اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مسلمان دوسرے مسلمان سے سلام سے پہلے بات نہ شروع کرے۔ بہتر یہی ہے اور مسلمان اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر ممکن ارشاد کی تکمیل کرتا ہے اور کچھ علماء اپنے ماننے والوں کو دوسرے مسلک کے لوگوں سے سلام کرنے کو منع کرتے ہیں۔ یہی نہیں دوسرے مسلک کی برائی کر کے جاہل عوام سے نذرانہ وصول کرتے ہیں اور دوسرے مسلک پر کیچڑ اچھالتے ہیں۔ دین اور اسلام کے بجائے تقریر میں بے ہودہ اور واہیات باتیں کر کے اپنے ماننے والوں کو جنت کا سرٹیفیکیٹ تقسیم کرتے ہیں۔ جاہل عوام جو ان کی لن ترانیاں سن کر داد و تحسین کے کلمات اور نذرانہ پیش کرتی ہے۔ پیشہ ور مقررین ایسے بھی ہیں جو نماز کے بھی پابند نہیں ہوتے، اپنی لچھے دار تقریر سے عوام کو خوش کر دیتے ہیں، ان کے ماننے والے سمجھتے ہیں کہ نذرانہ دے کر جنت مل جائے گی جب کہ نماز مسلمانوں پر فرض ہے، کسی صورت میں معاف نہیں ہے۔ بڑی خوش فہمی میں ہیں کہ علماء انہیں جنت میں لے جائیں گے جو نماز سے بے نیاز ہوتے ہیں۔
مجیب بستوی سمریاواں بازار سنت کبیر نگر
