محمدیوسف رحیم بیدری ، بیدر، کرناٹک۔

۱۔ ناسمجھی
با توں باتوں میں ان کے سوال کاجواب دیتے ہوئے میں نے کہا’’آپ میری تعریف کریں اسلئے فون کیاتھا‘‘
وہ ہنس کر خاموش ہوگئے۔ اس کے بعد جگہ جگہ تعریف کے بجائے تنقید سننے کوملی۔’’ ایسا کیسے کہاجاسکتاہے کہ میری تعریف کریں ؟راست طورپر تعریف کرنے کے لئے کہنادراصل تعریف کے بھوکے ہونا ہے، یہ عمل اسلام کے عین مطابق نہیں ہے ‘‘
میں نے انہیں کچھ دن بعد فون کیااور کہا’’آپ سے زیادہ بے وقوف روئے زمین پر کوئی نہیں ہے، آپ مذاق کو بھی سنجیدگی سے لیتے ہیں ‘‘ اور فون بند کردیا۔

۲۔پڑھنے بیٹھ جائیں
مولانا فرقا ن کاظمی بولے ’’نیند کوسوں دور ہوتو اس کو کوسنانہیں چاہیے‘‘طلبہ نے پوچھا’’پھر؟‘‘ مولانا کاظمی نے جواب دِیا’’نیندکوسوں دور ہوتو پڑھنے بیٹھ جا ئیں پھر دیکھیں وہ حرافہ آپ کے قریب دس منٹ کے اندر آجائے گی ‘‘سبھی طلبہ نے ہاتھ اٹھاکر کہا’’حضرت ، آپ درست کہہ رہے ہیں ‘‘
مولانا بولے ’’اس لئے سبھی طلبہ نیند کو تعلیم کی دشمن سمجھیں ،اگر طلبہ سوجائیں گے تو سوتے ہی رہ جائیں گے ۔دنیا بھی ہاتھ سے جائے گی اور آخرت بھی‘‘
مولانا فرقان کاظمی جادوگر استاد تھے۔ آج وہ دنیا سے گزر گئے تو احساس ہواکہ استاد کی باتوں میں زندگی ہوتی ہے ۔ ان باتوں کے ذریعہ زندگی کی آنکھیں کھل سکتی ہیں۔فی الحال وہ آنکھیں روتے ہوئے اپنے مرحوم استاد کو خراج پیش کررہی ہیں۔

۳۔ راج کرنے والے
’’مسئلہ اٹک جائے تو شرفاء اپنے درمیان تیسرے کو لے آتے ہیں تاکہ وہ حل ہوجائے اور جب دوبدمعاشوں کے درمیان ان کااپنامسئلہ حل نہ ہوکر اٹک جاتاہے تووہ میڈیا(پریس) تک پہنچ جاتے ہیں۔ ایسے بدمعاشوں کو سیاست دان کہتے ہیں ‘‘پنڈت مدن نے کہاتو راج چترویدی بولے
’’دیکھئے ، یہ کہنادرست نہیں ہے۔ سیاست دان بدمعاش کیوں کرہوئے ؟، آج کون بدمعاش نہیں ہے ۔ معمولی ٹھیلہ بنڈی والا بھی ترازو کے باٹ میں ہیراپھیری کرتاہے۔ اس طرح وہ بھی تو بدمعاش ہوا‘‘
پنڈت مدن نے کہا’’چلئے ہم مان لیتے ہیں کہ سبھی بدمعاش ہیں۔ ان بدمعاشوں میں جو بڑے بدمعاش ہیں ،وہ اپنامعاملہ میڈیا (پریس) تک لے جاتے ہیں ‘‘ اس پر راج چترویدی نے عجیب لیکن پتہ کی بات کہی ، وہ بولے ’’پنڈت جی ، ایسا نہ کہئے، جو بڑے بدمعاش ہوتے ہیںدراصل وہ اپنامسئلہ عوام کامسئلہ بتاکرپورے ملک پر راج کرتے ہیں، سمجھے ‘‘
پنڈت مدن سرہلاکر رہ گئے ۔ گویا انہیں راج چترویدی کی بات سے اتفاق ہے۔

۴۔ نصیحت سب کے لئے
پشپا دیشپانڈے لیکچرر نے کہا’’طعنے دینا ،طنز کرنا آسان ہے۔ یودھا بن کر لڑائی لڑنا مشکل ۔ لہٰذا نیٹ میں جوطلبہ ناکام ہوئے ہیں انھیں ٹارگیٹ نہ کریں ‘‘ان کے ساتھی لیکچرر امام خورجی نے کہا’’طعنہ اور طنز سے بچنا ٹھیک ہے لیکن کیاوالدین نیٹ میں ناکام اپنے بچوں کو نصیحت بھی نہ کریں ؟‘‘
پشپا دیشپانڈے نے جلدی سے کہا’’نصیحت تو ہر کسی کوماننی چاہیے ۔ نیٹ کے ناکام بچوں تک یہ محدود نہیں ہے۔ راہ چلتے بھی کوئی نصیحت کردے اوروہ نصیحت واجب ہوتو اس پر عمل کرنا چاہیے ‘‘
پشپا کی باتوں پر جب تک کوئی ٹوک نہ دیں وہ اپنی بات کی تصحیح نہیں کرتے۔ ویسے دل کے بہت اچھے لیکچرر ہیں۔

۵۔فکرِ صحت
’’میںاپنی صحت کے لئے کیاکروں؟‘‘اس نے پوچھاتو میں نے ہنس کر کہا’’صحت کی فکر چھوڑ و ، آخرت کی فکر کرو ‘‘
اُس نے اجاڑ منہ بناکر کہا’’آخرت کاسوچ کر ہی تو صحت متاثر ہورہی ہے‘‘پھر کان کے قریب اپنامنہ لاکر اس نے مجھ سے کہا’’ یار ، میں دنیا سے کوچ کرنے سے ڈرتاہوں ، اس ڈر پر کس طرح قابوپایاجائے ؟‘‘
اس کی بات پر میں ہنس نہیں سکا۔واقعی میں بھی دنیا سے جانا نہیں چاہتا۔ حالاں کہ وہاں بے شمار نعمتیں ہیں جن میں اللہ تعالیٰ اور نبی کریم ﷺ دونوں کادیدار شامل ہے۔دنیاکی محبت میں اس قدر گرفتار ہیں ہم کہ اُخروی محبت ہیچ ہوگئی ہے۔ مولیٰ ہم پر رحم کر ،تیری اورآخرت کی بابت ہمارے الجھے ہوئے معاملات سلجھادے مولیٰ، ہمارے ذہن ودِل دُنیا کی محبت سے پاک فرمادے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے