محمدیوسف رحیم بیدری
بیدر، کرناٹک۔
۱۔ چالیس علی بابا
چالیس علی بابا تھے اور 1600چورتھے ۔ سبھی کسی نہ کسی بوتھ پر کھڑے ووٹنگ کرارہے تھے۔ عباس صاحب پولنگ بوتھ پہنچے ۔ انھوں نے ان چوروں کودیکھا۔اورپھر خود قطار میں کھڑے ہوگئے۔ اپنانمبر آنے پربوتھ میں گئے اور ووٹنگ کی اورجب واپس بوتھ سے نکل آئے۔ ایک چور نے ان سے پوچھ لیا’’کس کوووٹ ڈالا؟‘‘ انہیں غصہ بہت آیا۔ صرف اتنا کہہ کر نکل لئے کہ ’’تیرے کالے باس سے میں نے ووٹ ڈالنے کی رقم نہیں لی تھی ، جو تجھے بتاؤں کہ میں نے کس کو ووٹ ڈالاہے ؟‘‘
۲۔ گمراہ غوطہ خور
ٍٍ ’’ دیکھنا مسلسل دیکھنا اور دیکھتے ہی رہنا ۔ یہ عمل صریح گمراہی میں مبتلاکردے گا، اس قدر دیکھنے کے لئے محبوبہ بھی ناکافی ہوتی ہے ‘‘ استاد نے کہاتو طلبہ اور طالبات دونوں ہنسنے لگے ۔ استاد ببلو جانسن نے سنجیدگی سے مزید کہا’’اس میں ہنسنے والی بات نہیں ہے۔ جس کسی کو دیکھو، موبائل چلانے اور دیکھنے میں مشغول ہے ، اس طرح کی د یوانگی فرنگی محبوبہ کے لئے بھی نہیں ہوتی ‘‘َ۔ استاد ببلو جانسن خود عیسائی تھے لیکن انگریزوں کوناپسند کرتے تھے۔ اکیسویں صدی میں بھی انگریزوں سے نفرت جاری تھی۔
ایک طالبہ نے اٹھ کر کہا’’سر۔۔۔۔ محبوبہ کو اگر اس طرح دیکھاجائے تو وہ خدابن جائے ‘‘ استاد ببلو جانسن بولے ’’میں وہی تو کہہ رہاہوں کہ مسلسل دیکھتے رہنے کاعمل خدائی دیدکاطالب ہے۔ لہٰذا اس گمراہ کن غوطہ خوری کے عمل سے  باز آجاؤ ، ورنہ سرپر ہاتھ رکھ کرروؤگے ۔ اور یہ وہ سر ہوگاجس میں دماغ قطعی طورپرمردہ پڑا ہواہوگا‘‘طالبات ان کی بات سے متاثر نظر آرہی تھیں لیکن طلبہ ٹس سے مس نہیں ہورہے تھے ایسالگ رہاتھاجیسے  استاد ببلو جانسن انھیں کوئی سزا سنارہے ہوں۔
۳۔ مجھے میرابچہ چاہیے
اس کابچہ چوری ہوگیاتھا۔ ہردن وہ بچے کے غم میں پگھلتی جارہی تھی۔ شوہر یقین دلاتاکہ جانو ، اتنا مت سوچاکرو۔ وہ ڈیڑھ سال کا تھا۔ تم غم نہ کیاکرو۔اگر ہمارا بچہ نہ بھی ملے توہم دونوں۔۔۔۔ ‘‘
اس نے شوہر کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا،آگے بولنے نہیں دیا۔ شوہر کو بھی رونا آگیا۔ واقعی عورت کوئی بچہ پیداکرنے والی مشین تو ہے نہیںکہ اس کے بعد اور ایک بچہ پید اکرلیاجائے۔ اور باپ بھی کوئی بچے بانٹ دینے کے لئے سڑک پر بیٹھاہواتونہیں ہے۔ اس نے روتے روتے بیوی سے کہا’’سوری جانو، تمہارا دل بہلانے کے لئے میں غلط سوچ رہاتھا، مجھ میں بھی ہمت نہیں ہے کہ دوسرے بچوں کی آرزو کروں، مجھے میرابچہ چاہیے‘‘ رات کی سیاہی میں دونوں کی روتی ہوئی آوازوں نے ایک ارتعاش ساپیداکردیاتھا۔
۴۔ خوش رہنے والا
اسے باہردیش کاسفر درپیش تھا۔ اس نے اس کوکینسل کردیا۔وہاں رقم تھی ،آگے بڑھنے کے مواقع تھے اور آسائش تھی ۔اس نے اپنوں کے ساتھ رہنے کوترجیح دی ۔ آج اس کو اپناماضی یاد نہیں آتا۔ وہ اپنے ہی دیش میں بہت خوش ہے۔
۵۔ خاموش رہ جانے والے 
اس نے چن چن کر مسلمانوں کو گالیاں دیں اور مسلمان ان گالیوں کاجواب نہ دے سکے۔ آج انہیں ہرکوئی گالی ہی دیتاہے۔ وہ خاموش ہوجاتے ہیں۔ انہیں یقین ہے کہ وقت ان گالیوں کاجواب دے گا۔ اورہم سے بہتر دے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے