کتبہ: محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی

افکار ونظریات کا اختلاف ، غور وفکر کا انداز، استنباط مسائل وفہم کا طریقۂ متعدد و متنوع ہے ، ممکن ہے کہ ایک انسان دوسرے کے آراء سے اختلاف کر بیٹھے ، مسئلہ اگر خالص دینی و شرعی وعقائد کا ہوں تو ضروری ہے کہ فہم سلف کی روشنی میں اس مسئلہ کو حل کیا جائے ۔ یہاں دانشوری نہیں چلتی ورنہ نصوص کے ساتھ کھلواڑ ہوگا ۔ جہاں تک دیگر مسائل جو سماج و معاشرہ سے متعلق ہوں وہاں پر بھی اپنے سے بڑۓ اور بزرگ، ثقہ باوقار علماء حق کی نگرانی میں ہی مسئلہ کو حل کیا جانا چاہیے ۔ بقیہ عام دیگر جو مسائل ہیں ان میں بہت حد تک امکان ہے کہ معاصر ین کے درمیان اختلاف ہو جائے ، افکار و رجحانات کا مسئلہ پیدا ہو جاۓ تو ایسے وقت میں اختلاف کو ظلم تصور کرتے ہوۓ جزبز ہوکر آگ بگولہ ہو جانا غباوت و حماقت ہے ، بلکہ مسئلہ کو کشادہ دلی وسعت قلبی علم و مطالعہ، مفسدۃ و مصلحۃ میں تفریق کر اصولوں کی روشنی میں حل کیا جائے ۔ پھر بھی اگر اختلاف ہو جائے تو سلیقے سے، ادب واحترام کے ساتھ علمی طور پر تنقید بغرض اصلاح مستحسن چیز ہے ۔ آئیے اختلاف کے چند اصول و ضوابط کو پیش کرتے ہیں ۔

1۔ اخلاص وصدق نیت ،

2۔ نصح وخیر خواہی ،

3 ۔ اہلیت وتمکن مں العلم الشرعی،

4 ۔ انصاف پسندی

5۔ ذکاء و فطنۃ ،ذہانت و زیرکی،

6 ۔ تنقید سے کوئی بڑا فتنہ نہ ابھر جائے ۔ یعنی مصلحۃ و مفسدۃ میں تمیز ،

7 ۔ نقد حسب ضرورت اور برمحل ہو ،

8 ۔ نقد ہو اراجیف نہیں ۔

9 ۔ تنقید کسی کو نیچا دکھانے ،حقیر و بونا بتانے کیلئے نہ ہو ،

10۔ نقد و تنقید محبت و مؤدت اور خیرسگالی کے فضاء اور مومن مومن کا آئینہ ہو ۔ کی طرح ہو۔

11۔ مخلص و بہترین انسان جو حق قبول کرنے والا ہو ،نہ کہ جاحد متعنت و متکبر ہوں ۔

سوشل میڈیا کے اس دور میں کیا ان آداب اختلاف کو مد نظر رکھا جارہاہے ۔ جواب بالکل نفی میں ہے ۔

اللہ تعالیٰ ہمیں ہر طرح کے فتنہ وفساد سے دور رکھیں ۔ اور حق پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے