کیا ایگزٹ پول نتیجوں میں بدل جائیں گے؟

عبدالغفارصدیقی

انتخابات ختم ہوگئے ۔ایگزٹ پول کے مطابق ایک بار پھر بھاجپا الائنس یعنی این ڈی اے کی حکومت بننے جارہی ہے ۔یہ ایگزٹ پول ان لوگوں کے لیے چونکانے والے ہیں جو یہ امید لگارہے تھے کہ اس بار سرکار بدل جائے گی ۔ان کی دلیل تھی کہ حکومت کی پالیسیوں کی بنا پر عوام حکومت سے ناراض ہے ۔بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری حکومت کو لے ڈوبے گی ۔جمہوری اداروں میں حکومت کی تانا شاہی سے ناراض لوگ سرکار کے خلاف ووٹ کریں گے ۔مگر ایسا کچھ ہوتا نظر نہیں آرہا ہے ۔ایسا نہیں ہے کہ عوام حکومت سے ناراض نہیں ہے ؟ ایسا بھی نہیں ہے کہ موجودہ حکومت کے کارنامے واقعی ایسے ہیں کہ اسے سرآنکھوں پر بیٹھایا جائے ؟اس کے باوجود حکومت میں این ڈی اے کی تیسری بار واپسی بہت سے سوالات پیدا کرتی ہے ۔انتخابات کے پورے سفر میں انڈیا الائنس کا جوش و خروش قابل دید تھا ،حکمراں اتحاد کے بڑے بڑے لیڈرس کے چہروں پر ہوائیاں اڑرہی تھیں ،ہر مرحلہ کے بعد کانٹے کی ٹکر کی خبریں گردش کررہی تھیں لیکن ایگزٹ پول نے سب کچھ الٹ کر رکھ دیا ہے ۔یہاں کانٹے کی ٹکر جیسا کچھ بھی نہیں ہے ۔میڈیا کے تمام ادارے اور ذرائع ابلاغ کی جملہ ایجنسیاں این ڈی اے کو واضح اکثریت حاصل ہونے کی پیشین گوئی کررہی ہیں ۔آخر ایسا کیوں ہے؟
سب سے پہلے ہمیں بھارتیہ جنتا پارٹی کو حاصل ان وسائل پر غو رکرنا چاہئے جو انتخابات میں اس کی طاقت(strength) تھے ۔اس ضمن میں اس کی سب سے بڑی قوت اس کی مضبوط فکر اور واضح نصب العین ہے ۔میں اپنی کئی تحریروں میں اس بات کو واضح کرچکا ہوں کہ بی جے پی دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح کوئی سیاسی جماعت نہیں ہے ۔بلکہ اس کی اساس ایک مضبوط فکر پر ہے، یعنی اس کی ایک وچاردھارا ہے جس سے وہ سر مو انحراف نہیں کرتی ۔اس کی فکر کی خلاصہ یہ ہے۔ :’’ یہ ملک اصلاً ہندوئوں کا ہے ،یہاں کے غیر ہندوبھی اصلاً ہندو ہی ہیں کیوں کہ ان کے اسلاف ہندو تھے ،اس لیے ملک کے جملہ وسائل پر ہندوئوں کا حق ہے اگر کسی اور کو اس حق میں سے کچھ چاہئے تو اسے بھی ہندو ہونا پڑے گا ۔‘‘ یہ وچار دھارا ان کی کتابوں میں ،ان کی تقریروں میں آپ بخوبی پڑھ اور دیکھ سکتے ہیں ۔اپنی اس فکر کو پھیلانے کے لیے اس کے پاس بہت بڑی افرادی قوت ہے۔اس کے لیے اس نے ابتدائی تعلیم کے لیے 12000سے زائد اسکول قائم کیے،جس میں32ملین طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں۔گزشتہ ستر سال سے اس کا تعلیمی نظام قائم ہے ،ان کا سب سے پہلا سرسوتی ششو مندر 1952میں قائم کیا گیا تھا۔اس کے علاوہ اعلیٰ تعلیمی ادارے ہزاروں کی تعداد میں ہیں ،تمام اعلیٰ عہدوں کی سروسز کے لیے وہ کوچنگ دیتے ہیں ،یہی وجہ ہے کہ اس وقت تمام سرکاری و نیم سرکاری اداروں کی باگ ڈور ایسے آفیسران کے ہاتھوں میں جن کی تعلیم ودھیا بھارتی کے تحت ہوئی ہے ۔وچار دھارا کی اشاعت کے لیے اس کے پاس سنگھ کا پورا سنگٹھن ہے ،اس کی ذیلی تنظیمیں ہیںجن کی تعداد ایک سو سے زائدہے ۔یہ معاون تنظیمیں زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھتی ہیں ۔یہاں تک کہ مسلم راشٹریہ منچ بھی قائم ہے ۔سنگھ کے تمام اسکول ،اس میں پڑھانے والے اساتذہ ،اس کی ذیلی تنظیموں سے وابستہ افراداور خود آر ایس ایس کے ممبران و ارکان کی تعداد اس وقت کروڑوں میں ہے ۔ یہ افرادی قوت موجودہ حکومت کی ایک بڑی طاقت ہے ۔
اس کی دوسری بڑی طاقت خود برسر اقتدار ہونا ہے ۔جو جماعت حکومت میں ہوتی ہے ، اس کے ساتھ لاکھوں سرکاری ملازمین ہوتے ہیں ،جو سنگھ کی فکر سے متفق ہیں وہ تو اپنے نصب العین کے تحت حکومت کے معاون ہیںہی باقی لوگ حکومت کے ڈر ،خوف اور لالچ سے اس کے ہمنوا ہیں ۔بیشتر جمہوری ادارے سرکار کے اشاروں پر کام کررہے ہیں ،ماضی میںکانگریس کے ساتھ ایسا ہی تھا۔ای ڈی کا پورا کردار مشکوک ہے ۔کیا یہ حیرت کی بات نہیں کہ غبن اور گھوٹالوں کے تمام مقدمات اپوزیشن سے متعلق ہیں۔الیکٹرول بانڈز تک کا شور پانی کے بلبلہ کی طرح بیٹھ گیا ۔بظاہرکسان مخالف حکومت کے ساتھ کسانوں کی ایک جماعت نے گٹھ بندھن کرلیا ۔منتخب حکومت کے وزرائے اعلیٰ جیلوں میں بھیج دیے گئے ۔ایک ایک سرکاری ملازم اور ایک ایک سرکاری ادارہ یا تو حکومت کی عوام مخالف پالیسیوں پر خاموش رہا یا اس کی حمایت کرتا نظر آیا ۔اس کے خلاف اسے بولنے کی ہمت نہیں ہوئی ۔وہی خوف جو راج برطانیہ کے زمانے میں تھا ،وہی جو دربار اور سلطنت میں تھا بعینہٖ وہی خوف آج بھی ہے ۔یہ خوف اگر آئین اور قانون کا ہوتاتو کتنا اچھا تھا ۔
تیسری بڑی طاقت ’’چانکیہ نیتی ‘‘ہے ۔یعنی ہمیں انتخاب جیتنا ہے چاہے جو کرنا پڑے ۔’’سام دام دنڈ بھید‘‘چانکیہ نیتی کے چارزریں اصول ہیں ،یہی چاروں اصول ہماری موجودہ سرکار نے اپنائے ہیں ۔کچھ لوگوں کو پدم بھوشن دے کر عزت دے دی گئی ،میڈیا کودام دے کر خرید لیا گیا،بات نہ ماننے والوں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے کردیا گیا ،مسلمانوں کو جم کر گالیاں دی گئیں ،سماج میں نفرت کا زہر گھولا گیا ،عوامی ایشوز کو پس پشت رکھا گیا ۔مذہب کو بھی ایک ’’ٹول ‘‘ کے طور پر استعمال کیا گیا ۔الیکشن کمیشن سب کچھ دیکھتا رہا ،اس کے دربار میں سیکڑوں درخواستیں جمع ہوئیں مگر اس نے ردی کی ٹوکری میں ڈال دیں ۔ای وی ایم کا کھیل دیکھنا ابھی باقی ہے ۔یہ ایگزٹ پول بھی ایک چال معلوم پڑتی ہے ۔این ڈی اے کی پہلے ہی واضح اکثریت دکھادی جائے تاکہ ووٹ شماری میں بے ایمانی کے مواقع رہیں اور کوئی شور بھی نہ مچاسکے ۔ایسا لگتا ہے کہ چھ ماہ پہلے جو کچھ ہمسایہ ملک میں ہوا وہی سب کچھ یہاں دہرایا جائے گا ۔
اپوزیشن نے بلا شبہ بہت محنت کی ۔اس کی ریلیوں میں بھی کافی لوگ نظر آئے ،اس کے کارکنان میں بھی جوش دیکھا گیا،اس کے حق میں فضا سازگار نظر آئی ۔اس کے باوجود اس کو گزشتہ انتخاب کے مقابلہ کم سیٹیں مل رہی ہیں یہ عجوبہ نہیں تو اور کیا ہے ۔البتہ اس موقع پر اپوزشن جماعتوں کو یہ سوچنا ہوگا کہ صرف اتحاد سے کام نہیں چلنے والا ۔جب تک عوام کا ذہن نہیں بنے گا ،جب تک عوام پر تنظیمی گرفت مضبوط نہیں ہوگی اور ملک کا بااثر طبقہ اس کے ساتھ نہیں آئے گا،جب تک آپ عوام کے دلوں میں نہیں اتریں گے تب تک شاید موجودہ اقتدار کو چیلینج کرنا مشکل ہوگا ۔حکمراں جماعت کی منفی فکر کے مقابلہ باقی جماعتوں کو بھی اپنی فکر واضح کرنا ہوگی ۔آدھا تیتر آدھا بٹیرسے کام نہیں چلے گا ۔حکمراں جماعت کی پشت پر جس طرح سنگھ کا ہاتھ ہے انھیں بھی اپنا سماجی سنگٹھن بنانا ہوگا ۔جس طرح انھوں نے اپنا تعلیمی نظام کھڑا کیا ہے اور عوام کو خود سے وابستہ کیا ہے باقی جماعتوں کو بھی کرنا ہوگا ۔ان کے ممبران کی جیسی وفاداری پیدا کرنا ہوگی ۔بھانمتی کا کنبہ منظم طاقت کو قیامت تک شکست نہیں دے سکتا ۔اس کے لیے زمین پر کام کرنا پڑے گا اور محنت کرنا ہوگی ۔صرف انتخابات کے موقع پر ادھورے من سے جمع ہوجانا اور ہیلی کاپٹر کے ذریعہ عوام تک پہنچنے سے بات نہیں بننے والی ۔
بہر حال مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔دنیا میں یہ کھیل ہر جگہ کھیلا جاتا ہے ۔اس سے کوئی ملک اچھوتا نہیں ہے ۔آج نہیں تو کل آپ کو موقع پھرملے گا ۔مگر اس کے لیے آج سے ہی اپنی کمزوریوں کو دور کیجیے ۔سوال یہ نہیں ہے کہ آپ بہت نیک اور ایمان دار ہیں اور آپ کے پیش نظر ملک کی بھلائی ہے اور آپ کا مخالف اس کے برعکس ہے ۔یہ میدان جنگ ہے یہاں کے فیصلے نیت کے ساتھ ساتھ عملی اقدامات کی بنا پر بھی ہوتے ہیں ۔اول تو خود آپ کی نیت صاف اور واضح نہیں ہے اور دوسرے یہ کہ جنگ جیتنے کے لیے صرف مالا ہی نہیں جپنا ہے بلکہ بھالا اور گدا بھی اٹھانا ہے ۔ہر جماعت میں کچھ اچھے لوگ ہوتے ہیں ۔ان اچھے لوگوں کو یکجا ہوکر کوئی تحریک شروع کرنا ہوگی ۔ اس کے لیے جان مال کی قربانی دینا ہوگی ۔اخلاص اور نیک نیتی سے اگر کوئی کوشش کی جائے گی تو آسمان والا بھی آپ کا ساتھ دے گا۔
اس موقع پر مسلمانوں سے یہ عرض کرنا ہے کہ ان کی واضح اکثریت نے انڈیا اتحاد کا ساتھ دے کر ووٹ دینے کی حد تک اپنا حق ادا کردیا ہے ْالبتہ انھوں نے گزشتہ دس سال میں اپنے اندر ایسی کوئی تبدیلی پیدا نہیں کی کہ آسمان والا ان پر رحم فرماتا ۔موجودہ حکومت آپ پر سے اس وقت تک نہیں ٹلنے والی جب تک کہ آپ اپنے اصل مقام پر واپس نہیں آجاتے ۔آپ ایک داعی گروہ ہیں ،اس زمین پر خدا کے پیغام کے امین ہیں ۔آخری نبی کے جانشین ہیں اور خدا کے پسندیدہ دین کے نمائندے ہیں ۔اللہ کی ان امانتوں یعنی اللہ کی کتاب اور اللہ کے رسول کے ساتھ جو سلوک آپ فرمائیں گے اسی کے مطابق اللہ فیصلہ فرمائے گا ۔کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ ہماری اکثریت چاہے خواص کی ہو یا عوام کی اللہ کے دین پر ظلم کررہی ہے ۔وہی بے دینی اور بے حیائی جو دس سال پہلے تھی آج بھی ہے بلکہ اس میں مزید اضافہ ہوا ہے ۔پھر مسلمان کس بنا پر تبدیلی کے منتظر ہیں ۔جو قوم اللہ کے ساتھ نا انصافی کرتی ہے اس قوم پر ظالم حکمراں مسلط کیے جاتے ہیں ۔ابھی بھی وقت ہے کہ مسلمان اللہ کی بارگاہ میں اپنا سر تسلیم خم کردیں ۔اس کی جناب میں توبہ کریں ۔نیزخیر امت اور داعی گروہ ہونے کا ثبوت دیں ۔ایگزٹ پول کے مطابق موجودہ حکومت ہی اقتدار میں رہے گی ۔اس لیے بہت ضروری ہے کہ ہم اپنے پائے ثبات میں استقامت پیدا کریں اور کسی بھی طرح کسی سیاسی جماعت کے آلہ کار نہ بنیں ۔قانون اور آئین کی پابندی کریں،خود کو معاشی اور تعلیمی سطح پر مضبوط کریں۔اللہ کے نیک بندے ٹھوکر کھاکرگرتے تو ہیں لیکن فوراً سنبھل جاتے ہیں ۔حکمراں اتحاد کی اقتدار میں واپسی مسلمانوں اور اپوزیشن جماعتوں کے لیے خود احتسابی کا موقع فراہم کرے گی اور توفیقِ خود احتسابی بھی اللہ کا بڑا انعام ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے