ابو احمد مہراج گنج
دیوبند کے شیخ الہند ہال میں منعقد ہونے والے مشاعرے کی ایک ویڈیو کلپ کیا وائرل ہوئی، ملک و بیرون ملک کے انٹلکچول کے درمیان ایک ہنگامہ برپا ہوگیا ۔ کچھ نے سیدھے طور سے تو کچھ نے واسطہ در واسطہ دارالعلوم دیوبند کو بھی نشانہ بنایا ۔ ادھر دارالعلوم دیوبند کے مہتمم صاحب کا وضاحتی بیان بھی آگیا ہے کہ شناخت کے بعد ان شریک مشاعرہ کا اخراج کردیا جائے گا ۔ ہم مہتمم صاحب کے اس فیصلے کو سپورٹ کرتے ہیں اور ان کے اس قدم کی خوب خوب تحسین کرتے ہیں۔ اور ہونا بھی یہی چاہئے کہ اپنے وقار اور معیار کا پاس و لحاظ نہ رکھنے والوں کو دارالعلوم دیوبند سے باہر کا راستہ دکھا دیاجائے۔
ایک ہمارا زمانہ تھا دیوبند میں مشاعرے کی محفلیں تب بھی جمتی تھیں لیکن اس زمانے کے طلباء اتنے زیرک ہوتے تھے کہ وہ دیوبند کے کسی مشاعرے میں جاتے ہی نہیں تھے ۔ بلکہ اپنے ذوق شعر و سخن اور لذت دید حسن کی تسکین کے لیے سہارنپور، مظفرنگر ، میرٹھ کے میلوں کے مشاعرے میں حاضری لگا لیتے تھے۔ کیونکہ اس زمانے میں بھی دیوی میلہ اور اس میں ہونے والے مشاعرے میں شرکت کرنے پر پابندی عائد تھی اور جو بدقسمت پکڑے جاتے تھے ان کا اخراج یقینی ہوجاتا تھا ۔ یہ الگ بات کہ وہ طلباء بھی نہایت ذہین ترین ہوتے تھے اور آئندہ سال داخلہ امتحان پاس کرکے پھر سے دارالعلوم دیوبند میں داخل ہوجاتے تھے۔
ادھر کچھ سالوں میں دارالعلوم دیوبند کے داخلہ امتحان کا پیٹرن بدل گیا ہے۔ اب جن بدقسمت لوگوں کا اخراج ہوگا ممکن نہیں کہ وہ دوبارہ سے داخلہ لےسکیں۔
میرے خیال میں دارالعلوم کا طالب علم رہتے ہوئے مشاعروں میں شرکت کوئی بری بات نہیں ہے۔ لیکن شرکت کے ساتھ ساتھ اپنی شرافت اور عزت نفس کو مجروح کردینا، اپنے وقار کو ٹھیس پہنچانے والی حرکت کرنا، اپنے مقام اور معیار کو طاق پر رکھ کر کسی شاعرہ (رقاصہ) کے ارد گرد طوائف خانوں کے شہداء کی طرح حرکتیں کرنا، اچھل کود کرکے داد وتحسین دینا بالکل بھی قابل اعتناء نہیں ہے، ایسے لوگوں کا اخراج تو ہونا ہی چاہیے۔
اس لئے بھی یہ مجرم ہیں کہ زمانے کی ایجادات اور اس کی طاقت سے بھی یہ نابلد ہیں۔ اگران کو معلوم تھا کہ ویڈیوز بن رہے ہیں تو عقل ودانش کا تقاضہ تو یہی تھا کہ یہ من چلے وہاں سے چلے جاتے، اگر دیدار حسن اتنا ہی ناگزیر اور حد برداشت سے باہر تھا توغالب کے اس شعر
گو ہاتھ میں جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے
رہنے دو ابھی ساغر و مینا میرے آگے
کا مصداق بن کرہاتھوں کے جنبش کے بجاۓ آنکھوں سےدیدار حسن کے ساتھ شیریں لبوں کے مخملی آواز سے کانوں کو سکون دلا سکتے تھے۔ اور سامنے موجود مینا کو آنکھوں کے پیالوں سے بھی دل میں اتار سکتے تھے، مگر ایسا نہیں ہوا۔
حسن مجسم کی تاب ان نو واردان مجلس عشق ومحبت کے کنٹرول سے باہر نکل گیا اور یہ پروانے ویڈیو ریکارڈنگ، شیخ الہند ہال کے تقدس اور دارالعلوم دیوبند میں قیام کو بھول کر شیریں لبوں کے چھلکتے جام اور آنکھوں کے مدہوش کن انداز سے مست ہوکر شمع محفل پر اپنا مستقبل نثار کر بیٹھے۔
جب مخمور نگاہوں سے پلانے گیے جام کا نشہ اترا ہوگا تو ہوش میں آکر سوچ رہے ہوں گے کہ
سب کچھ لٹاکے ہوش میں آئے تو کیا کیا
دن میں اگر چراغ جلانے تو کیا کیا
اگر کہوں تو عنفوان شباب کا زمانہ ہی کچھ ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کچھ کوکچھ سمجھنے میں مست رہتا ہے، اوپر سے دارالعلوم دیوبند کا آزادانہ ماحول تو اس عمر میں مزید شوخی مزاج پیدا کر دیتا ہے۔ نوجوانوں کو پتا ہی نہیں رہتا ہے کہ کہاں جانا ہے اور کہاں سے بچ کے نکل جاناہے۔ بقول وسیم بریلوی صاحب
نئی عمروں کی خود مختاریوں کو کون سمجھائے
کہاں سے بچ کے چلنا ہے کہاں جانا ضروری ہے
لیکن ان سب کے باوجود ان طلباء کا اخراج ہونا ہی چاہیے تاکہ موجودہ اورمستقبل کے طلباء کو ایک مثالی پیغامِ پہنچ سکے کہ اصولوں پر اگر آنچ آۓ گی تو دارالعلوم دیوبند کے دروازے ان کے لئے بلا تامل بند ملیں گے۔
