وقت کسی کا سگا نہیں ہوتا
(محمد قاسم ٹانڈؔوی=09319019005)
اٹھارویں لوک سبھا کے نتائج گرچہ فائنلی طور پر تو ابھی منظر عام پر نہیں آئے ہیں؛ مگر آنے والے کل نتائج کا خلاصہ اور پیغام یہ ہے کہ مذکورہ نتائج جہاں عوام کے حق میں حوصلہ بخش اور راحت و سکون کے باعث بن کر ظاہر ہوئے ہیں، وہیں یہ نتائج خواص (حکومت کا خواب و خیال ذہن و فکر میں سجونے والوں) کےلیے فکر و تشویش میں مبتلا کر دینے اور مستقبل میں اس ملک کے تخت و تاج کے مالک و وارث کونسے گروپ (این ڈی اے یا انڈیا الائنس) کے افراد ہوں گے؛ یہ فکر لاحق کر دینے والے ضرور ہیں؟ کیوں کہ دونوں ہی خیمے فی الحال اکثریت حاصل کرنے میں ناکام ہیں اور حکومت سازی کےلیے متعینہ عدد سے محروم ہیں، ایسے میں ضرورت ہے دونوں خیموں کو بہار کے وزیر اعلی "نتیش کمار” جو حلقۂ سیاست میں ‘پلٹو رام’ سے مشہور ہیں، جو ہمیشہ حالات کے دوش پر سوار رہ کر اپنا سیاسی سفر طے کرنے اور اقتدار کی کرسی کا خود کو حق دار بنا کر رکھتے ہیں۔ دوسرے آندھرا پردیش کے وزیر اعلی "چندرا بابو نائیڈو” ہیں، یہ بھی میدان سیاست کے ماہرین اور حکومت کے ساز و پرداخت کے شناور استادوں میں شمار کئے جاتے ہیں۔
بہر حال ابھی بھی یہ کہنا مشکل ہےکہ:
"ملک کا اگلا حکم راں کون ہوگا اور گو مگو کی اس چراگاہ میں رواں دواں سیاست کا یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھ کر اپنے سواروں کو اقتدار کی مسند پر براجمان کرےگا؛ یہ سب تو وقت طے کرےگا؛ البتہ سیاسی گلیاروں کے ماہرین اور حکومت سازی کے کارندوں کی مانیں تو مطلع اتنا ضرور صاف ہوتا نظر آ رہا ہے کہ انڈیا الائنس (کانگریس اور اس کے اتحادی پارٹنر) اگر نتیش اینڈ نائیڈو کمپنی کو منانے اور اپنی ٹیم میں شامل و داخل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو ملک کا اگلا نیا حکم راں اور سربراہ یقینا ملک و عوام کا خیرخواہ اور مفید و نفع بخش ثابت ہوگا اور جو وزراء و حکم راں گذشتہ دس سالوں سے اقتدار میں رہ کر ملک و آئین کی بنیادوں کو کھوکلا اور عوام مخالف ماحول کو تیار کرنے میں مست و مگن تھے؛ ان سب کےلیے تازیانہ عبرت ثابت ہوں گے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ وقت کسی کا سگا نہیں ہوتا؛ بلکہ وقت کا بھی ایک وقت ہوتا ہے، جو اپنا سب کچھ دے کر بہت کچھ وصول کرنا بھی جانتا ہے۔ چنانچہ جب یہ کسی پر مہربان ہوتا ہے تو مال و دولت، مقام و منصب، عزت و وقار، حکومت و اقتدار اور اپنے بیگانوں کی تمیز مٹا کر مکمل طور پر خود کو حوالہ کر دیتا ہے اور پھر مہلت و فرصت کے لمحات دینے کے بعد آزمائش کرتا ہے کہ کون اس کا مثبت و تعمیری استعمال کرکے اس کو شاد و آباد کرتا ہے اور کون منفی و تخریبی کاموں میں اس کو استعمال کرکے ضائع و برباد کرتا ہے۔ گذشتہ دس سالوں سے ملک کے عوام کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہو چلا تھا کہ:
"ہم دو مرتبہ کافی اچھے سلیقے و قرینے سے ٹھگے جا چکے ہیں، اور یہ کہ منصب و اقتدار کی کرسی و ملکی خزانوں کی کنجیاں جن کو ہم نے اپنا حقیقی بادشاہ سمجھ کر حوالے کی تھیں؛ یقینا وہ سب اس کے اہل ثابت نہیں ہوئے؛ لہذا اب کی بار ان نااہل لوگوں سے اقتدار کی منتقلی ہونی چاہئے اور ملک کی باگ ڈور ایسے ہاتھوں میں جانی چاہئے جو اس کے اہل ہوں اور وہ اور ان کے فیصلے ملک و عوام کے حق میں بہتر و سود مند ثابت ہونے والے ہوں۔ انہیں وجوہات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ملک بھر سے ہر خطہ کے عوام نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا اور کھوکھلے نعروں، فرضی دعووں اور بےمعنی گفتگو کرنے والوں کی بات پر دھیان نہ دے کر یکطرفہ ووٹنگ کے مشن کو بہت حد تک کامیاب بنایا اور اقتدار کے نشہ میں چور رہ کر جو لوگ وقت و بےوقت بکواس کرنے اور اپنی لن ترانی ہانک کر عوام کی توجہ حقیقی مدعوں اور پیش آمدہ مسائل سے بھٹکانے میں لگے ہوئے تھے ان سب کو یہ میسج و پیغام دینے میں کامیاب ہوئے ہیں کہ:
"اگر آپ بادشاہ ہو سکتے ہو تو ہم بادشاہ گر ہیں؛ اس لیے تمہاری بادشاہت کی بقا ہمارے مسائل کے حل اور تمہارے اقتدار کا تحفظ ہمارے خوابوں کی تکمیل میں پوشیدہ ہے۔”
صرف زبانی خرچ کرنے، ایران و تران کی کہانیاں سنانے یا "میک ان انڈیا اور شائننگ انڈیا” جیسے سنہری خواب دکھانے سے کوئی مستقل حکومت و اقتدار کا حق دار بن کر نہیں رہ سکتا اور جو لوگ بھی اس وہم و گمان میں رہتے ہیں ان کےلیے کسی شاعر نے کیا ہی خوب کہا ہےکہ
یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا
یہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجے میں
