بیدر۔ 3؍مئی (نامہ نگار): بیدر کے چند اردو صحافیوں نے اپنی جانب سے پریس نوٹ جاری کرکے ایک دردمندانہ اپیل کی ہے کہ جوافراد، تنظیمیں ، این جی اوز ، علماء وحفاظ وغیرہ یوٹیوب چینل والوں کو بلاکر پریس میٹ لے رہے ہیں ، ان سے ہماری درخواست ہے کہ وہ اپنی پریس میٹ کو Social Media Meet کہیں، Press Meet نہیں۔ سوشیل میڈیا میٹ کو پریس میٹ کہناحقائق کے بالکل خلاف ہے۔ یہ توایسی ہی بات ہوئی جیسے کمپاؤنڈر اور نرسوں سے اپناعلاج کرواکر سبھی کو یہ باورکرایاگیاہوکہ ہم نے ڈاکٹر سے علاج کروایاہے۔اگر کوئی جرح کرنے بیٹھ جائے تو بیزار ہوکریہی افراد اور این جی وازوالے کہہ دیں گے کہ سب ایک ہی ہوتے ہیں ، نام بدلا ہواہوتاہے۔جس سے علاج ہی تومقصود ہوتاہے۔ ایسا نہیں ہوتا۔ ہر چیز کااپنادائرہ اور مقام ہوتاہے۔سرکاری اسپتال اور خانگی اسپتال کے علاج میں فرق ہوتاہے۔ سرکاری اسکول اور خانگی اسکول کی پڑھائی میں فرق ہوتاہے ۔ لہٰذا اردو صحافیوں نے بیدر کے حفاظ یاعلماء کی جانب سے بلائی گئی ’’میٹ‘‘ ہویا شہر کے ایک نامور ادارے یا رکن اسمبلی اور وزیر کی جانب سے بلائی گئی میٹ ہو، اگر اس پریس میٹ میں اردو صحافی یا دیگر زبان کے صحافی نہیں آتے ہیں اور صرف اور صرف سوشیل میڈیائی افراد شریک ہوتے ہیں تو اس کو Social Media Meet کہیں۔ ان اردو صحافیوں نے کہا کہ آج کل سوشیل میڈیا کے افراد بھی اچھاکام کررہے ہیں۔ چندایک افراد کی تیز مزاجی کی وجہ سے سبھی کوبرا نہیں کہاجاسکتا۔

آخرمیں ہمارے مسلم معاشرے اور اردو بولنے والے معاشرے سے گزارش ہے کہ وہ خودبھی تحقیق کرلیاکریں کہ پریس میٹ کس طرح ہوئی؟ کون کون اردو صحافی اس پریس میٹ میں موجودتھے؟ صحافی کے بغیر کی جانے والی ملاقات کو پریس سے ملاقات ہرگز نہیں کہہ سکتے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے