بیدر۔یکم فروری (محمدیوسف رحیم بیدری): مرکزی حکومت کی جانب سے پیش کئے گئے بجٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے رکن قانون سازکونسل جناب اروندکمارارلی نے ایک پریس نوٹ جاری کرکے کہاہے کہ حکومت ہند کی وزیر خزانہ محترمہ نرملا سیتا رمن نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ لوک سبھا میں پیش کیا گیا بجٹ مایوس کن اور زبانی جمع خرچ والا بجٹ ہے۔یہ بات بلا شبہ کہی جا سکتی ہے کہ موجودہ وزیر کا پیش کردہ بجٹ ایک ایسا بجٹ ہے جو صرف امیروں اور کارپوریٹس کو امیر ہونے کی ترغیب دیتا ہے، آبپاشی، تعلیم، صحت، روزگار کے مواقع، ادویات اور غریبوں کے لیے کوئی اسکیم کی تجویز کے بغیر بجٹ کا آنا لمحۂ فکریہ ہے ۔ موصوف نے آگے لکھاہے کہ اقتدار میں آنے سے پہلے اور بعد میں مودی حکومت نے سالانہ دو کروڑ نوکریاں پیدا کرنے، بیرون ملک سے کالا دھن واپس لانے اور ہر ایک کے کھاتے میں 15 لاکھ روپے جمع کرنے کا وعدہ کیا ہے، مودی حکومت نے کہا تھا کہ سال 2021-22 کو امرت مہوتسو کے طور پر منایا جائے گا۔ امرت مہوتسو کے طور پر اور ہر شہری کو ایک ٹھوس مکان اور بجلی فراہم کرنے کاوعدہ تھا۔

مسٹر ارلی نے بتایاکہ حکومت نے کہا ہے کہ وہ 2047 تک ایک خوشحال ہندوستان بنائے گی۔ کس طرح کاخوشحال بھارت ہوگا اس کانقشہ آپ دیکھ سکتے ہیں ۔ اس کے لئے ذرا پیچھے جائیں تو معلوم ہوگاکہ 1947 سے 2014 تک ملک کا مالی قرض 55 لاکھ کروڑ تھا۔2014؁ء کو مودی حکومت برسراقتدار آئی۔ 2014 سے 2023 تک یعنی 9 سالوں میں مودی حکومت نے 85 لاکھ کروڑ کا قرض لیا ہے۔ یعنی ملک کا کل مالی قرض 163 لاکھ کروڑ ہے۔ ملک کا قرضہ کم کرنے کے لیے محنت کرنے کی بجائے مزے کرنا اور قرضے بڑھانا اس حکومت کا کارنامہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ بینکروں کے پرائیویٹائزیشن کے لیے کارپوریٹ افراد کو امیر بنانے کے لیے ملک کے شہریوں کی طرف سے ادا کیے گئے ٹیکس کی رقم سے کارپوریٹ افراد کے 2 لاکھ کروڑ کے قرضے معاف کر دیے گئے ہیں۔اس پر بھولی بھالی عوام کوسوچناہوگاکہ کیاایسی حکومت انہیں دوبارہ چاہیے جو کارپوریٹ افراد کو قرض دے اور ملک کے قرض پر مزید قرض چڑھاتی رہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے