تحریر: محمد حسن محمد النعیمی ۔

ترجمانی: محمد فہیم الدین

جامعہ امام ابنِ تیمیہ، بہار

 

مملکت سعودی عرب کی مخالفت اور مسئلہ فلسطین کے حل کے لئے سعودی عرب کے عظیم الشان کردار اور بے مثال امداد و تعاون کی اہمیت کو کم کرنے کی خاطر جاہل اور عوام الناس کے درمیان سوشل میڈیا اور نام نہاد ٹیوی چینلوں میں بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی باتیں پھیلائی جا رہی ہیں جن کا مقصد تاریخ کو مشق کرنے کی سعی نا مسعود ہے ۔یہ بات بھی پھیلائی جا رہی ہے کہ سعودی عرب کا تعاون صرف بیان بازی تک محدود ہے ۔ حالانکہ فلسطینیوں کے مسئلہ کے حل کے لیے مملکتِ سعودی عرب کی پالیسی معروف اور سچی خیر خواہی پر مبنی ہے ۔ سعودی عرب کی سیاست و قیادت دوسرے ممالک سے کہیں پہلے سے سنجیدہ اور کوشاں رہی ہے ۔ لہٰذا اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اہل فلسطین کے حقوق کی حفاظت اور ان کے مسئلے کے حل کے لیے سعودی عرب کا کردار ہمیشہ سے مثالی رہا ہے ۔

اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ اس طرح کی جھوٹی باتیں اور بے بنیاد چیزیں سعودی عرب کے مخالفین و معاندین سے پیسے لینے والے ایجنٹ کی طرف سے پھیلائی جاتی ہیں ۔ پیسے اور مال کے عوض جھوٹی باتیں پھیلانے والے کارندوں اور نمائندوں کا ہدف مسئلہ فلسطین کے حل کے لئے سعودی عرب کے مثالی تعاون اور اہل فلسطین کی جانوں کی حفاظت کے لیے کی گئی عظیم اور سنجیدہ کوششیں کرنے کی سعودی عرب کی جو روشن تاریخ ہے اس کو مسخ کرنا ہے ۔ سبھی کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ مسئلہ فلسطین مملکت سعودی عرب کی سیاست و قیادت اور اس کی بنیادی پالیسی کا حصہ اور اس سلسلے میں اس کا موقف دو ٹوک اور ثابت شدہ ہے ۔ اور اس کی شروعات شاہ عبد العزیز کے ہاتھوں مملکتِ سعودی عرب کے قیام سے ہی ہو گئی تھی ۔ شاہ عبد العزیز بن عبد الرحمان آل سعود رحمہ اللہ فلسطینی عوام کے پہلے حمایتی اور مددگار تھے ۔ مسئلہ فلسطین کے تئیں سعودی عرب کی مستحکم اور روشن پالیسیاں قیام مملکتِ سے لیکر خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز آل سعود حفظہ اللہ اور ولی عہد شہزادہ محمّد بن سلمان حفظہ اللہ کے عہد تک قائم ہیں ۔ سعودی عرب کی پالیسیوں میں کوئی تبدیلی یا ان میں کوئی تزلزل نہیں آیا ۔

یہاں گفتگو "مسئلہ فلسطین” کی نسبت مالی امداد کرنے کے لیے سعودی عرب کے اقدامات سے متعلق ہے ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ فلسطین کے لئے سعودی عرب کی مالی امداد اور عملی اقدامات کا احاطہ اس مختصر سے وقت میں ممکن نہیں ہے ۔ اس طور پر کہ 1967ء میں خرطوم کے اندر ہونے والی عرب چوٹی کانفرنس میں مملکتِ سعودی عرب نے فلسطین کے لئے بڑے پیمانے پر تعاون پیش کیا تھا ۔ اس کے علاوہ 1978ء میں بغداد میں منعقد عرب چوٹی کانفرنس میں سعودی عرب نے ہر سال اہل فلسطین کو سالانہ ایک عرب، 97 ملین، تین لاکھ ڈالر کا مالی تعاون دینے کا ذمہ لیا۔ اس سالانہ امداد کی مدت دس سال تھی جو 1979ء سے لیکر 1989ء تک چلی۔1987ء میں جزائر کے اندر منعقد ہونے والی ہنگامی عرب چوٹی کانفرنس میں مملکتِ سعودی عرب نے فلسطینی احتجاجی گروپ "فلسطینی انتفادہ”(Palestinian Intifada) کو مدد کے طور پر ماہانہ امداد دینے کا فیصلہ کیا ۔ اس ماہانہ امداد کی مقدار چھہ (6) ملین ڈالر تھی ۔ جبکہ مملکتِ سعودی عرب نے پہلے فلسطینی انتفاضہ میں فلسطینی انتفاضہ کے فنڈ میں چودہ(14) لاکھ تینتیس (33) ہزار نقد ڈالر کا چندہ دیا ۔ اس کے علاوہ سعودی عرب نے فلسطینیوں کے لیے دوائیاں، طبی آلات اور غذائی اشیاء کی خریداری کے لیے انٹرنیشنل ریڈ کراس کو بیس (20) لاکھ ڈالر پیش کیے ۔

فلسطینی اتھارٹی کے بجٹ کو مستحکم کرنے کے لیے سعودی عرب نے اپنے مالی تعاون میں مزید اضافہ کر دیا اس طور پر کہ مملکت نے اتھارٹی کے بجٹ کے لیے دیے جانے والے اپنے ماہانہ تعاون کو ستتر(77) لاکھ ڈالر سے بڑھا کر دو کروڑ ڈالر تک کر دیا ۔ سعودی عرب کا یہ اقدام اس تجویز کی تنفیذ کے طور پر تھا جو 2017ء میں مملکتِ اردن کے بحر میت میں منعقد ہونے والی عرب چوٹی کانفرنس میں پیش کی گئی تھی ۔ ساتھ ہی سعودی عرب نے قدس اور اقصی دونوں کے بجٹ کے سرمایہ میں 500 ملین ڈالر کا اضافہ کر کے فلسطین کے لئے اپنی مال تعاون کو کافی زیادہ بڑھا دیا ۔ اس کے علاوہ مملکت سعودی عرب نے قدس کے اسلامی اوقاف کی مدد کے طور پر 50 ملین ڈالر کا تعاون دیا ۔ مزید مملکت نے بیت المقدس اور مسئلہ فلسطین کی مدد کے لیے اقوام متحدہ کی رلیف اور سروس ایجنسی(UNRWA) کو 50 ڈالر دیے ۔

اس طرح سے سال 2002ء سے لیکر سال 2017ء تک کے دوران مملکت سعودی عرب کی طرف سے فلسطین کو بطور تعاون و امداد دی جانے والی مالی رقم سات (7) بلین یعنی ( سات ارب) ڈالر تک پہنچتی ہے ۔

(ماخوذ از "صحیفہ مال”(Maaal.com) 31/ اکتوبر 2023)

۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے