بیدر۔ 14؍مارچ (محمدیوسف رحیم بیدری کاتجزیہ): محکمہ اقلیتی بہبود کے وزیر جناب بی زیڈ ضمیراحمد خان نے گذشتہ پانچ سال سے تعطل کاشکار کرناٹک اردو اکادمی کو11؍مارچ 2024؁ء کوتشکیل دے کرثابت کردیاکہ ریاست بھر میں وہ اردوادب کی ترقی وترویج چاہتے ہیںلیکن یہاں ایک بات سمجھ میں نہیں آرہی ہے کہ گلبرگہ شریف سے اکادمی میں کسی نمائندگی کے بغیر ریاست بھر میں اردو ادب کی ترقی وترویج کیسے ممکن ہے۔ گلبرگہ شریف وہ سرزمین ہے جہاں حضرت خواجہ بندہ نواز گیسودراز رحمتہ اللہ علیہ نے اردو زبان کے آغاز کیلئے کاوشیں کیں۔اسی کاوش کی برکت ہے کہ آج تک گلبرگہ شریف کو اردوادب کی سرزمین کہاجاتاہے۔ یہاں کے شعراء ، ادباء ، ناقدین ، حواشی نگار ،مزاح نویس ، خاکہ نگار اوراردوادب کے مؤرخین نے اردو ادب کو بامِ عروج پر پہنچانے میں اپنی عمریں کھپادیں ۔ایک ایسے وقت جب کہ جنوبی کرناٹک میں مسلم عورتوں سے حجاب کھنچ لئے جارہے ہیں ، اکادمی میں کسی برقعہ پوش خاتون کو نمائندگی نہیں دی گئی ہے ،نوجوان ادیب یا شاعر بھی موجودہ اکادمی میں نہیں ہیں۔ شعراء کی تعداد تین چار سے زائد نہیںہے یعنی صرف اور صرف 42%شاعروں کا ایک اکادمی میں ہوناحیران کرنے والی بات ہے۔ گلبرگہ شریف سے موجودہ ادب کے مستند ڈاکٹرس، معتبر مسلم اور غیر شعراء اور معذورافراد میں سے کسی ایک کوبھی اکادمی میں جگہ نہ دینا حیران کن بات ہے اورابتدائی اردو تہذیب کے علمبردار شہر کی نمائندگی کو عنقا کرنے کی ایک غیر شعوری کوشش ہی کہاجاسکتاہے۔سابق میںگلبرگہ جیسی اردو ادب کی زرخیز سرزمین سے ڈاکٹر عبدالوہاب عندلیب کرناٹکااردو اکادمی کے چیرمین رہے ہیں۔ اسی طرح گلبرگہ کے تعلقہ یادگیر(موجود ہ ضلع )  میں پیدا ہوئیںڈاکٹرفوزیہ چودھری کو بھی کرناٹک اردواکادمی کی چیرپرسن ہونے کاشرف حاصل رہاہے ، جو اکادمی کے پلیٹ فارم سے تقریر کرتے ہوئے اس جہاں سے رب کریم کے جواررحمت میں پہنچ گئیں۔ اسی سرزمین (یعنی گلبرگہ)کو نظرانداز کرناکسی بھی لحاظ سے مناسب نہیں ہے۔ پچھلے چار دِن سے یہی بات چرچا میں ہے کہ کرناٹک اردواکادمی میں بہت سارے اضلاع کو نمائندگی نہیںدی گئی ہے جن میں میسور ، شیموگہ ، بیجاپوراور گلبرگہ وغیرہ شامل ہیں۔خصوصیت کے ساتھ بیجاپور اور گلبرگہ(دونوں کے نئے نام وجئے پوراور کلبرگی) کوکرناٹک اردو اکادمی میں نمائندگی نہ دینا یہاں کی اردو سرگرمیوں سے انکارکے مترادف ہے۔
گلبرگہ یونیورسٹی کلبرگی میں اردو اورفارسی شعبہ موجودہے۔ خواجہ بندہ نواز یونیورسٹی میں بھی اردو اور فارسی شعبہ رکھاگیاہے۔سنٹرل یونیورسٹی کی شاخ گلبرگہ میں ہے۔ہزاروں طلبہ وطالبات اردو میڈیم سے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ انگریزی میڈیم اسکولوں میں بھی اردو بطور زبان پڑھائی جاتی ہے۔سرکاری اردو اسکولوں کے علاوہ الامین جیسامشہور ادارہ اپنے اردو اسکولوں کی کئی شاخیں گلبرگہ میں کامیابی سے چلاتاہے۔ انجمن ترقی اردو ہندکی سب سے معتبر اور مستحکم شاخ گلبرگہ ہی میں ہے۔ جولاکھوں کروڑوں کی جائیداد کے ساتھ گلبرگہ میں ادبی کام میں سرگرم عمل ہے جس کی لائبریری میں 5ہزار اردو کتابیں موجودہیں۔ شعراء اور ادباء میںڈاکٹر عبدالوہاب صاحب عندلیب ، پروفیسر حمیدسہروردی ، پروفیسر عبدالحمید اکبر ،پروفیسر عبدالرب استاد، جناب حامد اکمل ، ڈاکٹراکرم نقاش،ڈاکٹر حلیمہ فردوس(حال مقیم بنگلورو)، نورالدین نورغوری ، ڈاکٹر انیس صدیقی ، ڈاکٹر ماجد داغی ،ڈاکٹرغضنفر اقبال ،ڈاکٹر امجد جاوید ، جناب منظوروقار ، جناب عابد مرزا،محترمہ کوثرپروین ، ڈاکٹر اطہر معز ، ڈاکٹر منظوراحمددکنی ، ڈاکٹرعتیق اجمل وزیر،جناب حسن محمود،جناب راشد ریاض، جناب صادق کرمانی ،اورجناب عبدالقدیر توپچی وغیرہ ایسے کئی نام ہیں جنہیں ایک دنیا جانتی ہے ۔ان میں سے بیشترکی تخلیقات ہندوستان بھر کے رسالوں ( خصوصاً ادبی تحقیقی رسالوں)  میںشائع ہوتی رہتی ہیں۔ ریاست کے دیگرشعراء اور ادباء گلبرگہ کے چند معروف محققین ، ادبا اور شعراء سے ملاقات کرنے کو شرف سمجھتے ہیں۔ ایسے میں گلبرگہ سے کرناٹکااردواکادمی میں نمائندگی کو بالکل ہی  صفر کردینا کسی بھی حوالے سے درست نہیں ہے۔ اگر یہ معاملہ ایسا ہی رہا ، اس میں کوئی سدھار نہیں لایاگیاتو اس کااثر موجودہ پارلیمانی انتخابات پر پڑسکتاہے۔ گلبرگہ شہردراصل کانگریس پارٹی کے قومی صدرڈاکٹر ملیکارجن کھرگے کاپارلیمانی حلقہ ہے۔ اسی ضلع کا چیتاپو رملیکارجن کھرگے کے فرزند اورریاستی وزیر پریانک کھرگے کااسمبلی حلقہ ہے۔ اکادمی میں صفر نمائندگی کودیکھتے ہوئے پارلیمانی انتخابات میں کانگریس امیدوارکے حق میں ووٹنگ کم ہونے کے خدشے سے انکار نہیں کیاجاسکتا ۔
یہ بھی ہوسکتاہے کہ آئندہ مہینوں میں کرناٹک اردو اکادمی کاگلبرگہ میں بائیکاٹ دیکھنے کوملے۔ یاچیرمین اور اراکین کا گلبرگہ دورہ ہو اور اس میں ادیب اور شعراء کی شرکت حیرت انگیز طورپر کم سے کم ہو۔ یاپھر متنازعہ باتیں اخبارورسائل کی مسلسل زینت بننے لگیں گی ۔ اسلئے اس طرح کی صورتحال کاسامناکرنے کے بجائے پہلے ہی اس مسئلہ کوحل کرلیاجائے تو مناسب رہے گا۔ کیوں کہ دوکوآپٹ ممبرکااعلان نہیں کیاگیاہے۔ کل 15؍مارچ کو ہونے والی پہلی میٹنگ میں ان ممبران کے نام کااعلان ہوگا ، اس میٹنگ میں گلبرگہ کونمائندگی دے کر معاملہ کو خوش اسلوبی سے حل کرلینا بے حد ضروری ہے۔ آگے وزیر موصوف جانیں یاان کے قریبی اردو دوست افراد جانیں۔ ہمارا کام آنے والے حالات سے متعلق خدشات کااظہار کرناتھا۔ سوہم نے اپناکام انجام دے دیاہے۔ہماری یہی آرزو ہے کہ پانچ سال بعد اپنے ٹریک پر پہنچنے والی اکادمی کاکام سرعت کے ساتھ جاری وساری رہے ، کوئی رکاوٹ اس درمیان نہ آئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے