہوں نے ان کے وجود کو پناہ دیا انہی کو دوسرے ملکوں سے مل کر اندر سے مٹانا شروع کیا اور دھیرے دھیرے لگ بھگ پورا قبضہ کرلیا۔

آج کوئی شوشل میڈیا کے ایکٹنگ باز اینکر سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے کہ اپنے حققوق کی لڑائی اگر دہشت گرد ہے تو ملک کی آزادی کے لیئے انگریزوں کی جانیں جو ہم نے لی ہے ان کے لیئے ہم نے جو جانیں قربان کی ہیں ان کا کیا نام دیں گے؟ آج اسرائیل کی عورتیں و بچوں کو دیکھ کر یہ اسلام کی دشمن میڈیا ہمدرد بن رہی ہے انسانیت کی تحفظ کی بات کررہی ہے تو جب شروع سے اسرائیل فلسطینی عورتوں و بچوں پہ بے انتہا ظلم و ستم ڈھائے تھے ہزاروں جانیں لی تھی تو یہ ہمدردی کہاں تھی ؟ کیا اسرائیل کی قوم انسان ہیں اور مسلم قوم جانور ہیں ارے اگر آپ کی نظروں میں ہم جانور ہی ہیں تو کم از کم جانوروں کے بھی حقوق ہیں جانوروں پر بھی اتنا ظلم و ستم نہیں کرتے ہیں ۔

آج یہودی اور ان کے ساتھ کھڑی قومیں سوال کرتی ہیں کہ اسلام نے ان کو شروع سے ملک سے در بدر کیا ان کو مارا قتل کیا تو اسلام اور مسلمان اول ظالم ہوئے یہ تو مظلوم تھے تو جواب سنو ! بدلے کی آگ میں اور حکومت کرنے کے نشہ میں اصول بھول جاتے ہیں ۔آج یہ ایکٹنگ باز نیوز اینکر سے کوئی پوچھے کہ ملک کا اگر کوئی ڈیٹا یا کوئی ملک کے اندر کی خبر دشمن ملک کو دے جس سے دشمن ملک کو فائدہ ہو اور ہمارے ملک کو نقصان ہو تو یہ جاسوسی کی سزا کیا ہوگی ؟اسی کو کیا کہیں گے؟کیا دیش دروہی اتنک وادی دہشت گردی نہیں ہے ۔جب کئی قربانیاں دے کر ہم نے آذادی حاصل کیا اور ہمارے ملک کا کوئی برا چاہے کوئی بڑا بگاڑ پیدا کرے تو ہم اسکے ساتھ کیا کریں گے اس کو کیا نام دیں گے ؟ جواب میں جو بھی سزا و نام دیں گے وہی سزا و نام اسلام نے ان کو دیا ہے ۔جب اسلام نے ظلم و ستم و غلامی سے نکال کر لوگوں کو پر امن و شانتی کا معاشرہ دیا ,عدل و انصاف کیا ,ان کے حقوق دیا, غلاموں کو آزاد کیا ,عورتوں کی عزت دی , اور ایک اللہ سے جوڑا اس وقت اگر امن کے معاشرہ میں کوئی بگاڑ پیدا کرے اور اللہ سے توڑ کر اپنے سے جوڑے ,مسلمانوں کے منھ پر دشمنوں کی برائیاں اور جب اپنے ہمنواں کے سامنے ہوتے تو مسلمانوں کی برائیاں ,اندر کے معاملات کو دوسروں کو خبر کرنا ,اور اندر سے رسولﷺ سے ,پر امن قائم ہوئے دین سے بغض رکھنا دل میں نفرت رکھنا اور اس تاک میں رہنا کہ موقعہ ملتے ہیں مٹادیں گے تو ایسے یہود و نصاری کے ساتھ اس وقت مسلمانوں نے جو کیا وہ غلط کیسے ہے؟ اگر پھر بھی وہ غلط تھا ان کے ساتھ ظلم و ستم تھا تو وہی کام آج اگر کوئی ہمارے ملک کے ساتھ کرے تو ہمارا کیا قدم ہوگا ہمارا کیا فیصلہ ہوگا ؟

ہٹلر نے جو یہودیوں کو کچھ زندہ رکھا تھا وہی غلطی تھی وہی باقی زندہ لوگ اپنا ماضی دیکھ کر بدلے کی آگ میں اللہ و رسول و اسلام و مسلمانوں کی دشمنی میں مل کر دوبارہ عروج حاصل کیا اور اپنے عیسائی دشمن کو دوست بنایا اور سب سے پہلی ان کی معاشی سوچ یہ تھی کہ دنیا کو ایسے موڑ پر کھڑا کردو کہ اسکے بغیر گزر بسر کرنا ناممکن ہوجائے اور وہی چیزیں ہم ایجاد کریں گے اس کے مالک ہم رہیں گے باقی دنیا ہماری غلام رہے گی ۔اور یہ چیز انہوں سو سال سے کم میں دنیا کو اپنا غلام بنا کے ثابت کردیا کہ طاقتور بننے کے لیئے بہت بڑی تعداد نہیں چاہیئے بلکہ حوصلہ و جذبہ و سوچ بلند ہونی چاہیئے ۔ ہم دیکھ لیں اس وقت دنیا میں گزر بسر کرنے کے سارے وسائل لگ بھگ سب ان کے ہاتھوں میں ہے اور اپنے سامنے بڑی بڑی ملکی طاقتوں کو زیر کردیا ہے ۔اس وقت عالمی دنیا میں سب سے بڑی طاقت دولت ہے جس کے بدولت سب کچھ حاصل کی جاسکتا ہے۔ اور یہودیت نے اس چیز کو سمجھ گئے تھے اور معیشت میں سب سے آگے نکل کھڑے ہوئے ۔دنیا کی کمزوری کو ,لوگوں کی کمزوری کو انہوں نے سمجھا اور اسی کو انہوں نے سب سے بڑا ہتھیار بنایا ۔دنیا بھر کے لوگوں کو ان ڈائریکٹ مجبور کرکے ان سے اپنی چیزیں استعمال کرائی اور اسی سے دولت حاصل کیا اور اسی دولت سے ہتھیار و بڑی بڑی ٹیکنالوجی سے بنے بم بنائے اور دوسرے ملکوں سے ہتھیار خریدے اور جب جب موقعہ ملا تو مظلوں پر ظلم کیئے اور دنیا کے سامنے خود کو سینہ تان کے اپنے آپ کو طاقتور ثابت کیا ۔تو کیا چودہ ساڑھے چودہ سو سال سے نبیﷺ کی آرہی امت کے اندر وہ حوصلہ, جذبہ,سوچ نہیں ہے یا پیدا نہیں کرسکتے ؟ کیا جو لوگ دشمنی میں اور بدلے کی آگ میں جو کرسکتے ہیں ہم اللہ و رسول و دین کی محبت میں وہ حاصل نہیں کرسکتے ؟ ہم اپنے اسلاف کی قربانیوں کو بھول گئے ؟ کیا ہم میں اب وہ ایمان و غیرت باقی نہیں ہے ؟ کیا ہم ایسے ہی ذلیل و خوار رہیں گے ؟ کیا ہم اپنے آنی والی نسلوں کو آج کی نسلوں کی طرح رکھنا چاہتے ہیں ؟ کیا ہم مرد نہیں ہیں ؟ کیا ہمارے بازوں میں طاقت باقی نہیں ہے ؟ کیا ہم میں دماغ نہیں ہے ؟ کیا ہم میں کچھ ایجاد ,کچھ حاصل کرنے کی صلاحیت نہیں ہے ؟ کیا ایسے ہی ہم آپس میں لڑتے رہیں گے اور دشمنوں کو موقعہ دیتے رہیں گے ؟ کیا ہم اللہ و رسول و قرآن و دوسرے تمام اختلافی ناموں و باتوں کو چھوڑ کر اتفاقی باتوں پر ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے ہیں؟ کیا ہم اللہ کے دین کی سربلندی کے لیئے کچھ بھی نہیں کریں گے؟ کیا ہم اللہ کے مقابل ایسے ہی شیطانی طاقتوں و طاغوتی نظام کے آگے غلام بن کر رہیں گے؟ آج دنیا میں سب لوگ سب کچھ بھول کر اللہ و رسول و دین و مسلمان کی بغاوت میں ایک ہوچکے ہیں ایک صف میں کھڑے ہوچکے ہیں کیا پھر بھی ہم اپنے محدود فرقہ بندی میں خوش رہیں گے ؟ کیا ہم نے اپنے آنے والی نسلوں کے لیئے کچھ خیر چھوڑا ہے کیونکہ یہ دور میں بغاوت , ظلم و ستم و قتل تو کچھ نہیں جب آنے والے دور میں کفر و شرک مجبورا کروایا جائے گا بلکہ دنیا ننگی ہوجائے گی تو اس وقت ہم اپنی نسلوں کے امن کے لیئے کچھ شروعات کیئے ہیں ؟ دنیا کی درندگی ہمیں بہت کچھ سبق دے رہی ہے ان کے ظلم و جبر و بربریت ہمیں جگا رہی ہے مگر ہم غفلت کی نیند سو رہے ہیں مسلمانوں اس آواز کو ابھی سمجھ گئے تو بہت کچھ حاصل کرسکتے ہو اور دنیا کو ایک پر امن و انصاف والا ملک ,شہر ,معاشرہ دے سکتے ہیں اور اسکے لیئے ہمیں کسی سے جنگ وجدال نہیں کرنا ہے بلکہ ہمیں اپنے اخلاقی اقدام پر کام کرنا ہے,تعلیمی نظام پر کام کرنا ہے, ٹیکنا لوجی پر کام کرنا ہے, معاشی سسٹم پر کام کرنا ہے,قرآن کے احکامات و اصول کو اپنے اوپر نافذ کرنا ہے ,سوچ کو بدلبا ہے, اتفاق و اتحاد پر قائم رہنا ہے اختلاف و انتشار کو چھوڑنا ہے , زمانہ الگ رنگ لے چکا ہے زمانہ الگ موڑ پہ جاچکا ہے اگر ہم نے اللہ کے رنگ میں اپنے آپ کو ,بچوں کو ,نوجوانوں کو اللہ کا رنگ نہیں چڑھایا تو دنیا کی ظالمانہ طاقتیں ,طاغوتی رنگ چڑھ جائے گا اگر پھر بھی ہم اپنی اپنی دنیا میں مست و مگن ہیں تو انتظار کرو ابھی کم مٹیں ہیں جب دنیا کی ظالم طاقتیں مل کر ہم پر حملہ آور ہونگی تو پناہ لینے کے لیئے زمین بھی کم پڑ جائے گی۔ اللہ کے واسطے ہوش میں آئیں اپنے اوپر اپنی نسلوں پر سب سے زیادہ کام کریں اور یہ نہ بھولیں اللہ بیشک ہمارے ساتھ ہے ہماری سب سے اول اور سب سے بڑی طاقت اللہ ہی ہے ۔جس کے آگے ساری دنیا کی طاقتیں بھی آجائیں تو اللہ کو کُن کہنے کی ضرورت ہے اللہ ہر شئی پر قادر ہے اسکے حکم سے بغیر ستون کے آسمان کھڑا ہے, پانی پر زمین اور زمین پر انسان کو وجود بخشا ہے,اسکے حکم سے نہ نظر آنے والی ہوا چل رہی ہے ,اسکے حکم سے پانی سے انسان وجود میں آتا ہے وہ کچھ بھی کرسکتا ہے اور اس نے ماضی میں اپنے ماننے والوں کے لیئے سہارا بن کر قیامت تک لیئے یہ بتا دیا ہے کہ جب ہمارا کوئی ہوجاتا ہے ہمارے لیئے جان مال وقت کی قربانی دیتا ہے جب دنیا کے سامنے مجھے ترجیح دیتا تو جب میں بندے کا ہوجاتا ہوں تو اے میرے بندوں تمہیں کوئی دشمن سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔اسی لیئے اللہ نے نوحؑ کا,ابراہیم ؑ کا,موسیؑ کا ,یوسفؑ کا ,یونسؑ کا,عیسیؑ,ذکریاؑ کا ,نبیﷺ کا اور اولین مومنین کے ساتھ جو غیبی مدد تھی اسکو قرآن میں رہتی دنیا تک لیئے بتادیا کہ میں حقیقی مددگار ہوں کبھی اس نے موسیؑ کے سمندر میں راستے بنا دیئے ,کبھی ابراہیمؑ کے لیئے آگ کو ٹھنڈی و سلامتی کا باعث بنا دیا,کبھی ایک ہزار فرشتوں کا لشکر بھیج کر اپنے بندوں کی مدد کیا ,کبھی ابابیل کے ذریعے سے مدد کیا ,کبھی مومنوں کی طاقت بن کر دشمن کو ختم کیا, اللہ کے سامنے کس کی طاقت ہے جو مقابلہ کرسکے تو جو کائنات میں سب سے طاقتور ہے اس کے اگر ہم ہوگئے جیسا اسکو پسند ہے جیسا اللہ کے ہونے کا حق ہے تو جب اللہ ہمارا ہوگا اللہ ہماری مدد کرنے پہ آئے گا تو سب ظالم پل بھر میں ختم ہوجائیں گے بس ہم حقیقی اللہ کے ہوجائیں تو اللہ بھی ہمارا ہوجائے گا ان شاء اللہ ۔اے اللہ اگر ظالم ہدایت کے مستحق ہیں تو ان کو ہدایت دے ورنہ انہیں نست و نابود کرکے مومنین کو دل کو ٹھنڈک پہنچا ,اے اللہ مظلوموں کی مدد فرما ,اے اللہ آج ساری دنیا مل کر ہمیں ختم کرنے کے در پہ ہے اے اللہ ان کے مقابل میں تو ہمارا سہارا بن جا ,اے اللہ مسلمانوں کی مدد فرما,اے اللہ جو اس دنیا سے جاچکے ہیں ان کی مغفرت فرما ,اے اللہ ہمارے اندر اتفاق و اتحاد پیدا کردے ,اے اللہ شیطان و ظالموں سے ہماری حفاظت فرما ,اے اللہ ہمیں اپنے خالص دین اسلام پر عمل کرنے کی ,اسکی دعوت دینے کی ,اس پر قناعت کرنے کی توفیق دے ۔آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے