امام علی فلاحی
عمار بن محبوب نے 4 سال کی چھوٹی سی عمر میں رمضان المبارک کا روزہ رکھ کر دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ جب حوصلہ مستحکم ہو تو کوئی کام مشکل نہیں ہوتا۔ معلوم ہو کہ عمار بن محبوب کا تعلق گونڈوی ممبئی سے ہے، عمار کے والد صاحب گونڈوی میں ہی لیڈیز کپڑوں کا کاروبار کرتے ہیں، عمار روزآنہ اپنے گھر والوں کے ساتھ سحری کے وقت بیدار ہوتا تھا اور والدین کے ساتھ سحری کرکے روزے رکھنے کی کوشش کرتا تھا لیکن دن کے آخیر حصہ میں بھوک کی تاب نہ لاکر روزہ توڑ دیا کرتا تھا لیکن جب اسے یہ پتہ چلا کہ دس اپریل کو آخری روزہ رکھا جائے گا تو اس نے بھی ٹھان لی کہ وہ آخری روزہ رکھ کر ہی رہے گا یہی وجہ رہی کے عمار بن محبوب نے رمضان المبارک کا آخری روزہ رکھ کر دنیا کو یہ پیغام دے دیا کہ جب حوصلہ مستحکم ہو تو کوئی کام مشکل نہیں ہوتا۔
قارئین سے گزارش کی ہے کہ عمار بن محبوب کے لئے دعا کریں کہ اللہ پاک عمار کے روزے کو شرف قبولیت بخشے اور دنیا کی ہر مہلک بیماری سے اسکی حفاظت کرے اور اسے دین و دنیا میں کامیابی عطا فرمائے۔ آمین۔
