چترپور ضلع رام گڑھ میں نقباء امارت شرعیہ علماء ائمہ کے اجلاس کا انعقاد
چترپور: امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ نے شعبہ ہائے زندگی کے ہر موڑ پر ملت اسلامیہ کی رہبری کا فریضہ انجام دیا ہے امارت شرعیہ ملت ہندیہ کے لیے ایک عظیم ملی اور قومی طاقت ہے جب بھی ملی و مذہبی بنیادوں پر ملت کو ہراساں کیا گیا تو امارت شرعیہ کے اکابرین نے اس کا دفاع کرکے ملت کو تحفظ فراہم کیا ملک میں جب جبری نسبندی کی جارہی تھی تو امیر شریعت رابع مولانا منت اللہ رحمانی نے حکومتی اس جبر و استبداد کا مقابلہ کیا اور بلا تفریق مذہب و ملت پورے ہندوستانی سماج کو اس ظلم سے نجات دلوائی۔ جب مطلقہ کے نان و نفقہ کو بنیاد بنا کر شریعت میں مداخلت کی بات کی گئی تو امیر شریعت رابع مولانا منت اللہ رحمانی اور حضرت قاضی مجاہد الاسلام قاسمی نوراللہ مرقدہم نے اسکے خلاف ایسی تحریک چلائی کہ حکومت کو اپنے اس منظور شدہ قانون کو واپس لینا پڑا اور پھر اسی تحریک نے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ جیسا متحدہ پلیٹ فارم کو وجود بخشا۔ جب ملک میں رائٹ ٹو ایجوکیشن کے نام پر مذہبی تعلیم اور نظام مدارس کی گھیرا بندی کا منصوبہ بنایا جارہا تھا تو مفکر اسلام حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب نے اس کے خلاف تحریک چلائی اور مدارس کنوینشن اجلاس طلب کر ملک میں مدارس کے و جود کو استحکام بخشا۔ مذہبی بنیاد پر ڈارھی کے خلاف جب ملک کی بڑی عدلیہ میں بیٹھے شخص نے مذہب کے خلاف باتیں کی تو انہوں نے اسکے خلاف ایسی تحریک چلائی کہ تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ سپریم کورٹ کے جج کو اپنا بیان واپس لینا پڑا۔ امارت شرعیہ کے امراء شریعت نے جس طرح کل ملت کی رہبری کا فریضہ انجام دیا ہے اکابرین امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ پر اعتماد رکھیے وہ آئندہ بھی یہ فریضہ انجام دیتے رہیں گے موجودہ امیر شریعت مفکر ملت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی مدظلہ انہیں بزرگان رفتگان کے جانشین ہیں آپ امیر شریعت پر اعتماد رکھیے اور سمع و طاعت کے ساتھ نظام امارت شرعیہ سے جڑے رہیں یہ ہمارے ایمان و یقین کا حصہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار چترپور ضلع رام گڑھ جھارکھنڈ میں مورخہ 7 فروری بروز بدھ بعد نمازِ مغرب جامع مسجد چترپور میں منعقدہ اجلاس نقباء علماء ائمہ اور سماجی کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے مفتی محمّد سہراب ندوی صاحب نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ نے کہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ اتحاد و اتفاق ایک ایسی طاقت ہے جس کے سہارے آپ بڑے سے بڑے مسائل کا حل تلاش کرسکتے ہیں اور مشکل ترین حالات کا مقابلہ کرسکتے ہیں اتحاد کی ہر زمانے اور ہر سطح پر ضرورت محسوس کی گئی ہے آج ہم ملکی ملی سطح پر جن حالات سے گذر رہے ہیں ایسے وقت میں اتحاد و اتفاق کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے یہ وقت علاقائی بنیادوں پر تقسیم کا نہیں ایمانی بنیادوں پر متحد ہونے کا ہے۔ آپ اپنے فکر و نظر کی بنیاد پر جس مسلک پر عمل کرتے ہیں عمل کریں مسلک عمل کرنے کی چیز ہے اسے آپسی اختلاف کا سبب نہ بننے دیں۔ اور یہ ذات اور برادریاں آپسی تعارف کے لیے ہیں اس سے زیادہ اس کی کوئی حقیقت نہیں اسے تفاخر کا ذریعہ نہ بنائیں نہ ہی اس بنیاد پر سماج میں اونچ نیچ کو فروغ دیں شریعت اسلامیہ میں اسکی بڑی ممانعت آئی ہے امارت شرعیہ کا پورا خاکہ کلمہ واحدہ کی بنیاد پر قائم ہے ہمارے درمیان جو رشتہ ہے وہ ایمان کی بنیاد پر ہے اور ایمان کی بنیاد پر قائم رشتہ میں کسی علاقہ اور کسی زبان کی بنیاد پر کسی طرح کی تفریق کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ انھوں نے یہ کہا کہ ملک و معاشرے کی بقاء و استحکام کیلئے نظام عدل و انصاف کی بحالی کی بہت ضرورت ہے جہاں ہم ملکی سطح پر حق و انصاف کی ضرورت محسوس کرتے ہیں اس کے لیے تحریکیں چلاتے ہیں وہیں ہمیں معاشرتی و خاندانی بنیادوں پر بھی حق و انصاف کی بحالی کی کوشش کرنی چاہئیے بیٹیوں کو باپ کی جائیداد میں حصہ نہیں دینا اور اس میں عدل و انصاف کے تقاضوں کو پورا نہ کرنا یہ شرعی و سماجی نا انصافی ہے اللہ کے اس احکام کی خلاف ورزی ہے جسے اللہ نے خود قرآن کریم میں بیان کر کہا کہ یہ اللہ کے قائم کردہ حدود ہیں اس ناانصافی میں جہاں بھائیوں کی بدنیتی شامل ہے وہیں باپ بھی اس ناانصافی اور ظلم میں برابر کا شریک ہوتا ہے اس لیے ہر باپ کو چاہیے کہ اپنے گھروں میں ایسا ماحول بنائیں کہ اسکے مرنے کے بعد بیٹا بہنوں کو خود اس کا حصہ حوالے کردے اور گھریلو ہر چھوٹا بڑا نظام عدل پر مبنی ہو۔
قاضی محمد کلیم اللہ مظہر قاسمی قاضی شریعت دارالقضاء امارت شرعیہ ضلع رام گڑھ و بوکارو نے اجلاس کی نظامت کرتے ہوئے اپنے تمہیدی خطاب میں کہا کہ امارت شرعیہ ایک تحریک ہے اور خلافت اسلامیہ کی ایک شکل ہے جب بھارت کی آزادی کے آثار نمایاں ہونے لگے اور یہ واضح ہوگیا کہ مسلمانوں کے ہاتھوں میں حکومتی معاملات اس طرح نہیں ہونگے جس طرح مغلوں کے دور میں تھے تو ہمارے بڑوں کو ایک فکر لاحق ہوئی کہ وہ کون سی راہ ہونی چاہیئے جس پر چل کر ایسے حالات میں جہاں ہمارے ہاتھ میں ظاہری قوت نہ وہاں مسلمان ان مسائل و معاملات کو حل کرسکیں جن کے لیے امیر شرعی کا ہونا ضروری ہے اسی فکر کو بانی امارت شرعیہ حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد رحمۃ اللہ علیہ نے اکابرین ملت کے سامنے پیش کیا اور پھر اسی فکر نے اکابرین ملت کے مشورے کے بعد جو حل پیش کیا اسی فکر کا نام امارت شرعیہ ہے جہاں ایمانی طاقت پر امارت شرعیہ جہاں دوسرے مسائل کو حل کرتی ہے وہیں نظام عدل کو فروغ دینے کے لیے دارالقضاء کا نظام چلاتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انسان جب شعور کو پہنچ جاتاہے تو پروگراموں اجلاسوں اور تنظیمی بنیادوں پر دیگر تنظیموں کو جانتا ہے لیکن امارت شرعیہ کو انسان ایمان و اسلام سے مربوط فکری بنیادوں پر اپنے گھر اور خاندان کے لوگوں سے جانتا ہے جس طرح نسبی و صلبی بنیادوں پر ایک خاندان و سماج وجود میں آتا ہے اسی طرح ایمانی بنیادوں پر امارت شرعیہ قائم ہے امارت شرعیہ ایک اسلامی خاندان اور اسلامی فیملی ہے خاندان کے لوگوں میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر جب رشتہ نہیں توڑا جاتا ہے تو ایمان کی بنیاد پر قائم اس رشتے کو کیسے کمزور ہونے دیا جاسکتا ہے ہمیں اکابرین ملت کی اس وراثت کی حفاظت کرنی ہے اور جس طرح ہمارے بڑوں نے ہمیں یہاں تک پہنچایا ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم آنے والی نسلوں تک امارت شرعیہ کے پیغامات کو پہنچائیں گے۔
مفتی صلاح الدین مظاہری امام و خطیب جامع مسجد چترپور نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس اجلاس میں ضلع بھر کے نقباء امارت شرعیہ کی ایک بڑی تعداد ہے آپ امارت شرعیہ کے نقیب ہیں گویا کہ امیر شریعت کے نمائندے ہیں آپ کی ذمہ داری ہے کہ امیر شریعت کے پیغام کو سماج معاشرے میں عام کریں اور امارت شرعیہ کا اہم پیغام اخوۃ باہمی ہے سگے بھائی سے زیادہ ایمانی بنیادوں پر قائم بھائی چارگی کی اہمیت ہے آپ کسی بھی صورت میں آپسی بھائی چارگی میں کوئی دڑار نہ پڑنے دیں۔
اس اجلاس میں مفتی شمیم اختر صاحب قاسمی۔ جناب ذکاء اللہ صاحب۔ حاجی پرویز احمد صاحب، امیر جماعت ضلع رام گڑھ جناب عبدالواحد صاحب، جناب ماسٹر عظیم اللہ صاحب، جناب دلاور علی صاحب صدر جناب اخلاق اللہ صاحب جامع مسجد چترپور، جناب ماسٹر احسان الحق صاحب صدر ظفر عالم صاحب سکریٹری بلال مسجد بلال نگر، مولانا تنویر قاسمی صاحب۔ مولانا ابوذر قاسمی امام مسجد مائل، مولانا مظہر الحق قاسمی بلال مسجد مولانا نجیب اللہ قاسمی مولانا مجیب اللہ ندوی، حافظ امان اللہ مکہ مسجد، قاری مجیب اللہ انصار مسجد، مولانا اشراق صاحب ماسٹر سرفراز صاحب چین گڈا، مولانا اظہر قاسمی صاحب امام رام گڑھ شہر، مولانا رضوان صاحب شوکت صاحب چین پور بھدوا، کے علاوہ ایک بڑی تعداد اس اجلاس میں شریک ہوئی۔
اجلاس کا آغاز مفتی صلاح الدین مظاہری کی تلاوت کلام اللہ سے اور حافظ ساجد صاحب کی نعت پاک سے ہوا اجلاس کو کامیاب بنانے میں مولانا فیروز عالم مبلغ امارت شرعیہ نے اہم کردار ادا کیا۔
