محمدیوسف رحیم بیدری ، بیدر، کرناٹک۔
موبائل :9141815923 
۱۔ وہ لڑکی 
یوٹیوب پر کوئی نئی لیکن قدرے موٹی لڑکی آئی ہوئی تھی۔گالیوں کے ذریعہ اپنے فن کامظاہرہ کررہی تھی۔ ویرفنی ویڈیو کلپ وہ بناتی جارہی ہے۔ میں گذشتہ ایک ہفتہ سے اس کے ویڈیو کلپ دیکھ رہاتھا ۔ ساتھ ہی یہ بھی محسو س کررہاہوں کہ لوگ اس لڑکی سے جلنے لگے ہیں ۔ کہتے ہیں ’’یارجب سے تم اس گندی لڑکی کے ویڈیو دیکھ رہے ہو، تم گالیاں بہت دینے لگے ہو‘‘ میں انہیں سمجھارہاہوں کہ ویڈیو کلپ میں بریانی اگر بٹ رہی ہوتو کیادیکھنے والے کو بھی بریانی ملے گی ، نہیں نا۔۔۔۔؟لوگ خواہ مخواہ کچھ بھی سوچ لیتے ہیں اور کوئی بھی الزام لگادیتے ہیں‘‘
یہ دراصل ۔۔۔۔۔۔۔  اور بھڑوے لوگ ہیں ، کسی بھی لڑکی کومیرے ساتھ برداشت نہیں کرسکتے۔ چاہے وہ لڑکی ویڈیوکلپ بنانے والی فنکارہ ہی کیوں نہ ہو۔
۲۔ معقول بات
’’کیاایسانہیں ہوسکتاکہ ماہ ِنومبر میں جس قدر اردو کے پروگرام ہوتے ہیں، ویسے ہی پروگرام سال بھر چلتے رہیں ؟‘‘ اس کے سوال میں کوئی عیب نہیں تھا۔ البتہ ایک گہراتعلق اردو سے نظر آرہاتھا۔ میں نے جواب دیتے ہوئے کہاکہ ’’سال بھر اردو سے متعلق پروگرام چلتے رہنے چاہیے لیکن اس کے لئے اردو سے محبت کرنے والے اہل خیر اور مخیر حضرات کو آگے آنا ہوگاورنہ یہی ہوگاکہ سال بھر میں ایک دوپروگرام کرلئے اور اردو بچنے کی امید رکھ لی ‘‘
وہ کچھ اور بھی جاننا چاہتاتھا۔ میں نے کہا’’نئی نسل جب تک ہمارے ساتھ نہیں ہوگی ، ہم اردو زبان کے بہترمستقبل کی امیدنہیں کرسکیں گے ــ‘‘
اس نے کچھ توقف کے بعد کرب سے کہا’’نئی نسل کو چھوڑئیے صاحب ، اب تو پرانی نسل ہردن اپنی تہنیت میں لگی ہوئی ہے۔ کیاایسے میں اردو کی ترقی خاک ہوگی ‘‘ وہ بات تو معقول کررہاتھا۔
۳۔ کالے سچ کا دُکھ 
سارا شہر روشنیوں سے جگ مگ جگ مگ کررہاتھا۔اس نے شہر کی روشنیوں کو سلیوٹ کیا۔ اسے پتہ تھاکہ جگ مگ جگ مگ کرتے اس شہر کی پشت کی جانب اندھیرا ہے ، گہرااندھیرا ، جہاں ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا۔ آواز بھی وہاں بدل جاتی ہے۔ چلنے پھرنے کے انداز اور حرکات میں بھی جنگلی سوروں جیسی وحشت شامل ہوتی ہے۔
وہ اس عذاب ناک وحشت سے دور رات کو سکون کی نیند سولیتاہے اور صبح اٹھ کر اپنے پیداکرنے والے کاشکریہ اداکرتاہے کہ گہرے اندھیرے کے کالے سچ کادُکھ اس کو عطا نہیں کیاگیا۔اور کیا چاہیے؟
۴۔ ایک وہ ہی نہیں۔۔۔ 
وہ اچھی عورت نہیں تھی۔ لیکن بنگال سے لے کر ٹمل ناڈوتک کے مشاعروں اور کوی سمیلنوں میں چھائی ہوئی تھی۔ اس پر سب کو حیرت تھی۔ میں سوچ رہاتھاکہ بنگال سے ٹمل ناڈوتک اس کو اپنی ڈیمانڈ پر کوئی حیرت نہیں ہورہی ہوگی ۔صرف اتناہی سوچتی ہوگی کہ میں اکیلی بری نہیں ہوں ،پروانے ہزاروں ہیں۔اسی لئے تو میری اوران کی جم جاتی ہے۔ورنہ اس دنیا میں کون کس کاساتھ دیتاہے۔
۵۔ لسانی ظلم 
انھوں نے احتجاج کرتے ہوئے نعرہ لگایا تھا’’ ہم اپنی زبان کے بغیر جی نہیں سکتے ‘‘وہ فوری طورپربڑے پیمانے پر گرفتار کرلئے گئے اور ان کی زبان گدی سے کھینچ لی گئی۔
۶۔ اعزازی ڈاکٹر یٹ
اس تاریخی شہر میں 32افراد کو ایک ہی دن اور ایک ہی تقریب میں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری عطاکی گئی۔اجوکباڑئے کو معلوم ہوچکاتھاکہ ایساکچھ ہونے والا ہے تووہ بھی پورے اہتمام کے ساتھ تین ستارہ ہوٹل پہنچاتھا۔ پتہ نہیں کیاکچھ اس نے جگاڑ کیاکہ شام تک اس کو بھی اسی تقریب میں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری باقی 31افراد کے ساتھ عطاکی گئی۔وہ منہ کھول کرمسرت کااظہارکرنے لگا لیکن
اس اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری لینے والے اجو کباڑئے کی زبان منہ سے باہر نکل کر لٹکی جارہی تھی اور وہ ہانپنے پربھی مجبورتھا
۷۔ اردو زبان کے لئے
دوستوں نے مشورہ دِیا’’مشاعروں اوراردو زبان کے پروگراموں پر خدارا تنقید نہ ہو۔جیسے بھی پروگرام ہوں ۔ چاہے تعصب کے ساتھ اردو پروگرام کیاجارہاہو، پریوارواد چل رہاہویاتجھ کو مدعو نہیں کیاگیاہویاتیری ساتھی شاعرہ خواتین کوتجھ سے توڑ کر اپنامنڈوا لوگ ڈال رہے ہوں ، یہ سب چیزیں قبول کرلیاکر، کٹ حجتی مت کرنا‘‘
میں نے پوچھا’’وہ کیوں؟‘‘بولے کہ ’’اردو زبان اور اردو تہذیب کے لئے کام کرنے والااب کوئی نہیں ہے۔ جولوگ اردو کے لئے کچھ کررہے ہوں، ان کے دم قدم کوغنیمت سمجھاجائے ۔ چاہے جیسا کریں ‘‘
وہ دِن ہے اور آج کادِن ، میں کسی بھی متشاعر؍متشاعرہ کو شاعر اور شاعرہ ہی کہتاہوں ۔ اور ہندی کوی تومیرے لئے سگے بھائی سے بڑھ کرہیں، میں انھیں بھی کوی کے بجائے شاعر ہی کہتاہوں کہ ان کااصر ار ہوتاہے انہیں شاعر کہاجائے۔ اوریہ بھی سچ ہے کہ بقول معروف ناظم مشاعرہ میں ایک استاد شاعر ہوں ، معروف شاعرنہیں ، معروف شاعر ہوتاتو مشاعروں کے ذریعہ پیسہ کمارہاہوتا،عیش کے دیگر ذرائع پر متمکن ہوجاتا۔ان سب چیزوںسے میں دور ہوں ،۔۔۔۔۔۔۔ تویہ سب ٹھیک ہی ہورہاہے نادوستو، اب میں کسی کو کچھ نہیں کہتاہوں ، کیوں کہ ہم سب کو اردوزبان کے لئے کام کرناہے آپ کی اجازت سے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے