✒️سرفرازاحمدقاسمی،حیدرآباد
آج کافی دیر کے بعد پاسبان(حلقہ پاسبان علم وادب) کا دریچہ کھولا, تقریباً ڈھائی سو میسیج تھے, شروع میں لگا کہ کسی ناظم مدرسہ کی حجامت بن رہی ہے, مگر کون ہے, اور کیوں مشق ستم ہے؟, کچھ واضح نہیں ہوا, میسیج پڑھتا گیا, پرتیں کھلتی گئیں, اللہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائیں, مدرسوں اور دینی اداروں کی نظامت کاٹوں بھرا تاج ہے, کبھی ناظم کو خود مختار نہیں بننا چاہیے, بلا باؤچر کوئی رقم نہ خرچ ہو, آمد و صرف کی مکمل تفصیل ریکارڈ میں رکھنا لازم ہے, ایک خزانچی رکھیں, اکاؤنٹ جوائنٹ ہونا بہت زیادہ ضروری ہے, شوری کے رو برو ہرسال حساب و کتاب اور مدرسوں سے متعلق تفصیل پیش کیا جائے, اگر آپ کی زیر نظامت نسواں ہے, تو کبھی کسی سے بے حجاب نہ ملیں, حجاب میں بھی بات کرنا ہو تو آپ کے ساتھ ایک دو شخص ضرور ہوں, فتنوں کا زمانہ ہے, دین کی خدمت میں اللہ تعالیٰ نے لگا رکھا ہے, تو اس کا کرم ہے, اخلاص اور امانت داری کو پیش نظر رکھیں، مگر عزت و آبرو بہت بڑی چیز ہے, ایک بار چلی گئی تو پھر واپس نہیں آتی, اللہ تعالیٰ فیض عام کو ہرقسم کے شرور و فتن سے محفوظ فرمائیں.
ہر مدرسے اور اداروں میں مضبوط شوری ضروری ہے, بس لازم ہے کہ ارکان شوری صالح ہوں, امانت دار ہوں,علماء اور دینی مدارس کے خیرخواہ ہوں، شوری میں کچھ علماء کا ہونا بھی ضروری ہے, اگر کوئی ناظم مدرسے کے اصولوں کی مخالفت کرے, مجلس شوری کی ماتحتی قبول نہ کرے, تو اسے ہٹا دینا چاہیے, اور کسی دوسرے ناظم کا انتخاب کرنا چاہیے, اس طرح ایک شخص بر طرف ہوتا ہے, اگر وہ باصلاحیت ہوگا تو ان شاءاللہ ضائع نہیں ہوگا, کہیں لگ ہی جائے گا, لیکن اس طرح مدرسہ محفوظ رہے گا, ادارہ فرد سے کہیں زیادہ اہم ہوتاہے, ادارے کی بقا کی فکر زیادہ اہم ہے،
جس کے اندر قربانی کا جذبہ نہیں,اس کو ناظم بھول کر بھی نہیں بننا چاہیئے, نظامت عیش پرستی کے لئے نہیں ہے, بلکہ نظامت تو صرف قربانی کےلئے ہی ہے,
میرے یہاں دورہ تک کا نظام ہے, الحمدللہ آج تک کسی معلمہ یا کسی طالبہ سے بے حجابی کی نوبت نہیں آئی,ایک معلمہ کو ذمہ دار بنا دیا گیا ہے, ان کے توسط سے سارا نظام چلتا ہے, پورے پاسبان کو دعوت ہے,آئیں ہمارا نظام دیکھیں, غیر اقامتی بغیر کسی فیس کے ہمارا مدرسہ چل رہا ہے الحمد لله۔
جن افراد میں مسئولیت کا احساس نہیں ہوتا پتہ کرلیجئے وہ ضرور امانتوں میں خیانت کررہے ہونگے۔
اور جس سماج میں سوال کرنے کی اجازت نہیں ہوتی دراصل وہ سماج ذہنی غلام ہوتا ہے۔
جو معاشرہ قومی وملی اداروں کا احتساب نہیں کرتا وہ ادارے جمود و تعطل اور پھر بہت جلد زوال کا شکار ہوجاتے ہیں ایک دن ایسا بھی آتا ہےکہ وہ اپنی افادیت کھو دیتے ہیں عین ممکن ہے کہ وہ مضر بھی ثابت ہونے لگیں۔
جن اداروں میں دین کی خدمت بے دینی اور بےاصولی کے ساتھ ہوگی وہاں سے دین نہیں،بے دینی ہی پھیلے گی۔
اس لئے ہم سب کواس کا خیال رکھنا چاہئے، ملک کے حالات بہت تیزی سے تبدیل ہورہےہیں، آگے کیا ہوگا کچھ کہا نہیں جاسکتا، لہذا اگر آپ کسی ادارے کے ذمہ دارہیں تو وہاں کا نظام صاف وشفاف رکھیں، چوکنا رہیں، زمین وغیرہ کے کاغذات درست رکھیں،کوئی مسئلہ پیدا ہو تو اشتعال انگیزی کے بجائے حکمت عملی سے اسے دور کریں،تعلیمی معیار کو بہتر سے بہتر بنائیں، باصلاحت اساتذہ کی قدر کریں، انھیں آزادی کے ساتھ کام کرنے دیں، بلاضرورت ان کے کام میں رکاوٹ پیدا نہ کریں،طلباء کی سہولیات پرتوجہ دیں،انکی پریشانیوں کا خیال رکھیں، اساتذہ کو وقت پر تنخواہ دینے کی کوشش کریں،مدرسے کے محبین،معاونین اور محسنین کو ہمیشہ یاد رکھیں،جو لوگ اپنے محسنین کو بھلا دیتے ہیں انھیں بھی بھلا دیا جاتا ہے، مدرسے کی ہرطرح کی تعمیر و ترقی کےلئے اپنے دل کو کشادہ رکھیں،کھلے دل کے ساتھ فکرمند اور خیرخواہ حضرات سے وقتا فوقتا مشاورت ضرور کیا کریں، جن لوگوں کو ادارے سے دلچسپی نہ ہو انکو کبھی ذمہ دارنہ بنائیں،ایسے لوگوں سے فائدے کے بجائے ہمیشہ نقصان ہوتا ہے۔ اللہ تعالی ہم سبکی اور ہمارے اداروں کی حفاظت فرمائے آمین۔
(مضمون نگار کل ہند معاشرہ بچاؤ تحریک کے جنرل سکریٹری ہیں)
Sarfarazahmedqasmi@gmail.com
