ڈاکٹر سراج الدین ندویؔ
ایڈیٹر۔ماہنامہ اچھا ساتھی ۔بجنور

دنیا میں انسانی زندگی کے متعلق مختلف نظریات موجود ہیں۔کسی کے نزدیک یہ دنیا خود سے وجود میں آگئی اور خود سے ہی فنا ہوجائے گی ۔ کوئی کہتا ہے کہ انسان بھی دوسرے جانوروں کی طرح ایک جانور ہے اور اسے فطرت کے مطابق برہنہ رہنا چاہئے اور گھاس پھوس کھانا چاہئے ۔کوئی کہتا ہے کہ انسان مرکر فنا ہوجاتا ہے اور کبھی دوبارہ پیدا نہیں ہوگا اس کے برعکس کسی کا نظریہ ہے کہ انسان مرنے کے بعد اپنے کرموں کے مطابق دنیا میں واپس آئے گا۔کسی کے نزدیک انسان ایک شتر بے مہار ہے اور کوئی ’’بابربعیش کوش کہ دنیا دوبارہ نیست ‘‘کا قائل ہے ۔کسی نے کہا کہ انسان کے گناہوں کا کفارہ خدا کے بیٹے یسوع نے اپنی جان دے کر ادا کردیا ہے اس لیے انسان سے کسی قسم کا حساب نہیں ہوگا۔کسی نے خود کو خدا کا محبوب گردان کر اپنے لیے تمام خدائی اختیارات حاصل کرلیے ہیں ۔
ان تمام نظریات کے ساتھ ہی اسلام کا بھی ایک نظریہ ہے ۔دین اسلام کے مطابق دنیا کا وقوع حادثاتی نہیں بلکہ منصوبہ بند ی کے ساتھ ہوا ہے ۔اس کا ایک بنانے والا ہے ،وہی اس کا مدبرو منتظم ہے اور اسی کی حکمرانی کائنات پر قائم ہے ۔اسی نے اپنے منصوبہ کے تحت انسان کی تخلیق فرمائی۔ بقائے حیات اور نوع انسانی کی نشو نما کے لیے تمام ضروری اشیاء کا نظم کیا۔اسی کے ساتھ اس نے یہ بھی بتایا کہ زندگی کیسے گزارنا ہے ؟پتا نہیں لوگ کن اسباب کی بنا پر کہہ دہتے ہیں کہ سب کچھ اپنے آپ ہوگیا اوربندر نے ترقی کرکے انسان کی شکل اختیار کرلی ۔رات دن کی گردش اور موسموں کے باقاعدگی سے بدلنے میں انھیں کوئی منصوبہ بندی کیوں نہیں نظر آتی ؟آج بھی لاکھوں اور کروڑوں بندر ہیں ،ان میں سے کوئی انسان کیوں نہیں بن جاتا؟فطرت سے ہم آہنگی کا مطلب یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم برہنہ رہیں ،گھاس پھوس کھائیں ؟
دنیا میں جو مشینیں بنائی جاتی ہیں ،ان کے ساتھ ایک ’’گائڈبک‘‘بھی شائع کی جاتی ہے ،ضرورت پڑنے پر ان مشینوںکے چلانے کی ٹریننگ بھی دی جاتی ہے ۔پھر انسان جیسی محیر العقل تخلیق کے ساتھ اگر ایسا کیا گیا ہے تو حیرت کیوں ہے ؟اس بات کے تسلیم کرنے میں کیا امر مانع ہے کہ انسان کی رہنمائی کے لیے اس کے خالق نے ایک گائڈ بک اور مربی عطا کیا ہے ؟دنیا کی ہر شئی میں مقصد تلاش کرنے والے خود اپنے مقصد وجود پر غور کیوں نہیں کرتے ؟
انسان دراصل جواب دہی سے گھبراتا ہے ۔اس لیے اپنے حقوق و فرائض متعین کرنے سے بچتا ہے ۔وہ چاہتا ہے کہ اللہ کی عطا کردہ جملہ نعمتوں سے جس طرح چاہے لطف اٹھائے ۔اپنی خواہشات کی پیروی میں اپنے جیسے انسانوں کا گلا کاٹے ،انھیں اپنا غلام بنائے ۔انسان نے اپنی عیارانہ ذہنیت سے کام لے کر خدا کی آڑ میں بھی بہت سے سامان عیش حاصل کرلیے ۔خود کو اللہ کا چہیتا کہہ کر اور برہما کے منہ سے پیدا ہونے کا فریب دے کر باقی لوگوں سے اپنی خدمت کرائی ،ان سے نذریں اور نیازیں حاصل کیں ۔ایک کمہار اپنے بنائے ہوئے برتنوں میں کوئی بھید بھائو نہیں کرتا ،ایک ماں اپنی کمزور،فاتر العقل ،بد شکل اور اپاہج اولاد سے نفرت نہیں کرتی ،پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ خالق ارض و سما اپنی مخلوق میں صرف رنگ و نسل یا مقام پیدائش کے بنا پر کوئی بھید بھائو کرے ۔ہاں اگر کوئی تفریق ممکن ہے تو محبت اور بغاوت میں ہوسکتی ہے ۔ہر ادارہ اپنے فرماں برادر کارکنوں کی قدر کرتا ہے اور اپنے نکمے و نافرمان افراد سے کنارہ کشی اختیار کرتا ہے ،دنیا کی تمام حکومتیں اپنے وفاداروں کو اعزاز سے نوازتی ہیں اور غداروں کو سولی پر چڑھا دیتی ہیں ۔آخر اس اصول پر جب خالق کائنات عمل کرتا ہے تو انسان کی پیشانی پر شکن کیوں پڑجاتی ہے ؟
دین اسلام کے مطابق ہر انسان اللہ کا بندہ اور غلام ہے ۔اس پر اللہ کی اطاعت لازم ہے ۔اللہ نے اپنی کتاب ہدایت اور اپنے ہادی کے ذریعے جو قانون اور ہدایت نامہ اسے دیا ہے اس کے مطابق زندگی گزارنا فرض ہے ۔اللہ کی عطا کردہ نعمتوں سے اسے لطف اندوز ہونے کا پورا موقع ہے مگر انھیں حدود کے اندر جو ان نعمتوں کے خالق نے متعین فرمائی ہیں ۔اس کو دنیا میں ایک خاص مقصد کے لیے بھیجا گیا ہے ۔وہ مقصد یہ ہے کہ :’’میں نے جنوں اور انسانوں کو اپنی فرماں برداری کے لیے پیدا کیا ہے ۔‘‘ ۔کائنات میں ہر شئی اپنے خالق کی فرماں بردار ہے ۔فطرت سے ہم آہنگی کا صحیح مفہوم یہی ہے کہ انسان بھی اپنے خالق کے بنائے ہوئے قوانین پر عمل کرے ۔چاند،سورج ،زمین و آسمان سرمو اپنے مدار کی خلاف ورزی نہیں کرتے ۔یہاں تک جانور بھی جن سے بعض لوگوں نے برہنہ رہنا سیکھا ہے وہ بھی وہی چیزیں کھاتے ہیں جو ان کے لیے حلال ہے ،کسی بھینس ،گائے یا بکری کو آپ گوشت کھاتے ہوئے نہیں دیکھتے ،اسی طرح کسی شیر اور چیتے کو گھاس نہیں کھلائی جاتی ۔چڑیا گھروں تک میں ان کے لیے گوشت فراہم کیا جاتا ہے ۔کائنات کی کوئی شئی عیش و عشرت میں اس طرح مگن نہیں ہے جیسا کہ بعض انسانی گروہ عیاشی میں مست ہیں ۔
دین اسلام کے مطابق ہر نعمت کے بارے میں اللہ تعالیٰ سوال کرے گا ۔یہ بات اللہ نے اپنی کتاب ہدایت میں بیان فرمائی ہے ۔:’’تم لوگوں کو زیادہ سے زیادہ اور ایک دوسرے سے بڑھ کر دنیا حاصل کرنے کی دھن نے غفلت میں ڈال رکھا ہے.یہاں تک کہ (اسی فکر میں) تم لب گور تک پہنچ جاتے ہو۔ہرگز نہیں، عنقریب تم کو معلوم ہو جائے گا۔پھر (سن لو کہ) ہرگز نہیں، عنقریب تم کو معلوم ہو جائے گا۔ہرگز نہیں، اگر تم یقینی علم کی حیثیت سے (اِس روش کے انجام کو) جانتے ہوتے (تو تمہارا یہ طرز عمل نہ ہوتا)۔تم دوزخ دیکھ کر رہو گے۔پھر (سن لو کہ) تم بالکل یقین کے ساتھ اُسے دیکھ لو گے۔پھر ضرور اُس روز تم سے اِن نعمتوں کے بارے میں جواب طلبی کی جائے گی‘‘ (سورہ تکاثر)
اسی بات کی وضاحت نبی اکرم ﷺ نے ان الفاظ میں فرمائی ہے ۔:’’قیامت کے دن کسی شخص کے قدم اس وقت تک اپنی جگہ سے نہ ہٹیں گے جب تک کہ اس سے پوچھ نہ لیا جائے۔اس کی عمر کے بارے میں کہ اس نے اسے کن چیزوں میں ختم کیا؟ اس کے علم کے بارے میں کہ اس نے اسے کن چیزوں میں صرف کیا؟ اس کے مال کے بارے میں کہ اس نے اسے کہاں سے کمایا اور کہاں استعمال کیا؟ اور اس کے جسم کے بارے میں کہ اسے کن چیزوں میں کھپایا؟‘‘۔ (ترمذی)
اس حدیث کے مطابق حشر کے دن جو سوالات ایک انسان سے کیے جائیں گے وہ ان تمام نعمتوں پر محیط ہیں جو اس کو عطا کی گئی ہیں ۔ایک انسان کو عمر کی شکل میں زندگی کے مختلف مراحل ،بچپن ،جوانی اور بڑھاپا عطا کیے گئے ہیں ،مال کی شکل میں روپیہ پیسہ اور اس کے ذریعہ حاصل کی جانے والی تمام اشیاء اس میں شامل ہیں ،اسی طرح علم کی شکل میں اس کی جملہ صلاحیتیں جو اسے ودیعت کی گئی ہیں مراد ہیں جسم کی شکل میں سماعت و بصارت اور عقل و فہم کی نعمتوں سے سرفراز کیا گیا ہے۔زندگی ،مال ،علم اور جسم یہی چارچیزیں تو ہیں جن کے لیے انسان تگ و دو کرتا ہے اور یہی چار چیزیں اس کے لیے اشیائے صرف کی حیثیت رکھتی ہیں ۔
جو لوگ خدا کو نہیں مانتے ،یا جنھوں نے خدا کے دین میں تحریف کرکے اپنے لیے شفاعت و بخشش کے دروازے تلاش کرلیے ہیں ان کو تو چھوڑیئے لیکن جن لوگوں کو اللہ نے ایمان جیسی عظیم دولت سے نوازا ہے ،جو بحالت ہوش اپنے اسلام لانے کے مدعی ہیں ،جو حضرت محمد ﷺ سے اپنی محبت کا دم بھرتے ہیں اور قرآن کو سر ماتھے سے لگاتے ہیں ،جب ان کو دنیا کے عشرت کدوں میں مست دیکھا جاتا ہے ،جب ان کے اعمال آخرت فراموشی کی گواہی دیتے ہیں تب دل کو بہت تکلیف ہوتی ہے ۔ایک مومن کو معلوم ہے کہ دنیا اس کے لیے قید خانہ ہے اور کافر کے لیے جنت ہے ،(الدنیا سجن المومن و جنت الکافر۔مسلم)اسے بتادیا گیا ہے کہ دنیا بھلے ہی تمہارے پیدا کی گئی ہو لیکن تم آخرت کے لیے پیدا کیے گئے ہو،(الدنیا خلقت لکم وانکم خلقتم للآخرۃ ۔حدیث)اسے مختلف پیرایوں میں یہ بات ذہن نشین کرائی گئی ہے کہ جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہنے والاہے اس کے پاس جو کچھ ہے وہ فنا ہوجائے گا ۔(مَا عِنْدَکُمْ یَنْفَدُ وَ مَا عِنْدَ اللّٰہِ بَاقٍ۔النحل ۔96)اسے جنت کی حسین وادیوں کی سیر اسی لیے کرائی گئی ہے کہ وہ رب کی رضاکی خاطر دنیا میں عیش و عشرت اور خدا فراموشی کی زندگی نہ گزارے ۔
ایک مومن اللہ کا سپاہی ہے ،وہ ہمیشہ اسلام کی حدود کی نگرانی کرتا ہے ۔جس طرح ایک سپاہی محاذ جنگ پر رہ کر لاپرواہی اور بدمستیاں نہیں کرسکتااسے ضروریات زندگی بھی محدود مقدار میں فراہم کی جاتی ہیں، اسی طرح ایک مسلمان بھی کبھی اللہ سے غافل ہوکر زندگی نہیں گزارسکتا۔تعجب ہے کہ ہماری آنکھوں کے سامنے اللہ و رسول کا قانون پامال کیا جارہا ہے ،ہماری بہو بیٹیاں حیا اور حجاب کا مذاق اڑارہی ہیں ،ہمارے نوجوان سوشل میڈیا کی دنیا میں مست ہیں ،عبادت گاہیں خالی ہیں اور میکدوں پر قطار لگی ہے ،اس کے باوجود ہماری جبینوں پر شکن تک نہیں آتی ۔ہماری غیرت بیدار نہیں ہوتی ۔ہماری آنکھیں نم نہیں ہوتیں ۔کون جانتا ہے کہ کب کس کا وقت موعود آجائے اور پھر وہ حسرت سے کہے :’’ ”اے میرے رب، کیوں نہ تو نے مجھے تھوڑی سی مہلت اور دے دی کہ میں صدقہ دیتا اور صالح لوگوں میں شامل ہو جاتا”(المنافقون ۔ 10)

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے