اعداد: محمد وسیم راعین
فلسطین کی سرزمین بابرکت سرزمین ہے ۔یہ وہ سرزمین ہے جہاں روئے زمین کی تعمیر کے اعتبار سے دوسری مسجد موجود ہے اس سرزمین پہ قائم وہ مسجد ہے جہاں عبادت کے لئے سفر کرنا درست اور جائز ہے ۔ یہ وہ سرزمین ہے جس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسراء ومعراج کا واقعہ مربوط ہے ۔اسی سرزمین میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات أنبیاء کرام علیہم السلام کی امامت کروائی ۔ یہ سرزمین انبیاء کرام علیہم السلام کی سرزمین ہے جس سے ہر مسلمان کے دل میں ایک محبت ہے ۔
۱۹۴۷ عیسوی سے یہودیوں کو منظم انداز میں یہاں آباد کیا جانے لگا اور رفتہ رفتہ مسلمانوں پہ زیادتی ہوئی نتیجہ میں مختلف جنگیں ہوئیں لیکن اس میں کامیابی نہ مل سکی اور اس مسئلہ کا حل جنگ کے ذریعے ممکن نہیں ہو سکا اسی لئے اس کا متبادل سیاسی حل کے لئے أمن وأمان کا راستہ اختیار کرتے ہوئے دو ریاستی اجنڈے پہ کام کیا جانے لگا اور اس میں بڑی حد کامیابی ملتی ہوئی نظر آئی لیکن ۷ اکتوبر ۲۰۲۳ کو حماس کی طرف سے حملہ کیا جاتا ہے نتیجہ میں جوابی کاروائی ہوتی ہے اور ظلم و زیادتی کی تمام حدیں پار کی جا رہی ہیں جس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک رپورٹ کے مطابق ۳۵ہزار ٹن بم گرایا گیا ہے ۔حالیہ حماس کی ناعاقبت اندیشی پر مبنی کاروائی کی بنیاد پہ ۷/ اکتوبر سے جو مسلسل تباہی و بربادی کا کھیل جاری ہے جس کے نتیجہ میں ہزاروں معصوم شہریوں، بچوں اور عورتوں کی خون سے ہولی کھیلی جا رہی ہے ‘ شہداء کی تعداد ہزاروں میں ہے ۔مرنے والوں میں بچے اور عورتوں کی تعداد زیادہ ہے، ہزاروں کی تعداد میں لوگ زخمی ہیں۔ بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں پینے کے لئے صاف پانی نہیں ہے ،غزہ کو نيست و بابود کیا جا رہا ہے، شوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے موصول تصویر اور ویڈیو سے تباہی کامنظر جو دیکھنے میں آیا ہے وہ دل دہلانے والا ہے ۔
جب سے یہودیوں کو سرزمین فلسطین میں منظم طریقے سے بسانے کا کام کیا گیا اور اصلی باشندوں پہ زیادتی ہونے لگی اسی وقت سے سعودی حکومت نے اس قضیہ کو خاص اہمیت دی ہے ہر ناحیہ سے چاہے مادی ہوکہ معنوی،سیاسی ہو کہ اخلاقی تمام ہی قسم کے تعاون کے ساتھ ساتھ سعودی عرب نے فلسطینی مسلمانوں کا جس قدر مادی تعاون کیا ہے اور کررہی ہے ، اس کی بایک لمبی تاریخ ہے ۔
مؤسس طیب اللہ ثراہ سے لے کر خادم حرمین شریفین ملک سلمان حفظہ اللہ وایدہ تک تمام ہی بادشاہوں نے فلسطینی قضیہ کو دينی واخلاقی ذمہ داری سمجھا ہے اور اس معاملہ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے ۔جب اور جس پلیٹ فارم سے اس قضیہ کی تائید اور کوشش کی بات ہوتی ہے کرتےہیں اور اس قضیہ کے تئیں اپنے اہتمام کو مختلف پلیٹ فارم سے واضح کرتے ہیں اور اس قسم کی بات کہتے رہتے ہیں :”قضیہ فلسطین آج بھی ہمارا سب سے اہم قضیہ ہےاور ہم اس وقت تک اس قضیہ کو اہمیت دیتے رہیں گے جب تک کہ فلسطینیوں کو ان کے غصب کیے ہوئے حقوق نہیں لوٹا ئے جاتے، ان کی ایک مستقل حکومت قائم نہیں ہوجاتی، جس کی راجدھانی مشرقی قدس ہوگی“۔
حالیہ جنگ کی حالت میں بھی مختلف ناحیہ سے سعودی عرب کا کردار واضح ہے ۔ حملہ کے ابتدائی دنوں میں سعودی وزیر خارجہ نے پانچ گھنٹہ کے اندر ۱۰ ممالک کے وزراء سے اس مسئلہ میں گفتگو کی اور غزہ پہ ہو رہے مظالم کو روکنے میں اپنا کردار ادا کرنے کی توجہ دلائی ۔
۱۳ اکتوبر کو وزارہ خارجیہ سے شائع شدہ بیان میں اس بات پہ زور دیا گیا ہے کہ شہریوں پہ ہو رہے فوجی کاروائی کو جلد روکا جائے،ضروری ریلیف کی فراہمی پہ فوری توجہ دی جائے، ورنہ یہ انٹرنیشنل انسانی قانون کی خلاف ورزی ہوگی اور اس لئے بھی کہ کوئی بڑی مصیبت نہ پیدا ہوجائے ۔ ساتھ ہی ساتھ اس بات پہ زور دیا گیا ہے کہ غزہ سے حصار اٹھایا جائے اور مصیبت زدہ کو وہاں سے نکلنے دیا جائے۔ ساتھ ہی امم متحدہ کے مجلس ِ أمن کے قانون کے مطابق اور عرب کے سلامتی پہل کے اعتبار سے عدل وانصاف کے ساتھ فلسطینی حکومت کے قیام کی فوری کوشش کی جائے جس کا صدر مقام مشرقی قد س ہوگا "۔
۱۵ اکتوبر ولی عہد شہزادہ محمدبن سلمان حفظہ اللہ جب امریکہ میں تھے انہوں نے وہاں وزیر خارجہ سے ملاقات کی اور ملاقات شروع ہوتے ہی اس مسئلہ پہ زور دیا کہ فورا جنگی کاروائی بند کیا جائے اور غزہ کے محاصرہ کو ختم کیا جائے جس کا نتیجہ ہوا کہ فورا ضروری سہولتوں کی فراہمی عمل آئی ۔
اسی طرح ۱۸ اکتوبر کو مملکت سعودی عرب کی دعوت پہ تنظیم برائے اسلامی تعاون کے مجلس تنفیذی کی استثنائی بیٹھک بلائی گئی اور غزہ پہ ہو رہے حملہ اور اسرائیل کی جانب سے ہو رہی مختلف قسم کی انٹرنیشنل قوانین کی مخالفت کی مذمت کی گئی اور اپنے موقف انٹر نیشل برادری کے سامنے ظاہر کیا گیا۔
اسی طرح ۲۷ اکتوبر کو امریکہ کو اسرائیل کی جانب سے ہو رہے حملہ کی خطرناکی کے سلسلہ میں تنبیہ کی گئی اور ہرقسم کے تشدد سے باز رہنے کی تاکید کی گئی ۔
سیاسی تعاون کے ساتھ مالی تعاون میں بھی سعودی عرب سب سے آگئے ہےلہذابروز جمعرات ۲ نومبر 23 کو خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود أیدہ اللہ اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان آل سعود حفظہ اللہ نے غزہ میں متأثرین کی امداد کی خاطر عوامی عطیات جمع کرنے کے لئے مہم چلانے حکم صادر فرمایا اور آگے بڑھ کر خادم حرمین شریفین ملک سلمان بن عبدالعزیز حفظہ اللہ نے ۳۰ ملین سعودی ریال اور ولی عہد نے ۲۰ ملین سعودی ریال عطیہ کا اعلان کیا ۔
شاہی فرمان کے مطابق مذہبی امور کے سربراہ وزیر دکتور عبداللطیف بن عبدالعزیز حفظہ اللہ نے خطباء کو یہ پیغام دیا کہ ۳ نومبر ۲۰۲۳ کا خطبہ غزہ کے مسلمانوں کی امداد کی خاطر خاص کیا جائے اور انہیں اپنے مسلمان بھائیوں کے دکھ ودرد میں شریک ہونےکے لئے بڑھ چڑھ کر "ساھم ” فلیٹ فارم کے ذریعے عطیات جمع کرنے میں منافست پہ ابھار اجائے ۔
الحمد للہ سعودی عوام نے اپنے فرماں رواؤوں کی ندا پہ لبیک کہا اور عطیات اکٹھا کرنے میں خوب حصہ لیا اور بہت ہی مختصر مدت میں خطیر رقم جمع کروا دیا ۔
تا دم تحریر 569225 افراد نے 403211251 ریال جمع کروا دیا ہے ۔
اللہ تعالی خادم حرمین شریفین اور سعودی عوام کی خدمات کو قبول کرے اور انہیں بہتر سے بہتر بدلے اور فلسطینیوں کی غیب سے مدد فرمائے۔آمین ۔
