✍️:- غفران احمد ندوی

صدر مدرس مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن سمریاواں

دنیا ایک میدان جنگ ہے، علم، اخلاق اور عبادات و معاملات اسلحہ ہیں، لیکن دشمنوں کے حملوں سے بچنے کے لئے روزہ بہترین ڈھال ہے، میدان جنگ میں جتنا ضروری دشمنوں پر وقت پر حملہ ہے؛ اس سے کہیں زیادہ ضروری اپنی حفاظت ہے۔ کوئی دوسری عبادت روزہ کا بدل نہیں ہو سکتی، ہر عبادت کا کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ ثواب بھی موقع و محل کے اعتبار سے متعین ہے؛ لیکن روزہ کا ثواب غیر محدود ہے، نماز اپنے گھر پر پڑھیں اس کا ثواب الگ ہے، محلہ کی مسجد میں پڑھیں اس کا ثواب زیادہ ہوگا، مسجد نبوی اور مسجد حرام میں پڑھیں تو ثواب پچاس ہزار اور ایک لاکھ نماز کے برابر، کم اور زیادہ کی حد متعین ہے؛ لیکن روزہ کے ثواب کا کوئی اندازہ نہیں کر سکتا، اللہ تعالیٰ خوش ہو کر کتنا نواز دیں اس کی پیمائش کا دنیا میں کوئی پیمانہ نہیں ہے۔ ہجرت کےدوسرے سال رمضان المبارک کے مقدس روزے فرض کئے گئے، ارشاد ربانی ہے: ”اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے؛ تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ“
رمضان المبارک کا مقدس اور بابرکت مہینہ ہماری نظروں کے سامنے ہے، ہم عبادت و ریاضت کیلئے اپنے آپ کو تیار کرلیں، زیادہ سے زیادہ قرآن کریم کی تلاوت کریں، اور فرائض کے ساتھ ساتھ نوافل کی پابندی کریں، کیونکہ یہ مقدس مہینہ نیکیوں اور برکتوں والا مہینہ ہے، عظمت و سعادت اور نوازشوں سے بھرا ہوا ہے، اس میں انعامات اور مغفرت کی بارش ہوتی ہے، اس مہینے میں اللہ رب العزت ایمان والوں پر اپنی خاص توجہ فرماتے ہیں، اسی لئے ہر نیک اعمال کا اجر ستر گنا کر دیا جاتا ہے۔ اس ماہ میں جب ایمان اور احتساب کی شرط کے ساتھ روزہ رکھا جاتا ہے تو اس کی برکت سے پچھلی زندگی کے تمام صغیرہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں، اس ماہ میں ایک نیکی فرض کے برابر اور فرض؛ ستر فرائض کے برابر ہوجاتا ہے۔
رب کائنات نے رمضان المبارک کا روزہ فرض اور تراویح کو نفل (سنت مؤکدہ) بنایا ہے۔ یہ صبر کا مہینہ ہے، اور صبر کا بدلہ جنت ہے۔ یہ ہمدردی اور خیرخواہی کا مہینہ ہے، اس ماہ کا پہلا عشرہ رحمت، دوسرا مغفرت اور تیسرا جہنم سے آزادی کا ہے۔
اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ روزہ کا بدلہ اللہ تعالیٰ خود ہی ہے، اس کی رضا مل جانا بڑی بات ہے لیکن وہ مکمل طور پر ہمارا ہوجائے، اس سے بڑا انعام کوئی نہیں ہو سکتا.
یاد رکھیں! اگر کسی نے بغیر عذر اور بیماری کے رمضان کا ایک روزہ چھوڑدیا، خواہ وہ ساری زندگی روزہ رکھتا رہے، وہ اس کی تلافی نہیں کرسکتا۔
اس لئے رمضان کے روزوں کا خاص اہتمام کریں، کلمہ طیبہ لاإلٰہ إلا اللّٰہ اور دیگر مسنون ذکر واذکار کی کثرت کریں، زیادہ سے زیادہ اللہ سے اپنے گناھوں کی معافی مانگی جائے، پنج وقتہ نمازوں میں خاص طور پر استغفار کا اہتمام کیا جائے، اللہ کو راضی کرلیا جائے، تراویح کی پابندی کے ساتھ ساتھ اخیر عشرہ میں اعتکاف کیا جائے؛ تاکہ شب قدر سے محروم نہ رہیں۔
روزہ کی حالت میں تمام برائیوں سے بچنے کی حد درجہ کوشش کی جائے؛ تاکہ روزہ کا مقصد حاصل ہو جائے، تقویٰ کا لحاظ روزہ کا خاص مقصد ہے، وہ ہر حالت میں ملحوظ رہنا چاہئے۔
اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب رمضان آتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، اور ایک روایت میں ہے کہ جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، اور دوزخ کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں۔
یاد رکھیں! حضرت جبرئیل علیہ السلام نے ہلاکت کی دعا کی ہے اس شخص کیلئے؛ جس نے رمضان المبارک کا مقدس مہینہ پایا اور اپنی مغفرت نہ کرائی، اور اللہ کے رسول ﷺ نے اس پر آمین کہا ہے، اب کوتاہی کی کوئی گنجائش نہیں بچتی ہے، یعنی دوسرا راستہ ہے ہی نہیں۔ اپنی بخشش کرانے اور سابقہ گناہوں سے پاک صاف ہوجانے کے لئے رمضان سے بہتر کوئی موقع نہیں ہے، سنہری موقع اور سنہرا آفر، پھر تاخیر اور تساہلی کیسی؟ پہلے سے تیاری شروع کر دینی چاہئے۔
اس ماہ میں غریبوں، مسکینوں، یتیموں کا خاص خیال رکھا جائے، ضرورت مندوں کی ضرورت پوری کی جائے، رمضان المبارک کے روزے اسی مشق کے لئے ہیں کہ مومن اس دنیا میں پیٹ پالنے کے لئے نہیں ہے، اس کے سامنے بہت بڑا مقصد ہے، وہ دنیا کی لذتوں اور آلائشوں سے بچتے ہوئے اپنے رب کو اپنا بنانے کے لئے پیٹ، لذت، راحت اور اپنی بے شمار خواہشات اور تمناؤں کو چھوڑ سکتا ہے۔
دعا ہے کہ اللہ تعالی ہم سب کو رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں روزہ رکھنے، فرائض و نوافل کی پابندی ،قرآن کریم کی تلاوت، ذکر و اذکار، عبادت و ریاضت کرنے، اور ہزاروں راتوں سے افضل رات کی تلاش اور اس کی سچی قدردانی کی توفیق دے۔ آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے