ابو احمد مہراج گنج

آجکل اگر آپ مسلم آبادی والے محلوں میں نکلیں گے تو وہاں گلی نکڑ اور راستوں پر مقبوض دیواروں کے ساۓ میں بیٹھے گھومتے پھرتے ایں قدر و آں قدر بکروں ، دنبوں اور کٹروں کے ساتھ کھیلتے بچوں کو دیکھ کر آپ کو سمجھتے دیر نہیں لگے گی عیدقربان کی آمد آمد ہے اور مسلمانوں کے محلوں میں اس کی تیاریاں زور و شور سے چل رہی ہے ۔کوئی اپنے بکرے کی خوبصورتی بیان کرتا ہوا نظر آرہا ہے تو کوئی اپنے بکرے کی سادگی پر نازاں وفرحاں ہے۔کسی کو اپنے بھیڑ کی مست اڑیل چال پسند ہے تو کوئی اپنے چالیس کلو والے بکرے کے جلد کی رنگت اور چمک دمک پر فدا ہے۔کوئی کوئی تو بکروں کے ساتھ سیلفی اور گروپ فوٹو گیلری بھی بنانے میں مست ہیں ۔مگر افسوس کہ کسی کو نہ عشرہ ذی الحجہ کی فضیلت معلوم ہے۔اور نہ ہی اس عشرے میں کئے جانے والے اعمال کی خبر ہے۔

اگر کسی کو فکر ہے تو قصاب کی پری بکنگ کی ،تاکہ اس کی قربانی میں دیر نہ ہوجاے۔کسی کو فکر ہے تو چاقو اور چھری پر تیز دھار لگوانے کی تاکہ گوشت کے ٹکڑے بنانے میں کوئی پریشانی نہ ہو ۔کسی کو فکر ہے تو اپنے گوشت کریشر مشین کے درستگی کی ۔اور کسی کو فکر ہے تو سینک کباب اور فرائی کے لیے استعمال ہونے عمدہ مصالحہ جات کی۔مگر ہم میں سے کسی کو یہ فکر نہیں کہ ہماری قربانی اللہ کے حضور میں قبول ہوجاے۔کسی کو کوئی فکر نہیں کہ ہماری قربانی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سنت کے مطابق ہوجاۓ۔کسی کو یہ بھی فکر نہیں کہ ہماری قربانی ابراہیم خلیل اللہ کی یاد اور اسمعیل ذبیح اللہ علیھما الصلاۃ والسلام کے تسلیم ورضا کویاد دلانے والی بن جائے ۔

ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو اپنے جانور کو راہ خدا میں قربان کرنے سے پہلے اپنے اندر سے کبر و نخوت ۔حسدو لالچ بدگمانی وبدکرداری ۔بدعملی و بد چلنی کی عادت کو اپنے رب کی رضاکے لئے قربان کرنے والے ہیں ۔

ہم سے کتنے لوگ ہیں جو خیانت کی خباثت سے اپنے دامن کو پاک کرنے والے ہیں ۔ہم سے کتنے لوگ ہیں جو غصب اور جبریہ قبضے کو اللہ کی رضا کے لیے قربان کرنے والے ہیں ۔ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو پڑوسی کی بدخواہی اس کی بیٹی اور بیوی پر سے نگاہ بد کو ہمیشہ ہمیش کے لیے ختم کرنے والے ہیں ۔

اگر ہم یہ سب قربان نہیں کرسکتے تو ہم قربانی کے حقیقی مقصد قربانی کی اس روح، ایمان کی اس کیفیت اور خالق کائنات کے ساتھ محبت اور وفاداری کی اس شان کو پیدا کرنا ہے جس کا مظاہرہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کیا تھا جس کو ہرگز حاصل نہیں کرسکتے ۔

قربانی کا مقصد اللہ کا تقرب، اس کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنا ہے۔اگرہم قربانی پیش کرکے بھی تسلیم ورضا کے پیکر نہیں ہوتے خالق ومالک کے ساتھ وفاداری نہیں کرتے اس کے احکامات پر عمل نہیں کرتے تو ہم دکھاوا کرنے والے ہیں اور قربانی کے نام پر اپنے اندر گھسے ہوئے فسق وفساد کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں ۔

اللہ پاک ہم سب کو سچی اور حقیقی قربانی پیش کرنے والا بنادے آمین ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے