محمدیوسف رحیم بیدری ، بیدر، کرناٹک۔
موبائل :9141815923
۱۔ سمجھ میں نہ آنے والا
’’پھرکیاہوا؟‘‘ پوچھاگیا۔ مجیب نے کہاکہ ’’پھریہ ہواکہ جتنی عصمتیں لٹ گئی تھیں ، ان تمام نوخیزلٹی پٹی کلیوں کو انصاف نہیں مل سکا۔ اور نہ ہی خاطیوں کو کوئی سزا ہوئی‘‘ دریافت کیاگیاکہ ’’ عیش وعشرت اور اس قوم کی ترقی کا کیاہوا؟‘‘ جواب دینے والے نے تھوڑا توقف کیا۔ انگلی سے ایک اشاراپیچھے کی جانب کرتے ہوئے کہاکہ ’’وہ قوم پھرترقی نہیں کرسکی، پیچھے چلی گئی تو پیچھے ہی رہ گئی۔مظلوموں کو انصاف نہ دلانے والی قوم ، ظالم کواس کی سزا دینے سے معذور قوم ایسی بے بس ہو ئی کہ عیش کے دن بھی ہواہوئے اورنسلوں کی نسلیں ترقی کے لئے ترس گئیں‘‘ پھر اس نے آہستہ سے کہا’’آج وہ قوم پھر سے ترقی کی راہ پر بلاشبہ گامزن ہے ،لیکن اس قوم کے تعلیمی ادارے عورت بچیوں کے لئے غیر محفوظ ہیں ‘‘
کوئی کچھ نہ بولااور نہ ہی پوچھاکیوں کہ جواب دینے والا اُن کی سمجھ میں نہ آسکا۔
۲۔ ٹھیک کہتے ہیں
’’کیسے ہیں ، مزے میں ہیں نا؟‘‘ پوچھاگیاتو دوست نے جواباً کہا’’دنیا میں مزے میں رہنے کاکوئی تصور نہیں ہے۔ یہ تو دکھ اور تکلیف کی وہ پگڈنڈی ہے جس پر چلتے ہوئے مسرت محسوس ہوایسا ہم جیسوں کیلئے ممکن نہیں ہے‘‘
وہ بولا’’دنیا برتنے کے لئے ہے ‘‘ اس نے فوری ٹوکتے ہوئے کہا’’ہماری سانسیں جو آاور جارہی ہیں ، یہ بھی تو برتنے کے لئے دی گئی ہیں لیکن اس کامطلب یہ نہیں کہ بے معنی طریقے سے سانس لی جائے یا سانسوں کوچھوڑاجائے ۔ جس پروردگار نے پیدا کیاہے ، سانسوں کے لیتے اور چھوڑتے ہوئے اس کو یادہی نہ کرنا من مانی ہے اور انسان من مانی کیلئے نہیں بنایاگیا‘‘
بات اس کی سمجھ میں شاید آگئی تھی ۔ اس نے صرف اتناہی کہااوراپنی راہ لی’’آ پ ٹھیک کہتے ہیں ‘‘
۳۔ حکومتی کارنامہ
رشوت کھانے والا رشوت کھاکھاکر زندہ ہے اوررشوت کے خلاف لکھنے والا لکھتے لکھتے مرگیا۔ نئی نسل خود کو پاورفل محسوس نہیں کررہی ہے۔کیوں کہ رشوت لینے والے چہارجانب زندہ نظر آتے ہیں ۔ اس طرح رشوت دینے والوں کی مٹی پلید ہورہی ہے۔ حکومت نے شفافیت اور رشوت کاقلعہ قمع کرنے کے لئے آن لائن نظام جاری کیا۔ اس کابھی کچھ ایسا حشر ہواکہ جب دیکھئے سرور ڈاؤن ہی رہتاہے۔ جانے اس سرور کے پیچھے کون پڑا رہتاہے ؟مظلوم عوام دبی دبی زبان میں کہتی ہے ، یہ کارنامہ بھی حکومت ہی انجام دیتی ہے۔
۴۔ صحافت کی رِیل
سینئر صحافی راج دیپ شرما نے لیکچر دیتے ہوئے کہاکہ ’’جب جب کوئی اسکینڈل پوری طرح سامنے آنے کی امید ہوتی ہے ، تب تب صحافیوں اور صحافتی اداروں کوخرید لیاجاتا ہے۔ جو فروخت ہونے کے لئے تیار نہیں ہوتے انھیں دھمکیوں پر رکھ لینامعمول میں داخل ہے بلکہ اس سے آگے بڑھ کر اس کو راستے سے ہٹانے کا اہتمام بھی کردیاجاتاہے۔ پھر تو جمہوریت کے چوتھے ستون کی بہت سی اینٹیں نیچے گرپڑتیں۔گزشتہ 75سال سے جمہوریت کے اس چوتھے ستون پر ہر کوئی ضرب لگارہاہے۔ ایک اندازے کے مطابق جمہوریت کا یہ چوتھا ستون کارپوریٹ اداروں ، تعلیمی انسٹی ٹیوشنس ، نوجوان سیاست دانوں ، حکومت ، اوراپوزیشن سبھی کے لئے وبال جان ہے۔ اسی لئے تو ہر میدان میں سوشیل میڈیا کاجال بچھادیاگیاہے تاکہ صحافت کی کشتی پرلوگ سوار نہ ہوں اور صحافت کاسمندر آہستہ آہستہ سوکھ جائے ، اس سازش کے خلاف صحافتی میدان کے طلبہ کو ڈٹ جانا چاہیے ، ان کے بنا صحافت کا بچنا ممکن نہیں ہے ‘‘
انھوں نے اوربھی بہت سی باتیں کہیں۔ جرنلزم کے طلبہ بورہورہے تھے ۔ اس لئے بورہورہے تھے کہ انھیں ٹائیگر 3دیکھنے کے لئے جاناتھا لیکن وہ یہاں ان کے لیکچر میں پھنس گئے تھے۔ اچانک ہی کالج کے مائیک سسٹم پر اعلان ہواکہ’’ قریب ہی میں جھگڑاکھڑا ہواہے ،لوگ آپس میں لڑپڑے ہیں، اس لئے کالج کو یہیں ختم کیاجارہاہے‘‘۔ طلبہ نکل بھاگے اور سینئر صحافی راج دیپ شرما نے جرنلزم کے طلبہ کے چہروں کی مسرت کو دیکھ کر مایوسی سے سرہلادِیا۔ جیسے کہہ رہے ہوں کہ ’’صحافت کابچناممکن نہیں ہے ‘‘
۵۔ بڑا آدمی
وہ ٹیبل پر کام کرتے کرتے اونگھنے لگاتھا۔ جانی بھیانے دیکھاتواس کو کندھے سے ہلایااور کہا’’رات کو سوئے نہیں کیا‘‘
رام بہادر نے نفی میں سرہلایااور پھرنیند یاغنودگی کی دنیامیں واپس چلاگیا۔ جانی بھیا کو لگاکہ رام بہادر سے بڑا آدمی کوئی دوسرا نہیں ہے جو سرکاری کام کاج کے دوران بھی سولیتاہے۔ایک ہم ہیں کہ دفتر میں سونہیں سکتے ۔ گھر واپس جاتے ہیں تو سوشیل میڈیا سونے نہیں دیتا۔
