انوار الحق قاسمی
یقینا اسرائیل ایک غاصب اور دہشت گرد ملک ہے۔ اور اس سے(کسی بھی درجے میں)یارانہ اور دوستانہ تعلقات رکھنے والے لوگ بھی دہشت گرد اور ظالم ہیں۔ اسرائیل اور حماس جنگ کے تناظر میں پاکستان کی عظیم علمی شخصیت مفتی محمد تقی عثمانی کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر خوب جم کر وائرل ہورہی ہے۔ جس میں مفتی صاحب دنیا بھر کے مسلمانوں سے حماس اور فلسطین کے مسلمانوں کے حق میں فتح و نصرت کی دعاؤں کی گزارش کر رہے ہیں:
”اگر اور کچھ ہمارے بس میں نہیں ہے: یعنی ہمارے پاس اسلحہ نہیں ہے کہ ہم ان کو پہنچا دیں،ہمارے پاس جانے کا راستہ نہیں ہے کہ ہم وہاں پر چلے جائیں ،ہمیں لڑنا نہیں آتاکہ جس کی وجہ سے ہم جاکر ان کی مدد کریں،تو کم ازکم ہم مالی مدد کے ساتھ ساتھ اتنا تو کرسکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سے رجوع کریں اور اللہ تعالیٰ سے ان کے لیے فتح و نصرت کی دعائیں کریں۔”
”یہ بس اللہ تبارک وتعالیٰ فضل وکرم ہی ہے کہ چھ مہینے سے زیادہ گزر چکے ہیں،مگر مجاہدین ڈٹے ہوئے ہیں اور اتنی بھاری جنگی طاقت کے مقابلے میں ڈٹ کر مقابلہ کررہے ہیں اور ابھی تک ان کو شکست نہیں دی جاسکی ہے،یہ اللہ تعالیٰ ہی کرارہاہے۔”
” ہم اللہ تعالیٰ سے تو مانگیں اور یہ مانگیں کہ اللہ تعالیٰ کسی طرح ہمارے مظلوم مسلمانوں کو اس مصیبت سے نجات عطا فرمادے۔اب مانگنے کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ ہر نماز کے بعد اور چلتے پھرتے دعا کریں ۔ اور اس کے لیے باضابطہ ہر مسلمان اپنے چوبیس گھنٹوں میں سے بس دس دس منٹ فلسطین والوں کے لیے وقف کردے۔ اس دس منٹ میں اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوکر یہ آیت کریمہ: لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ. پڑھے۔ حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں جاکر،جب مصیبت اور گھٹن کے وقت ،ان سے خلاصی اور چھٹکارے کے لیے یہ کلمات کہے تھے،تو قرآن کیا کہتاہے:فنَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ. تو ہم نے اسے اس گھٹن سے نجات دےدی۔ صرف اتناہی نہیں مطلب یہ ہے کہ مومنین کے ساتھ بھی ہم یہ معاملہ کرتے ہیں کہ اگر ہمیں اس طرح پکارے کوئی:یعنی گھٹن اور کرب و بے چینی کے وقت ہمیں مومنین پُکاریں گے ،تو ہم مومنین کو بھی اسی طرح غم سے نجات دیں گے،جس طرح ہم نے یونس علیہ السلام کو غم سے نجات دی۔”
” اگر یہ بھی نہیں کروگے ،تو مجھے ڈر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں جاکر پکڑ ہوگی کہ تمہاری آنکھوں کے سامنے مسلمانوں کا خون بہہ رہا تھا،قتل عام ہورہاتھا اور تمھیں اتنی بھی توفیق نہیں ہوئی کہ مجھے پکارتے۔ اس لیے ہر مسلمان اپنی جگہ پر دس منٹ نکال کر یہ آیت کریمہ: لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ. جتنی دفع ممکن ہو پڑھے اور پڑھنے کے بعد اللہ تعالٰی سے مانگے کہ اے اللہ!! ہمارا دل رو رہاہے،ہم بے چین ہیں،لیکن بےبس ہیں،آپ اپنے فضل وکرم سے راستے کھول دیجئے اور مسلمانوں کو اس ظلم و ستم سے نجات عطا فرما دیجئے اور حماس کے مجاہدین کو فتح مبین عطا فرما دیجئے۔”
یقینا جب اللہ کو سچے دل سے اور تڑپ کے ساتھ پکارا جاتا ہے،تو وہ کبھی رد نہیں کرتا۔ وكَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ.(اور ایسی ہی ہم نجات دیں گے مسلمانوں کو) یہ اس کا وعدہ ہے۔
