مہراج گنج (نمائندہ) 22/جون: مہراج گنج کی مشہور و معروف دینی و علمی درسگاہ جامعہ عربیہ تاج العلوم لچھمی پور خاص کے مہتمم حضرت الحاج مولانا محمد اقبال فائق قاسمی رحمت اللہ علیہ کے وفات حسرت آیات پر تعزیت کیلئے ان کے شاگردوں (ابنائے قدیم جامعہ تاج العلوم) اور محبین کے ذریعہ کل بروز جمعہ بعد نمازِ مغرب ایک تعزیتی اجلاس کا انعقاد کیا گیا ۔جس میں مولانا مرحوم کے سینکڑوں شاگردوں نے شریک ہوکر مولانا محمد اقبال فائق قاسمی کو خراج تحسین پیش کیا اور مولانا مرحوم کے تئیں اپنے تعلقات اور عقیدت و محبت کا اظہار کیا۔ واضح ہو کہ مولانا محمد اقبال فائق قاسمی صاحب رحمہ اللہ کا انتقال 10/ذی الحجہ مطابق 17/جون 2024 کو نماز عشاء کچھ لمحے قبل ہوا تھا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

اس تعزیتی پروگرام کا آغاز جامعہ تاج العلوم کے استاذ قاری عبد الغفار صاحب کے پرسوز مترنم تلاوت قرآن پاک سے ہوا ۔ اس کے بعد مولانا مرحوم کے ایک شاگرد حافظ ضیاء الحق نے مولانا قاسمی کی لکھی ہوئی نعت پاک:

چشم نم رنج و غم گھاؤ سینے میں ہے ۔

لطف کچھ اب نہیں میرے جینے میں ہے۔

غیر کی رہبری کا عبث آسرا۔

ہادی دین دوراں مدینے میں ہے۔

پیش کرنے کی سعادت حاصل کی ۔

اس کے بعد مولانا فائق قاسمی مرحوم کے لائق و فائق شاگرد مولانا رحمت اللہ قاسمی مدنی نے مولانا مرحوم کے حیات و خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے مولانا سے اپنے تعلقات اور مولانا کی پدرانہ شفقتوں اور اپنی تعلیم و تربیت کے حوالے سے اپنی بات کو بڑے ہی دلکش انداز میں پیش کیا ۔

اس کے بعد مولانا فائق مرحوم کے دوسرے قابل ذکر شاگرد حضرت مولانا ضیاء الحق صاحب قاسمی مہتمم جامعہ ابوبکر صدیق ترکلوا تیواری نے بھی مولانا مرحوم کی قابل رشک زندگی کے مختلف پہلو اجاگر کئے۔ ان کے بعد مولانا مرحوم کے شاگرد مولانا اقرار احمد قاسمی مہتمم جامعہ حسینہ دھنہا بیجولی مہراج گنج نے بھی مولانا مرحوم کی زندگی کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی۔ اس کے بعد مولانا کے لائق ذکر شاگرد اور مولانا مرحوم کے زیر اہتمام 26/سال سے جامعہ عربیہ تاج العلوم لچھمی پور میں بطور نائب مہتمم خدمت انجام دے رہے مولانا عبد الکافی صاحب نے اپنی باتوں اور یادوں کے ذکر سے مولانا مرحوم کے شاگردوں متوسلین و محبین کے آنکھوں کو نمدیدہ کر دیا ۔

اس کے بعد مولانا فائق قاسمی مرحوم کے شاگرد رفیع الدین رفیع نعمانی نے اپنے منظوم خراج عقیدت (تعزیعتی نظم)

سنواری ہے ہماری زندگی اقبال فائق نے

مٹا کر تیرگی دی روشنی اقبال فائق نے

 گزاری زندگی اپنی سدا توحید و سنّت پر

خدا کی عمر بھر کی بندگی اقبال فائق نے

تملّق سے ریاکاری سے کوسوں دور رہتے تھے

دکھائی ہر جگہ ہی سادگی اقبال فائق نے

بہت رنجور ہے پروانچل اب ان کی فرقت سے

بکھیری تھی عجب جلوہ گری اقبال فائق نے

 ہوا محروم لچھمی پور اُن کے فیضِ عالی سے

عطا کی گلستاں کو تازگی اقبال فائق نے

نہ بھولے گا کبھی احسان یہ تاج العلوم اُن کا

لٹائی سب کو دولت علم کی اقبال فائق نے

بڑے ہی مہرباں طلبہ پہ تھے، شفقت کیا کرتے

نبھائی سب سے ہی دریا دلی اقبال فائق نے

تھے مخلص مہتمم وہ جامعہ کے تا دمِ آخر

 زمانے کو دی عقل و آگہی اقبال فائق نے

کرے گا کون جلسوں کی صدارت دورِ حاضر میں

بصد افسوس دنیا چھوڑ دی اقبال فائق نے

بڑے خوش خُلق تھے لوگوں کے دل پر حکمرانی کی

عطا کی سب کو ہی شائستگی اقبال فائق نے

خدایا صبر کی توفیق دے تو اہل خانہ کو !

سبھی کو دی جدائی کی گھڑی اقبال فائق نے

رفیع کی ہے دعا یا رب انہیں جنت عطا کرنا !

ترے دیں کے لیے ہی جان دی اقبال فائق نے

سے پورے مجمع کو عش عش کرنے پر مجبور کر دیا۔

دارالعلوم دیوبند کے شعبہ تحفظ ختم نبوت کے نائب ناظم حضرت مولانا شاہ عالم قاسمی مدظلہ العالی نے اپنے استاذ محترم مولانا فائق قاسمی رحمہ اللہ کو دیوبند سے تحریری شکل میں تعزیت پیش کی جس کو اس اجلاس میں مولانا مرحوم کے شاگرد اور شعبہ تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند کے مبلغ مولانا اشتیاق احمد قاسمی نے پرھ کر سنایا ۔

مولانا شاہ عالم صاحب گورکھپوری نے اپنے تعزیت نامے میں لکھا تھا کہ "مولانا اقبال فائق قاسمی رحمہ اللہ کی زندگی ایک قابل قدر کھلی کتاب کے مانند ہے جو صدیوں تک پڑھی جاتی رہے گی، آپ زہد و تقویٰ میں یکتاۓ زمانہ نہایت باوقار وضعدار اور علم و عمل میں قدیم علماء کے امین اور معروف علمی شخصیت کے حامل تھے۔ حالات زمانہ یا وقتی چمک دمک سے کبھی مرعوب نہیں ہوۓ۔

اس کے بعد اس تعزیتی اجلاس کے اہم رکن مولانا مفتی سعید اللہ قاسمی کے تاثراتی بیان نے مجمع پر سکتہ طاری کردیا انھوں نے مولانا کے مرض الوفات کے تذکرے سے عوام و خواص سب کی آنکھوں کو آبدیدہ کردیا ۔

اخیر میں اس پروگرام کے ایک اہم رکن مولانا اسعد اللہ قاسمی امام اسٹیشن مسجد پونہ نے مولانا فائق قاسمی صاحب کے سوانح کو اپنے پیدائش سے لیکر تاحال اس طرح پرویا کہ مولانا فائق قاسمی صاحب کے شاگردوں سے خوب داد وتحسین ملی ۔

اس پروگرام میں مولانا کے سینکڑوں سے زیادہ شاگرد جو ملک کے مختلف علاقوں میں دین کی خدمت انجام دے رہے ہیں سب از اول تا آخر حاضر رہے۔ اس پروگرام میں شرکت کرنے والے علماء کرام کے اسماء گرامی اس طرح ہیں:

مولانا مفتی شعیب احمد قاسمی مہتمم جامعہ عمر فاروق گبڑوا مہراج گنج۔ مولانا مفتی تبارک حسین قاسمی صدر المدرسین جامعہ حسینہ دھنہاں بیجولی مہرا ج گنج، حضرت مولانا شبیر احمد قاسمی صاحب صدر المدرسین جامعہ عربیہ صادقیہ مہراج گنج، حضرت مولانا و قاری ذبیح اللہ صاحب قاسمی استاذ دارالعلوم فیض محمدی ہتھیا گڑھ، مولانا ابن الحسن صاحب قاسمی استاذ مدرسہ بیت العلوم سراۓ میر اعظم گڑھ، مولانا سعید احمد صاحب قاسمی استاد شعبہ انگلش زبان و ادب جامعہ عربیہ ہتھورا باندہ، مولانا صدر عالم صاحب استاذ جامعہ الصفہ لکھنو، مولانا نصر اللہ صاحب ہالہ پریس گورکھپور، مولانا اشفاق اللہ خان ندوی جامعہ عائشہ للبنات مہراج گنج، مولانا حشمت اللہ صاحب قاسمی مہتمم جامعہ البنات گبڑوا مہراج گنج، مولانا عبدالمنان شکری، مولانا حافظ عبیدالرحمٰن صاحب استاذ جامعہ ابوبکر صدیق ترکلوا تیواری، ڈاکٹر اعجاز احمد صاحب پنیرا اور ڈاکٹر ارشد خان صاحب ناظم جامعہ عربیہ تاج العلوم لچھمی پور۔

مولانا رحمت اللہ صاحب قاسمی کی پرسوز دعا پر یہ پروگرام رات ساڑھے دس بجے اپنے اختتام کو پہنچا ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے