محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،  کرناٹک۔
موبائل :9141815923 
۱۔ روشن طبق 
پوچھا گیا تھا کہ غلامی کیاہے ؟ جواب ملا ، غلامی ایک سیاسی اور معاشرتی نشہ ہے۔کبھی کبھی سیاسی اور معاشرتی غلامی کے ساتھ مذہبی غلامی کو بھیچہل قدمی کرتے دیکھاگیاہے۔احتجاج بلند کرتے ہوئے کہاگیاکہ مذہبی غلامی جیسی کوئی چیزدنیامیں نہیں ہے۔
نجیب ہنس پڑااور سائل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس نے کہا’’مذہبی غلامی اطاعت کے نام سے تمام مذاہب میں جاری وساری ہے لیکن اطاعت کی بات ہمیں تسلیم ہے مگر اطاعت کے نام پرانسانی غلامی دراصل اوپروالے کی نہیں بلکہ اپنے جیسے انسانوں ہی کی غلامی کہلائے گی ‘‘
وہ اور بھی بہت کچھ کہے جارہاتھالیکن کانوں میں سیٹیاں بج رہی تھیں اور آنکھوں تلے اندھیراچھایاہواتھا۔ جب کہ ساتھ ہی ساتھ کچھ معاملات بے نقاب بھی ہورہے تھے۔ایسا لگ رہاتھاجیسے چودہ طبق روشن ہوگئے ہوں ۔
۲۔ مائی باپ
وہ ایک نیک نام آدمی تھالیکن سیاسی بیروزگاری نے اسے کہیں کانہ رکھا۔اس کی پارٹی نے فسطائیت پسند پارٹی سے مصالحت کرلی تھی اور وہ سیاسی لحاظ سے پوری طرح یتیم بن کر سڑک پرآگیاتھا۔ کسی ظالم نے اس کو مشورہ دے ڈالاکہ ’’مشاعروں کے کاروبار‘‘ میں قدم رکھو، مالامال ہوجاؤگے ۔ اس کے لئے ’’مشاعروں کاکاروبار‘‘ نیانیاتھا۔ وہ ڈر رہاتھا لیکن اسے یقین دلایاگیاکہ سامنے پارلیمانی انتخابات ہیں بلکہ سال بھرملک کی کسی نہ کسی ریاست میںانتخابات اور مشاعرے ایک ساتھ ہوتے رہتے ہیں۔اگر تم اس لائن پر بحیثیت منتظم مشاعرہ اپناسفر جاری رکھوگے تو ایک مشاعرے سے کم سے کم ایک لاکھ اور زیادہ سے زیادہ 5-7لاکھ روپئے کماسکتے ہو۔ تعلقات کی چاشنی بھی ساتھ میں چلتی اور تمہیں کہیں نہ کہیں چمٹاتی اورتمہارے ضرورت نما حلق کو بھی بھگوتی رہے گی ۔
اور اگر سیاست دانوں، ایم پی ، ایم ایل اے اور وزراء کومشاعروں میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے مدعو کروگے تو اپنی ریاست سے نکل کر دیگرریاستوں تک تمہارا سیاسی دم قدم نظر آئے گااور یوںبھی ملک کی سب سے بڑی پارٹی نے ایک کوی ہی کو مینارٹی شعبہ کاصدر بنا رکھا ہے۔
اس کو مزید سمجھایاگیاکہ اگر سوشیل میڈیا جیسے مفت پلیٹ فارم پرتھوڑی سی رقم دے کروقفہ وقفہ سے اپنی پبلسٹی کرلی جائے تو تم بہت آگے جاسکتے ہوکیوں کہ سیاست کے شہرت پسند جراثیم بھی تمہارے اندرکہیں نہ کہیں زندہ ہیں حالانکہ تم ایک نیک آدمی ہو۔ اس طرح تم کل کو کسی بھی پارٹی سے راجیہ سبھا ایم پی بنائے جا سکتے ہو۔
بس پھر کیاتھا، کارگر ہوگیاسمجھانا اور وہ نیک نام شخص آج ’’شہر شہر مشاعرہ‘‘ مہم میں لگ چکاہے۔ سناہے کہ اب تک ا سکو دولت تو نہیں ملی ہے لیکن شہرت اس کے قدموں کی دھول ہے اور شاعر وںکے علاوہ کوی لوگ بھی اُس کو اپنا ’مائی باپ‘ مانتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے