سہارنپور(احمد رضا): مرکز میں مودی کی زیر قیادت تیسری مرتبہ سرکار بنجانے کے بعد سے مسلم افراد پر جنلیوا حملوں میں شدت دیکھنے کو مل رہی ہے چاہے ہماچل پردیش کے ناہن شہر میں جاوید کی دکان پر لوٹ پاٹ کرنے اور دوسرے مقامی مسلمانوں کو خوف زدہ کرنے کے لئے لگاتار پا نچ گھنٹوں تک جے شری رام کے نعرے بلند کرنا اسکے علاوہ علیگڑھ میں رات کو گیارہ بجے کے قریب فرید کو ما مو بھانجا علاقہ میں ہندو افرادکے ذریعہ تب تک مارنا کہ جب تک اسکا دم نہی نکلا یہ ایسی شرمنا ک اور سنگیں وارداتیں ہیں کہ جن پر احتجاج بلند کرنا ہم سب کی بڑی زمہ داری ہے یہ ظلم و ستم مسلسل بڑھتا ہی جارہا ہے! وہ مسلمان جو خود کو آسمان سے اترا ہوا سمجھتے ہیں مستی میں ڈوبے ہوئے ہیں انکو قوم کی حالت زار پر ذرا بھی دکھ نہی اسی لئے تو سبھی آرام کے ساتھ گھروں میں منھ چھپائے ہوئے بیٹھے ہیں ظلم اور فرعونیت کے خلاف آواز بلند کرنے کی ان کی ہمت تک ختم ہو چکی ہے شاید ان سبھی موقع پرست اور مفا د پرستوں کے ضمیروں کو زنگ لگ گیا ہے یعنی ان حضرا ت میں سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ تک کہنے کی ہمت باقی نہیں بچی ہے!
ملک کی سطح پر سالہا سال سے عوامی بیداری اور عوامی بہبود گی کے کام انجام دینے میں سرگرم سوشل تنظیم "راشٹریہ سماجک کاریہ کرتا تنظیم” کے کنوینر محمد آفاق نے آج ایک بیان اخبارات کو جاری کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کے کونہ کونہ میں "ان دنوں عام مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ بھی ہو رہا ہے، جس طرح مسلم آثار مٹائے جار ہے اور عبادت گاہیں غیر قانونی قرار دے کر بلڈوز کی جارہی ہیں” اس سے انہیں یوں لگتا ہے جیسے کچھ لینا دینا نہیں ہے وہ مست رہتے ہوئے پیزے اور برگر کھانے میں مست ہیں، باف نیکر پہن کر موج کرتے ہوئے گھوم رہے ہیں، ان نوجوانوں کے ماں باپ سوسائٹی میں اپنے سیکولر مزاج کے لئے سرا ہے جا رہے ہیں، شاید آگے چل کر ایسے افراد کے کسی بت کے آگے سجدہ ریز ہونے میں کوئی عار نہیں ہے ، موقع بموقع یہ ماتھے پر ٹیکہ لگائے ہوئے بڑے فخر سے نمائش کرتے نظر آتے ہیں،لیکن کیا یہ سب انہیں بچا سکے گا؟ بچا سکے گا“ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان کی زندگیاں خطرے میں ہیں ، اس کامطلب یہ ہے کہ کیا یہ آنے والے دنوں میں آج ہی کی طرح زندگی گزار سکیں گے؟ لگتا نہیں ہے۔ جو حالات نظر آ رہے ہیں اگر ان پر اگر غور کیا جائے تو خوب اندازہ ہو جاتا ہے کہ آنے والے دنوں میں مسلم افراد کے لئے ملک کی زمین کو مزید تنگ کر دیا جائیگا کیا لوگوں نے نہیں دیکھا کہ ایودھیا میں رام مندر کے افتتاح میں صوفی شریک تھے، اور باریش مسلمانوں کاایک پورا ٹولہ، جس میں مسلم خواتین بھی تھیں، بعد میں رام مندر کی زیارت کے لیے پہنچا تھا! اس ٹولے میں علماءبھی تھے۔ امت کا ایک اچھا خاصا طبقہ ان نام نہاد صوفیوں اور ہندتو سے وابستہ علماء کے جال میں پھنسا ہوا ہے، اوردھیرے دھیرے ارتداد کی طرف گامزن ہے۔ بہت منصوبہ بندی سے جال بچھایا گیا ہے، لوگوں کو پھانسا گیا ہے،دولت اور شہرت اور اپس سے بھی بڑھ کر یہ لالچ دی گئی ہے کہ و کرو تم پر کوئی حرف نہیں آئے گا، بس ان مسلمانوں کو گمراہ کر دو۔ اور ایک طبقہ وہ ہے ال میں نہیں پھنسا ہے، اس میں بھی صوفی ہیں، علمائے دین، مسلم دانشور اور مسلم سیاست داں ہیں لیکن ان کا یہ قصور ہے کہ یہ چوہے کی طرح بل میں دبکے ہوئے بیٹھے ہیں، یہ قوم کی قیادت سے جی چرا رہے ہیں ، اس لیے کہ انہیں اپنی جان اور مال کا خوف ہے۔ جب آخرت میں ان سے یہ سوال پوچھا جائے گا کہ قوم کی نیا جب ڈبوئی جا رہی تھی، عزت اور جان و مال سے کھلواڑ کیا جا رہا تھا ، تب کیوں تم نے قیادت کا حق ادا نہیں کیا؟ تب یہ کیا جواب دیں گے ! یہاں، اس دنیا میں، سوال کرنا اور جواب دیناوجواب پانا مشکل ہو سکتا ہے ناممکن نہیں، لیکن وہاں سوال کر لیا گیا تو جواب دینا ممکن نہیں ہوگا۔ مسجدوں اورمدرسوں کے ساتھ شریعت کو خطرہ ہے، حرام کاری پر مجبور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، حرام کھانے پر اور حلال چھوڑنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، اب تو شہریت پر بھی آنچ آنے لگی ہے لیکن مسلمان، کیا عام اور کیا خاص، کیا مستی میں ڈوبے اور کیا قدرے سنجیدہ، سب زبانوں پر تالے ڈالے بیٹھے ہیں ! یہ خاموشی کسی کام نہیں آئے گی!
