ابو احمد مہراج گنج

ایک سال پہلے جب یوپی کی سرکار نے مدراس اسلامیہ عربیہ کے سروے کا حکم جاری کیا تھا تو پہلے پہل ارباب مدارس نے بے چینی عدم اطمینان اور خدشات کا اظہار کیا اور پھر کچھ توقف تدبر کے بعد یہ طے پایا کہ نہیں حکومت جس طرح سے چاہے مدارس اسلامیہ عربیہ کا سروے کرا سکتی ہے اہل مدارس اس میں سرکار کا بھرپور تعاون کریں گے یہ بہت خوش آئند اور دور رس نتائج والا فیصلہ تھا اس کو چند لوگوں کے علاوہ ہر طرف سے پذیرائی حاصل ہوئی ۔
سروے کے دوران کچھ میڈیا رپورٹز میں کیمروں کے سامنے مدارس کے نصاب اور اس کے نظم و نسق پر سوالیہ نشان بھی لگائے گئے جس کو ارباب مدارس نے تسلیم بھی کیا اور مستقبل میں اس میں بہتری لانے کا وعدہ اور ارادہ بھی ظاہر کیا تھا۔
اب مدارس کا نیا تعلیمی سال شروع ہوچکا ہے لیکن ان وعدوں اور ارادوں کا کیا ہوا؟؟
کیا مدارس نے اپنے نصاب تعلیم میں گورنمنٹ اسکول کے معیار کے مطابق ردو بدل کر لیا ہے ۔یا مدارس نے اہنے ہوسٹل اور مطبخ کو گورنمنٹ کے نیشنل کمیشن آف چائلڈ رائٹ پروٹیکشن کے رہنما اصولوں کے مطابق بنالیا ہے ۔جواب یقیناَ یہی ہوگا کہ نہیں ابھی نہیں ۔
دراصل ہم اپنے مدارسِ اور مکاتب کو نہ تو حکومتی گائڈ لائن کے مطابق بنانے کی ضرورت محسوس کررہے ہیں اور نہ ہی چائلڈ رائٹس کمیشن کے رہنما خطوط پر ترتیب دے رہے ہیں ۔لیکن جب حکومتی ایجینسیوں کی طرف سے تحقیق و تفتیش کا اشارہ ملتا ہے تو ہم رونا دھونا شروع کر دیتے ہیں اور واویلا مچانے میں لمحہ بھر دیر نہیں کرتے ۔ دوسری طرف ہمارے مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے رہنما آئین ہند کی دفعات پر دفعات سنانے میں ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے میں لگ جاتے ہیں اور جیسے ہی تھوڑا وقت گزرتا ہے توجہ ہٹتی ہے سب ٹھنڈے بستے میں ڈال کر مستقبل کے خطروں سے بے پرواہ ہو کر خواب خرگوش میں مست ہو جاتے ہیں ۔
اس خرمستی کے عالم میں یہ سوال تو پوچھنا بنتا ہی ہے کہ کیا ہوا تیرا وعدہ؟ وہ قسم وہ ارادہ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے