محمدیوسف رحیم بیدری ، بیدر، کرناٹک۔
موبائل :9141815923
۱۔ دوائی کی عادت
صبح ناشتہ کے بعد ایک عدد گولی لینے کی عادت سی ہوگئی ہے۔ اگر صبح دوائی نہ لوتو دن بھر خیال رہتاہے کہ کہیں کوئی حادثہ نہ ہوجائے اور میں قصہ ٔ پارینہ نہ بن جاؤں ۔
نصف صدی گزارچکے بزرگوں سے پوچھناتھاکہ آپ کے روزانہ صبح کے کیااحوال ہیں ؟ کیادوائی کے بغیر آپ رہ رہے ہیں؟ اگر ہاں تو شکر مانیں پروردگار کاکہ آپ کی قسمت میری جیسی قسمت سے باندھ نہیں دی گئی۔ ورنہ آپ بھی روزانہ یہی کرتے اور یہی کچھ سوچتے جو میں سوچتارہتاہوں۔کیامیراایساسوچنا غلط ہے ؟
۲۔ آسان راستے کی اور
’’ہمیشہ خود کو افسانچوں کاہیروبناکر پیش کرتے ہوئے آخر دنیا کوکیاپیغام دینا چاہتے ہو؟‘‘اس نے بے حد غصہ میں پوچھ لیا۔جو اب ملا’’ پیغام یہی ہے کہ افسانچوں میں ہیرو؍ہیروئن کانام کسی سے مماثلت کر جائے تو تمہارایہ معاشرہ پوری کہانی اسی سے منسوب کردیتاہے، اس کے بعد میرے لئے مسائل کھڑے ہورہے تھے۔مجھے راست اور بالراست دھمکیاں مل رہی تھیں لہٰذا میں نے سوچا ،اپنے افسانچوں میں خودکو ہیرو؍یاپھر ولن رکھنا بہتر رہے گا۔ چاہے افسانچہ کی کہانی جھوٹ پر مبنی ہی کیوں نہ لگے ‘‘
اس کاغصہ کم ہوگیا ۔ اس نے تعجب سے پوچھا’’قسمت میں قلم رکھ کر بھی معاشرے سے ڈرتے ہو؟‘‘
افسانچہ نگار نے جواب دیا’’ڈرتا تو صرف اوپر والے سے ہوں لیکن مخلوق کی دلجوئی سے خداتک پہنچنے کاراستہ آسان بھی ہوجاتاہے نا‘‘پھر وہاں خاموشی چھاگئی۔
۳۔ دم لینا
اچانک ڈھیر سارے مسائل میں گھرجانے والا شخص رب کو یاد کرکے روپڑا۔ تو وہاں موجود شیطان اس کے قریب سے بھاگ کھڑا ہوا۔ شیطان کووہ شخص روتاہوانہیں بلکہ ابلیس لعین پر ہنستاہواایک کریہہ صورت انسان محسوس ہوا۔ شیطان اس کی طرف دیکھنے سے بھی گھبرا کراس کی مخالف سمت میں بھاگے جارہاتھاتاکہ اس شخص سے دورکہیں جاکردم لے سکے۔
۴۔ ناکام بارشیں
بارشیں ہورہی تھیں۔ آسمان سے بھی اور دل کے آکاش سے بھی برس رہی تھیں ۔ دونوں کیلئے مشکل تھاکہ اپنی ضد اور اپنی اناکو چھوڑ سکتے۔ لہٰذا دل کی بارشیں بھی انہیں موم نہیں کرسکیں ۔
۵۔ کھیل جاری ہے
کھیل کھیل میں سار املک برباد ہوچکاتھا۔ لوگ پکاراٹھے۔ یہ سیاسی کھیل بندکرو۔ لیکن سناہے کہ کھیل جاری ہے۔ اور ملک مزید تباہی کی کگار پر ہے۔ اندھوں اور بہروں کاسیاسی کھیل جانے اور کیاگل کھلائے گا۔
