ایم پی ٹکٹ مانگنے والے تین مسلمانوں میں سے کوئی بھی ساگرکھنڈرے کے ساتھ نظرنہیں آئے
بیدر۔ 16؍اپریل (محمدیوسف رحیم بیدری): آج 16؍اپریل بروزمنگل کانگریس پارٹی کے 26سالہ امیدوار ساگرایشورکھنڈرے نے اپنی والدہ ڈاکٹرگیتا کھنڈرے اور اپنے ماموں گنگادھر کے علاوہ ایم ایل سی اروندکمارارلی اور کانگریسی قائد جناب امرت راؤ چمکوڑے کے ساتھ ریٹرننگ آفس موقوعہ ڈپٹی کمشنر دفتربیدر پہنچ کر مبینہ طورپراپنا پرچہ ء نامزدگی داخل کیا ۔ وہ بی جے پی کے لگاتار دودفعہ کے امیدوار اور مرکزی وزیر بھگونت کھوبا کابیدر پارلیمانی نشست سے مقابلہ کرنے جارہے ہیں۔
اس موقع پر افسوس صرف اس بات کا ہے کہ ساگرکھنڈرے نے کسی مسلمان کانگریسی قائد کو ساتھ لیانہیں ۔ ساگرکھنڈرے کی والدہ جب موجودتھیں تو پھر ان کے ماموں گنگادھر کے بجائے وہ تین افراد جنہوں نے بیدر سے ایم پی ٹکٹ مانگاتھا، اورانہیں ٹکٹ نہیں ملا تھا (پھر تینوں کوکانگریس پارٹی نے آخر کیادے کر سمجھایا،یا۔۔۔۔آئندہ دینے کاوعدہ کیا، یہ راز منظر عام پرنہیں آسکاہے) ان تینوں (ڈاکٹر محمد ایازخان ، منان سیٹھ اور ڈاکٹر مقصودچندا) میں سے کسی ایک فرد کو بھی ساگرکھنڈرے ریٹرننگ آفیسرکے دفتراپنے ساتھ لے جا سکتے تھے تاکہ ان کے انتخابی مقابلے میں مسلمانوں کی گواہی بھی شامل ہوسکے۔ لیکن ساگرکھنڈرے نے ایسا نہیں کیا۔ اب وہ بیدر کے مسلم ووٹرس کو کیاجواب دیتے ہیں، اس کا انتظارکرنا ہوگا۔
