صدف جمال محمود آباد، بارہ بنکی
اُس کے ماتھے پر چھوٹی چھوٹی پسینے کی بوندیں نمایاں تھیں، خوف سے چہرا ذرد تھا ، بے چینی ایسی کہ کبھی اُٹھتا، باہر چلا جاتا ،توکبھی آکر ماں کے پہلو میں بیٹھ جاتا اور دوپٹے کے آنچل کو انگلیوں میں پھنسا لیتا، لیکن اس بار اُٹھ کر گیا تو واپس نہیں آیا۔دوپہر کی جگہ شام کی سرخی نے لی تو گھر والوں نے ڈھونڈنا شروع کیا ۔صبح کا سورج طلوع ہوگیا پر وہ نا ملا۔ قریب گیارہ بجے ندی کنارے سترہ سالہ لڑکے کی لاش ملنے کی خبر پولس محکمے کی طرف سے موصول ہوئی۔ ماں نے سرگوشی کی” نہیں وہ میرا بیٹا نہیں ہو سکتا ۔“
من بھر بھاری پاوں کے ساتھ پینتالیس سالہ شخص شناخت کے لیے پہنچا، لرزتے ہاتھوں سے اس نے لاش کو پلٹ کر دیکھا تو سر پر آسمان ٹوٹ پڑا، حسرتوں کے بوجھ تلے دبے باپ کی آنکھیں پتھرا گئیں،گھر میں خوشیوں کی جگہ ماتم نے لے لی۔
تین دن بعد کچھ ڈھونڈتے وقت الماری سے کتابیں اور دیگر سامان گر پڑا، باپ نے جھک کر بیچ سے کھلی ڈائری اٹھائی تو قرب سے آنکھیں بند کر لیں۔ یہ ایک اکلوتے بیٹے کا اپنے والدین کے نام آخری پیغام تھا جس کی سطریں رومن رسم الخط میں اور زبان اردو تھی ۔
”ڈیئر موم اینڈ ڈیڈ !
آج پورے ایک ماہ کے بعد بارہویں جماعت کے نتائج آگئے۔اور ہر بار کی طرح اس بار بھی میں آپکی توقعات پر پورا نا اُتر سکا،میں آپ دونوں کا سر فخر سے بلند نا کر سکا ۔آپ سچ کہتے ہیں میں کچھ نہیں کر سکتا، کچھ بھی نہیں ہو سکے تو آپ دونوں مجھے معاف کر دیجئے گا ۔“
آپکا لوزر بیٹا
ارمان
