بیدر۔ یکم جنوری (محمدیوسف رحیم بیدری): کرناٹک کی سرحد پر واقع تلنگانہ کے شہر ظہیرآباد کے ڈھابوں پر کرناٹک کے مسافروں کو اشیائے ضروریہ مہنگے داموں فروخت کرتے ہوئے انہیں لوٹنے کاسلسلہ شروع ہوچکاہے جس کی طرف تلنگانہ کی کانگریسی حکومت کوفوری توجہ دینے کی ضرور ت ہے۔
تفصیلات کے بموجب ظہیرآباد کے ڈھابوں پر کوئی بھی چیز طئے شدہ قیمت سے زائد رقم میں فروخت کی جارہی ہے۔ ہلدی رام کے مرمرے اور کرکرے وغیرہ کی 10 روپئے والی پیاکٹ کو 15 روپئے میں فروخت کرنے کا واقعہ 31؍ڈسمبر کی شب 9بجے سری سائی پریوارڈھابہ موقوعہ ظہیرآباد۔ بیدر پل کے سامنے پیش آیا۔ جب اس طرح لوٹنے کے خلاف مسافر نے آواز اٹھائی تو کہا گیا کہ ہماری مرضی ہے، اگر 10 روپئے کی ہلدی رام کے مرمرے کی پیاکٹ 15 روپئے میں لینا ہے لیں ورنہ نہ لیں۔ جب حکومت کا ڈر بتایا گیا تب بھی وہ ڈرنے کیلئے تیارںہیں۔
اسی طرح کی دیگر ڈھابوں سے بھی شکایات وصول ہورہی ہیں۔ لہٰذا تلنگانہ کی ریونت ریڈی کی کانگریس حکومت سے اپیل کی جاتی ہے کہ فوری طورپر ان ڈھابوں کو چیک کرتے ہوئے خاطیوں کے لائسنس منسوخ کردیں۔ مسافروں کولوٹنے سے تلنگانہ حکومت کی بدنامی ہوگی۔جس کااثرفوری طورپر پارلیمانی انتخابات پر پڑسکتاہے۔
