ابو احمد مہراج گنج

آم کو سیاسی رنگ میں رنگنے کی کوشش کب اور کس طرح سے شروع ہوئی مجھے اس کا صحیح شعور نہیں ہے۔ میں نے پانچ سال قبل آم سے سیاسی مفاد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ایک شخص کو دیکھا وہ عام آدمی کو آم کھانے کے گرسکھارہے تھے۔ وہ اپنی سکھانے کی صلاحیت اور لوگوں کو ٹوپی پہنانے کی مہارت سے جیسے تیسے کرکے اس بار بھی حکومت سازی کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں اور اب غالبا پانچ سال تک مل جل کر سب کو ملائی کھلاتے رہیں گے ۔لیکن معتبر ذرائع سے یہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے کہ وہ ان پانچ سالوں میں آم کو کاٹ کر کھائیں گے گے یا چاٹ کر ؟۔مجھے ان صحافیوں سے امید ہے کہ وہ پتا لگالیں گے کہ صاحب اس سیزن میں آم کو چوس کر کھائیں گے کہ چاٹ کر۔
ویسے کہا جاتا ہے کہ بڑھاپے کی ٹھرک میں اور پرانے ٹرک میں کچھ زیادہ فرق نہیں ہوتا وہ کبھی بھی اور کہیں بھی کچھ بھی کرسکتا ہے ۔مطلب کچھ ایسا ویسا کام نہیں جو آپ سمجھ رہے ہیں بلکہ وہ کبھی بھی چلتے چلتے راستے پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور پیچھے سے آنے والوں کی راہ کو مسدود کردیتے ہیں ۔
آم کا سیزن ہے اور بھارت میں آم کو بہت طریقوں سے استعمال کیا جاتا ہے ایسے ہی جیسے بھارت میں سیاسی جماعتیں اپنے لیڈروں کا استعمال کرلیتی ہیں ۔کبھی حکومت بنانے میں تو کبھی حکومت گرانے میں اور کبھی ارباب حکومت کو گھٹنوں کے بل لانے میں۔اب اس بار بہار میں بَہار رہے گی کیونکہ بہاری بابو آم کو کاٹ کر چوس کر تو کھانا جانتے ہی ہیں وہ تو آم کا اماوٹ اور اچار بھی بنانے کی ترکیب جانتے ہیں اس لئے کچھ جانکاروں کا ماننا ہے کہ اس بار مرکز کی حکومت سے بہار کو جو آم، عام آدمی کو ملنے کی توقع ہے وہ پچھلے دوسیزن سے کہیں زیادہ ہے اس بار بہار واسی اس آم کا اچار ۔مربہ کھٹائی بھی بنا سکتے ہیں ۔
آم تو جنوبی بھارت میں بھی ویسے ہی پاپولر ہیں جس طرح شمالی بھارت میں ۔مگر آم سے لطف بازی کرنے والوں کا کہنا ہے کہ جنوب کے آم میں گودا زیادہ ہوتا ہے اور گٹھلی بہت مناسب ہوتی ہے ۔مجھے لگتا ہے کہ اس بار آندھراپردیش میں مرکز کی حکومت آم تو بھجوائے گی ہی ساتھ میں گٹھلیوں کی سائز بڑھانے پر بھی غور وخوض کرے گی ۔لیکن یہ دیکھنا بھی بڑا دلچسپ ہوگا کہ آندھرا کے لوگ عام آدمی کو مرکز سے ملنے والے آم کو کتنی چاہت اور محبت سے چوستے ہیں ۔ویسے جنوبی بھارت کے لوگوں میں چاٹنے اور چوسنے کی صلاحیت شمالی بھارت کے مقابلے میں بہت کم ہے ۔لیکن آم سے متعدد قسم کے اچار اور مختلف قسم کے لذیذ اشیاء بنانے کی ترکیب جنوبی بھارت کے درمیان زیادہ رائج ہے ۔
ہمارے اتر پردیش میں تو خیر ہر خاص و عام آم کا دلدادہ ہے جس کے پاس ایک پیڑ ہے وہ بھی اور جس کے پاس پورا باغیچہ ہے وہ بھی ۔لیکن باغیجہ والے آم فروش اس بار عام آدمی کے دماغ فروشی میں کچھ زیادہ نہیں کرسکے ہیں اس لئے بدلے بدلے میرے سرکار نظر آتے ہیں ۔
ادھر ادھر کی باتیں چھوڑئیے۔ چلئے بازار سے تازہ آم لاتے ہیں سننے میں آیا ہے کہ بارش کے بعد آم کے ذائقے میں خوش ذائقی بڑھ جاتی ہے تو ہم بھی آم کو کاٹ کو چاٹنے اور چوس کر لذت پرکھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے