محمدیوسف رحیم بیدری
بیدر،کرناٹک۔
۱۔ دولت مندی
والد محترم پیچھے رہ گئے ۔بیٹے نے دولت کمائی اور وہ آگے بڑھ گیا۔ وہاں کے معاشرے میں ترقی کاپیمانہ دولت مندی ہی تھا
۲۔ بندر اور تماشائی 
سامنے انتخابات کھڑے تھے اور ہر شخص بند رکی طرح ایک موقف سے دوسرے موقف پر چھلانگ لگادیتا۔ ہمارے حضرت نے دیکھا تو اپنی سنجیدگی میں مزید اضافہ کرتے ہوئے کہا’’انتخابات کیاہیں ، نفسانفسی کاعالم ہے۔ پھر جب جیت جائیں گے اس کے بعد کی زندگی بھی کہاں چین لینے دیتی ہے ؟‘‘ حضرت ٹھیک ہی تو کہہ رہے تھے۔ لیکن میں یہ بھی سوچ رہاتھاکہ لوگ بھلے بند ر بن گئے ہوں ہمیں
تماشائی بننا کہاں تک زیب دیتاہے ؟دوسروں کو انصاف دِلانے کی خاطر سہی آخر ہم اقتدار کی کرسی پر کب بیٹھنا پسند کریں گے ؟
۳۔ خواتین بازار 
بازار کیاتھا، خواتین کی سج دھج سے جگمگارہاتھا۔ شریف مردوں کووہاں سے سر جھکاکر گزرنا پڑتاتھا۔کسی نے پوچھا’’اُدھر سے کبھی گزرے ہو؟‘‘ واقف عظیم نے کہا’’کیوں نہیں ، روزہی گزرتاہوں ‘‘ پوچھاگیا’’کیساسماں ہوتاہے ؟‘‘ واقف عظیم نے کہا’’چوں کہ وہاں خواتین کے علاوہ مرد نہیں ہوتے ، اسلئے وہاں کوئی سماں وماں نہیں ہوتا، شرافت کے ساتھ ضروریات زندگی کاکاروبار ہوتاہے ‘‘
سامنے والے نے پوچھا’’تم آخر کہناکیاچاہتے ہو، کیامرد شریف نہیں ہوتے ۔ مردوں کا خواتین کے بازار میں آنے سے شرافت کہیں کھوجاتی ہے کیا؟‘‘
واقف عظیم نے صاف کہہ دیا’’کچھ ایسا ہی سمجھ لو‘‘ پھرتو ڈیڑھ دوگھنٹہ تک دونوں کے درمیان میں جھگڑا ہوتارہا۔ دونوں اپنے اپنے موقف پر اٹل تھے۔پولیس کوحرکت کرنی پڑی تب کہیں جاکر معاملہ ٹلا ۔
۴۔ بے غرض کال 
میں نے اپنے دوست کو پچھلے تین ہفتوں سے عمداًکال نہیں کی۔میرے دوست کی کوئی جوابی کال نہیں آئی۔ تب سمجھ میں آیاکہ کوئی کسی کومیری طرح بے غرض یاد نہیں کرتااور میں ہوں کہ بے غرض کال کے ذریعہ لوگوں کو ڈسٹرب کرتارہتاہوں۔مجھے اپنی عادتیں بدلنی چاہیے۔ اور پھر وہ دن بھی آیاکہ میں نے سب کوکال کرنا چھوڑ دِیا۔کسی نے پلٹ کر یہ نہیں پوچھاکہ ’’بھائی کیابات ہے ؟ ہمیشہ کال کرتے تھے ۔ اب کال کیوں نہیں کرتے ؟طبیعت وبیعت تو ٹھیک ہے نا؟‘‘
۵۔ ٹھٹھرے ہوئے لوگ
برف تو نہیں گررہی تھی لیکن موسم برف سے زیادہ سردیلا تھا۔ ہر طرف برف چاندنی بکھری ہوئی نہیں تھی لیکن شب کااندھیرا کالی برف کے گرنے کاسماں پیش کررہاتھا جس کو کوئی دیکھ نہ پاتا،صرف محسوس کرسکتاتھا۔ برفیلی ہوائیںسائیں سوں سوں ۔۔۔۔کرتی ہوئی رات بھر جاری رہتیں۔ کھڑکی کھول کر باہر دیکھنے کی بھی ہمت ہمیں نہ ہوتی ، کیوں کہ اپنے اپنے ائرکنڈیشنڈکمروں سے باہر جھانکنا حماقت ہی تو کہلاتا۔ کالی برف سی سردیوںوالی اِن راتوں میں جانے کتنی شبوں کے چاند ایسے ہی گزر گئے ، ہم تمام گھروالے سرد چاند کے تمام مناظر دیکھ نہ سکے۔ہرکوئی اپنے اپنے موبائل اور ٹیب میں مصروف ہواکرتاہے۔ہمیں کسی چاند یا کسی شب اور کالی برف سے کچھ لینا دینا نہیں ہوتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے