مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ وجھارکھنڈ
دار العلوم دیو بند کے سابق معین المدرس ، مدرسہ امدادیہ موریا سرائے کیلا کھرساواں اور مئو بھنڈ موسیٰ بنی، جھارکھنڈ کے سابق استاذ؛ بلکہ استاذ الاساتذہ ، آم بگان مسجدجمشید پور کے سابق امام جمشید پور جمعیت علماء کے سابق صدر متبحر عالم دین، نامور خطیب، مفسر قرآن ،بڑے عامل ، مولانا امداد اللہ قاسمی ساکن موڑیا، سرائے کیلا کھرساواں جھارکھنڈ کا مختصر علالت کے بعد اپنے گھر پر انتقال ہو گیا، ان کے صاحب زادہ مفتی اسعد اللہ کے مطابق رات کے بارہ بجے وہ بستر پر دراز ہوئے، تین بجے شب اٹھ کر مسواک کیا، وضوکیا،تہجد کی نماز پڑھی، مصلیٰ پربیٹھ کر ذکر کرتے رہے تا آں کہ فجر کی اذان ہو گئی، گھر پر ہی فجر کی نماز ادا کی، تنفس زوروں پر تھی، بے چینی بڑھتی جا رہی تھی ، مصلیٰ پر ہی لٹا دیا گیا ، گو انہوں نے ڈاکٹر کے یہاں لیجانے سے منع کر دیا تھا، لیکن پھر بھی بچوں نے فکر کی، جب تک ڈاکٹر آئے ، ان کی روح پرواز کر چکی تھی، اسے کہتے ہیں، طاب حیا ومات طیبا۔
جنازہ کی نماز ان کے بڑے صاحب زادے مفتی محمداسعد اللہ قاسمی مہتمم جامعہ عبد اللہ بن مسعود کلام نگر، قدم ڈیہا کھرساواں، نے پڑھائی اور سینکڑوں معتقدین ، متوسلین ، مخلصین، عزیز واقربا اور عام مسلمانوں کی معیت میں جنازہ مقامی قبرستان پہونچا اور تدفین عمل میں آئی، پس ماندگان میں اہلیہ ، سات لڑکے مفتی اسعد اللہ قاسمی، مولانا احمد اللہ ندوی، مولانا محمد اللہ ، محمد حبیب اللہ، محمد وصی اللہ، محمد ولی اللہ ، محمد نصیب اللہ اور دو لڑکی عائشہ خاتون وصدیقہ کو چھوڑا۔
مولانا محمد امداد اللہ قاسمی بن قربان علی اپنے آبائی گاؤں موڑیا جھارکھنڈ میں جنوری1959ء میں پیدا ہوئے، چھ سال کی عمر میں گاؤں کے مکتب میں بٹھائے گیے اور مولانا عبد الباری سے قاعدہ بغدادی ناظرہ قرآن ، دینیات ، میزان ومنشعب گلستاں، بوستاں تک کی تعلیم حاصل کی ، جس کا دورانیہ چھ سال کا رہا ، 1971ء میں دار العلوم محلہ شاہ بہلول سہارن پور میں داخلہ لیا، یہ زمانہ مولانا اسلام الحق مظاہری کی نظامت کا تھا، یہاں ہدایۃ النحو تک کی تعلیم پائی ، 1973ء میں مدرسہ خلیلیہ شاخ مظاہر علوم سہارنپور چلے آئے اور صرف ایک سال یہاں تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1974ء میں مدرسہ مظاہر علوم سہارن پور میں داخلہ لے لیا، یہ شرح جامی کا سال تھا، مولانا کی طبیعت خراب ہو گئی ، گھر لوٹ آئے اور 1976ء میں شرح جامی کے سال کا اعادہ کیا، 1977ء میں اعلیٰ تعلیم کے لیے دار العلوم دیو بند آگیے، اور مختلف سالوں کی تکمیل کے بعد 1980ء میں مولانا نصیر احمد خان صاحب سے بخاری شریف پڑھ کر سند فراغ حاصل کیا، یہ صد سالہ کا سال تھا، اس لیے تحریری امتحان کے بجائے تقریری امتحان ہی پر اکتفا کیا گیا تھا، 1981ء میں تکمیل ادب کیا اور سالانہ امتحان میں پہلی پوزیشن حاصل کی ، 1982ء کا سال تخصص فی الادب کا تھا۔ 1983ء میں امتحان میں اچھے نمبرات اور اساتذہ میں ذہین طلبہ کے طور پر جانے کی وجہ سے معین المدرس کے طور پر دا رالعلوم دیو بند میں بحالی عمل میں آئی۔
معین المدرس کی مدت ختم ہونے کے بعد 1985ء تا 1987ء (نصف) جامعہ علوم الاسلامیہ پلانیر میں تدریسی خدمات سے منسلک رہے،پھر مدرسہ امدادیہ موریا میں1987ء سے 1995ء تک درس دیتے رہے ، اس دوران ہدایہ بھی زیر درس رہی 1995ء 1997ء تک مئو بھنڈا، موسیٰ بنی جھارکھنڈ میں درس دیتے رہے،1997ء میں ہی آم بگان مسجدساکچی، جمشید پور کے امام وخطیب رہے، یہ سلسلہ 2005ء تک جاری رہا،یہاں وہ پابندی سے تفسیر قرآن کرتے اور بڑی تعداد مسلمانوں کی ان کے درس سے مستفید ہوا کرتی تھی ، بعد نماز ظہر ایک فقہی مسئلہ ہر روز بیان کرتے، جس سے عوام الناس کو بڑا فائدہ پہونچتا، ان کے قرآن کریم پڑھنے کا انداز بھی بڑا پُر کشش تھا۔
جمعہ کی اردو تقریر کے ساتھ مولانا مختلف پروگرام میں بحیثیت خطیب بلائے جاتے، پر مغز ، مدلل اور مؤثر تقریر کرتے ، مولانا کے اندر جرأت اظہار بھی تھی اور مضبوط بلند آہنگ آوا ز بھی، اس لیے مجلس پر چھا جاتے، آم بگان میدان کی اس تقریر کی بازگشت آج بھی لوگوں کے کانوں میں گونج رہی ہے ، جو انہوں نے اشفاق صاحب سابق ڈی اس پی کی دعوت پر اس وقت کے جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ارجن منڈا کے سامنے ’’مساوات انسانی‘‘ کے عنوان پر کی تھی۔
مولانا کا ملنے جلنے کا انداز بھی نرالا تھا، ہونٹوں پر مسکراہٹ ، چہرہ پر بشاشت اور پیشانی خندہ ہوا کرتی تھی، جس کی وجہ سے ملنے والا ان سے قربت محسوس کرتا اور متاثر ہو کر مجلس سے اٹھتا، مولانا کی شہرت ایک اچھے عامل کی بھی تھی ، ان کے پاس ہر قسم کے جنات مؤکل کی صورت میں موجود تھے، جن سے وہ جنات اور آسیب، سحر اور مختلف امراض کے دور کروانے میں مدد لیا کرتے تھے، وہ اپنے مریضوں کا جناتوں کے ڈاکٹر سے علاج بھی کروادیا کرتے تھے۔
مولانا سے میری ملاقات بہت نہیں تھی، حالاں کہ ان کی اور میری تعلیم کا دورانیہ دار العلوم دیو بند میں ایک ہی تھا، میں ان سے دو سال جونیر تھا، انہوں نے 1980ء میں دورہ پڑھا تھا اور میں نے 1982ء میں ، وہ تکمیل ادب اور تخصص فی الادب کی طرف گیے اور میں نے 1982ء میں دور ہ کرنے کے بعد دار العلوم سے افتا کی تکمیل کی، وہ معین المدرس بن گیے اور میں جمعیۃ الطلبہ کا جنرل سکریٹری ، سجاد لائبریری اور نادیۃ الاصلاح کا صدر منتخب ہو گیا ، اس طرح دا رالعلوم میں ان کی مضبوط علمی پوزیشن تھی، دورہ میں میری بھی پوزیشن آئی، لیکن شہرت جمعیۃالطلبہ کے جنرل سکریٹری کی حیثیت سے رہی، جب سمت سفر مختلف ہو تو ملاقات کے امکانات کم ہو جاتے ہیں، اس لیے مجھے دیو بند میں ان سے کوئی ملاقات یاد نہیں، البتہ وہ مجھے جنرل سکریٹری کی حیثیت سے جانتے پہچانتے تھے، جس کا اظہار انہوں نے 7؍ مارچ 2023ء کو اپنے گھر پر میری ملاقات کے موقع سے کیا تھا، ایک ملاقات آم بگان مسجدساکچی جمشیدپور کی میں ان کے دورا مامت کی بھی یاد ہے، میں ان دنوں مدرسہ احمدیہ ابا بکر پور چھوڑ کر امارت شرعیہ آگیا تھا، اس موقع سے انہوں نے بعد نماز عصر آم بگان مسجد میں میری تقریر بھی کرائی تھی ۔
مولا نا مرحوم نے تحفظ سنت اور رد بدعات کے حوالہ سے بھی بڑا کام کیا، جس سے اس علاقہ میں سنتوں پر عمل کا مزاج بنا اور بدعات کا زور کم ہوا۔
گذشتہ 7؍ مارچ2023ء کو ان کے صاحب زادہ مفتی اسعد اللہ قاسمی نے جامعہ عبد اللہ بن مسعود کلام نگر میں جلسہ دستار بندی رکھا تھا، مولانا مرحوم نے صاحب زادہ کو ہدایت دی تھی کہ پہلے مجھے گھرلایا جائے، ناشتہ وہیں کروں اورپھر جلسہ کے اعتبار سے جلسہ گاہ پہونچا دیا جائے، چنانچہ ایسا ہی ہوا، کئی گھنٹے مولانا کے ساتھ گذرے ماضی کے اوراق الٹے تو الٹتے چلے گیے ۔
یقینا مولانا کی شخصیت ہمہ جہت تھی، علم ، تقویٰ، طہارت ، صلاحیت اور صالحیت میں اپنے ہم عصروں میںوہ ممتاز تھے، مولانا کا وصال بڑا ملی ، علمی خسارہ ہے، اللہ سے دعا ہے کہ وہ مولانا کی مغفرت فرمائے، ان کے پس ماندگان کو صبر جمیل اور ان کے اخلاف کو اس راہ پر چلائے جو اللہ کی مرضیات کے مطابق ہو ۔ آمین یا رب العالمین
