(عبدالمبین منصوری)

سدھارتھ نگر: شدید درجہ حرارت کی وجہ سے سخت دھوپ اور شدید گرمی کے لہر کی بناء پر اسکول دوپہر 1-2 بجے تک چلائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے اسکول کے بچے بالخصوص چھوٹے بچے دوپہر کے وقت جب سورج اپنی پوری شان و شوکت اور شباب پر ہوتا ہے اور درجہ حرارت 36-40 ڈگری سیلسیس کے بیچ میں ہوتا ہے تو بچے اسکول سے گھر آنے کو مجبور ہوتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں ان کی صحت پر منفی اثرات کا قوی امکان ہوتا ہے۔ اس لیے اسکول کا وقت صبح 7 بجے سے زیادہ سے زیادہ 11 بجے تک (نصف وقت پر) رکھا جا نا ضروری ہے بصورت دیگر اگر اسکول کے کسی طالب علم کی صحت پر کوئی منفی اثر پڑتا ہے تو اس کی تمام تر ذمہ داری ضلعی انتظامیہ اور اسکول محکمہ پر عائد ہوگی۔

مذکورہ شکوک کا اظہار ضلع کے تمام والدین اور سرپرستوں نے کیا ہے اور اس معاملے میں شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور اسکول مینیجر اور ڈائریکٹر بچوں کی صحت کے حوالے سے مکمل طور پر لاپرواہی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

ضلعی انتظامیہ اور اسکول انتظامیہ پر لاپرواہی کا الزام لگاتے ہوئے بچوں کے والدین اور سرپرستوں نے کہا ہے کہ انھیں طلباء کے مفادات اور صحت کی کوئی فکر نہیں ہے جو اپنے بچوں کو دوپہر کے درمیان اسکول سے گھر بھیج دیتے ہیں۔ ایسے میں ضلعی انتظامیہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ فوری طور پر اسکول انتظامیہ کو حکم جاری کرے کہ گرمیوں کے موسم میں اسکول صبح 7 بجے سے 11 بجے تک ہی نصف اوقات کے ساتھ چلائیں ورنہ کسی بھی طالب علم کے ساتھ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آسکتا ہے۔

بہت سے والدین جیسے رمضان علی، محمد یعقوب، عبدالمتین، عابد علی، استخار احمد، منظر ودود، محسن علی، صغیر احمد، رنکو سریواستو، محبوب عالم، نور عالم، توفیق احمد، حاجی نرمان علی وغیرہ نے ضلعی انتظامیہ سے اپیل کیا ہے کہ اسکول انتظامیہ گرمی کے موسم میں اسکول کے اوقات صبح 7 بجے سے 11 بجے تک تبدیل کرتے ہوئے نصف اوقات میں ہی اسکول میں تعلیم و تدریس کا کام انجام دے تاکہ کسی بھی طرح کے ناخوشگوار واقعہ سے بچوں کو محفوظ رکھا جاسکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے