جگہ جگہ ایصال ثواب اور دعاء مغفرت کا اہتمام، ان کے مشن کو آگے بڑھانے کا کیا گیا عزم مصمم
سمریاواں، سنت کبیر نگر (رپورٹ :محمد رضوان ندوی): مشہور عارف و سالک مولانا حلیم اللہ جون پوری رحمۃ اللہ علیہ کے وفادار، جاں نثار اور قابل اعتبار خلیفہ مولانا شاہ منیر احمد کالینا کا سانحہ وفات علمی، دینی اور تربیتی حلقوں میں شدت کے ساتھ محسوس کیا گیا، جگہ جگہ ایصال ثواب اور دعاء مغفرت کا اہتمام کیا گیا اور تعزیتی نشستیں منعقد کی گئیں، رمضان المبارک کی مصروفیات کی وجہ سے بے شمار لوگوں نے سوشل میڈیا کے ذریعہ اپنے گہرے دکھ درد کا اظہار کیا.
مولانا شاہ منیر احمد کالینا رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ اور انھیں کے ہم نام مولانا منیر احمد ندوی مہتمم مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن سمریاواں سنت کبیر نگر (ملحقہ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ) نے ایک تعزیتی پیغام میں اپنے قلبی اضطراب اور تکلیف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا مرحوم کی سرپرستی میں سیکڑوں مدارس و مکاتب اپنا علمی اور تربیتی سفر اطمینان کے ساتھ طے کر رہے تھے، آج وہ عظیم سرپرستی سے محروم ہو گئے، ہزاروں خلفاء اور مریدین ملک کے مختلف گوشوں میں علم و عرفان کے مشعل جلائے ہوئے تھے آج اچانک ان کی لو کمزور ہو گئی، مولانا مرحوم کے اندر مردم سازی اور آدم گری کا نایاب ہنر تھا، چند لمحوں میں ان کی شخصیت کا اثر ملنے والے پر صاف دکھائی پڑنے لگتا تھا، وہ زاہد خشک اور صرف اپنی خانقاہ تک محدود رہنے والے عالم نہیں تھے بلکہ دوڑ دوڑ کر اور گلے لگا لگا کر پہلے علم کی ضرورت پیش کرتے پھر عمل کا تقاضا کرتے، بڑی مصروف اور فعال زندگی گزاری، ایک ایک لمحے کی قدر کی اور ہمیشہ ہر جگہ احساس دلاتے رہے کہ دنیا میں آنے والے شخص کے پاس تیاری کے لئے کام زیادہ ہے اور وقت بہت محدود، ان کی کمی مدتوں محسوس کی جائے گی ، ان کی وفات سے بہت بڑا خلا پیدا ہو گیا ہے، جس کا پورا ہونا قحط الرجال کے زمانے میں بہت مشکل ہے.
ایک اور خلیفہ مولانا محمود احمد قاسمی ندوی نے نہایت مایوسی، محرومی اور افسردگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم یتیم ہو گئے، مولانا مرحوم کی سرپرستی اور رہنمائی سے ہم نے بہت استفادہ کیا لیکن افادہ امید کے مطابق نہیں کر سکے، مسلسل ڈائلیسس جیسی تکلیفات کے ہوتے ہوئے خلق خدا تک اسلام اور ایمان کی بات پہونچانے کا ان کا قابل رشک جذبہ ان کو بہت خاص بنادیتا ہے، ایسا لگتا تھا جیسے ساری امت کا درد انھیں کے سینے میں بھر دیا گیا ہے، ہر جگہ جانے کے لئے تیار بلکہ خود منشا ظاہر کرتے کہ مجھے یہاں یہاں جانا ہے، ہر دن اپنے کام کی ترتیب بناتے اور نظام الاوقات پر پوری ایمان داری کے ساتھ عمل کرتے، کاہلی اور غفلت ان کو چھو کر نہیں گئی تھی، ہر کام کے لئے مقررہ وقت سے پہلے ہی تیار ملتے اور مقررہ وقت سے کسی صورت میں تجاوز نہ کرتے، وہ اس بات کی ہر موقع پر وکالت کرتے کہ
لمحے لمحے کو بچاؤ کہ یہی بہتر ہے
کچھ نہ کر پائے کبھی وقت گنوانے والے
فرائض، سنن اور نوافل کا کثرت سے اہتمام فرماتے، ہر کام میں سنت نبوی کی اتباع کو لازم سمجھتے، تلاوت اور دعاؤں کا التزام فرماتے، بغیر تلاوت کے شاید ہی کوئی دن گزرا ہو، تمام بزرگانِ دین کی خدمت میں حاضر ہوتے اور اس سے کسب فیض کرتے، کسی سے ذرہ برابر بدظنی کا اظہار کبھی زبان تک نہیں آیا، ہر لمحہ ہر آن صابر و شاکر، ایسا محسن و مربی اب کہاں سے ڈھونڈ کر لاؤں.
مدرسہ سیدنا ابی ہریرہ نواب گنج کے ناظم مولانا محمد رضوان ندوی نے کہا کہ اللہ کی توفیق بڑی انمول ہوتی ہے، کس نے سوچا تھا کہ سنت کبیر نگر کے ایک چھوٹے گاؤں چھتہی میں آزادی کے اگلے سال 1948 میں زندگی کا آغاز کرنے والا ایک بھولا بھالا بچہ ممبئی نگری کے کالینہ محلہ کو اپنی بے پناہ محنت، مجاہدہ، جفاکشی اور درد مندی سے شہرت کی بلندیوں تک پہونچا دے گا، وہ چاہتے تو اپنے کام کا میدان اپنے مانوس گاؤں اور محبوب شہر کو بنا لیتے لیکن ابتدا ہی سے انھوں نے اپنی چاہت کو اہل اللہ کی چاہت کے تابع بنا کر چلنے کو کامیابی کا مدار مقرر کیا اور آخر زندگی تک اسی طریقہ زندگی پر عمل پیرا رہے، انھوں نے مظاہر علوم سہارن پور سے فراغت کے بعد اپنے شیخ سے اگلے مرحلے کے لئے مشورہ کیا اور شیخ کی ہدایت پر 1971 میں ممبئی چلے آئے، کالینہ کی ایک چھوٹی سی مسجد میں امام ہو گئے، اہل محلہ غفلت، بے کاری اور شراب و کباب میں مست تھے، ان کو محبت اور ہمدردی سے جگایا، اور سمجھا بجھاکر انسان بنایا، مضافات میں سیکڑوں مکاتب کا نظام قائم کرکے نئی نسل کے ایمان و عقیدہ کی حفاظت کی عدیم المثال کوشش کی، نصف صدی تک امامت کے فرائض انجام دینا کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے، انھوں نے امامت کو اصلاح خلقت کا اہم ذریعہ بنایا، اپنی اصلاحی مجالس سے دور دراز کے لوگوں تک اسلام کا موثر پیغام پہنچایا.
مشہور ناظم اجلاس مولانا غفران احمد ندوی نے کہا کہ چھوٹوں کی حوصلہ افزائی سے وہ بہت جلد مانوس کر لیتے تھے گویا تپتے کھیت میں برسات ہو جاتی تھی اور پھر اس میں مضبوط ایمان اور درست عقیدہ کے بیج ڈال دیتے اور مسلسل دیکھ ریکھ فرماتے، نتیجہ میں پھل پھول کی کثرت ہوتی اور نسلوں کا مستقبل چمک اٹھتا، ان کی تواضع، انکساری اور انسانیت نوازی ہمیشہ وجہ قربت و محبت بن جاتی تھی، مخلص اور بے لوث اس قدر تھے کہ جو ایک مرتبہ قریب آتا ہمیشہ انھیں کا ہو کر رہ جاتا،آج ان کے مشن کو آگے بڑھانے کی سخت ضرورت ہے.
وہ واقعی اب ہمیں ملنے کے نہیں ہیں، نایاب ہیں.
اس کے علاوہ مفتی محمد عاصم ندوی، اعجاز کرخی، ظفیر علی کرخی، مولانا انظر قاسمی کرہی، ماسٹر سہیل احمد علیگ، مبشر حسین ندوی، مولانا محمد حسان ندوی، مولانا محمد احسان قاسمی ندوی، خدیجہ نسیم بانیہ کے این پبلک اسکول، مولانا ارشد قاسمی، مفتی نجم الہدی قاسمی رحیمی وغیرہ نے بھی اس عظیم حادثے اپنے گہرے دکھ درد کا اظہار کیا ہے.
