مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھاڑکھنڈ
مشہور شاعر، بہترین نثر نگار، مشاعروں کے ناظم، ارم پبلیکیشن ہاؤس دریا پور پٹنہ کے مالک، بارہ سے زائد کتابوں کے مصنف ومؤلف جناب فرد الحسن فرد کا انٹھاون (58) برس کی عمر میں پٹنہ کے ایک اسپتال میں 9/ فروری 2024ء کو انتقال ہوگیا، وہ عارضہ قلب میں مبتلا تھے، جنازہ ان کے آبائی گاؤں شیر گھاٹی گیا لایا گیا اور شیر گھاٹی کے قاضی محلہ واقع قاضی باغ قبرستان میں تدفین عمل میں آئی، پس ماندگان میں اہلیہ نکہت جہاں کے علاوہ، تین لڑکے شائق (احسن)، فائق، فائز اور تین لڑکیاں شائقہ، فائقہ، (صادقہ) اور فائزہ کو چھوڑا۔
ڈاکٹر فرد الحسن فرد، سید ابو الحسن اور سیدہ صالحہ خاتون کے گھر 6/ جنوری 1966ء کو دھنباد موجودہ جھارکھنڈ میں پیدا ہوئے، ان کا آبائی وطن قاضی محلہ شیر گھاٹی گیا ہے، تعلیم وتربیت کے مراحل دھنباد اور پٹنہ میں طے ہوئے، معاشی استحکام کے لیے تجارت کو اپنایا،ارم پبلشنگ ہاؤس کے نام سے دریا پور پٹنہ میں ان کی تجارت تھی، جس نے کم وقت میں اردو ادب سے متعلق کتابوں کی عمدہ طباعت میں ایک رکارڈ قائم کیا، پڑھنے لکھنے کا مشغلہ جاری رہا، شاعری بھی کی، نثر میں بھی نام کمایا، ان کی تصنیفات وتالیفات میں سرمایۂ حیات (1985) گلدستہ شوخ(2004) مصحف تاریخ (2009ء) کنز العلوم (2010ء) بے ترتیب (2010ء) روبرو۔ ناوک حمزہ پوری سے انٹرویو(2011ء)، مقالات شہودی (2013ء) بے چارے لوگ (2015ء )، بے ربط (2019ء)، بے اختیار (2020ء )، سردار جعفری کے خطوط محمد حسن کے نام (2021ء) مطبوعہ شکل میں موجود ہیں، ”بے چارگی“ بے کم وکاست بھی انہوں نے مکمل کر دیا تھا، لیکن طباعت کے قبل ہی ان کی زندگی کا آخری صفحہ الٹ گیا، اور یہ دونوں کتابیں منظر عام پر نہ آسکیں۔
ڈاکٹر فرد الحسن فرد نے ریسرچ فیلو کی حیثیت سے 2008ء سے 2013ء تک خدا بخش اورنٹیل پبلک لائبریری میں کام کیا، کنز العلوم اسی دور کی یاد گار ہے، یہ خدا بخش لائبریری کے اردو مخطوطات کی فہرست ہے، جس پر نظر ثانی کا کام مولانا محمد شاہ جہاں قاسمی نے کیا تھا اور خدا بخش لائبریری سے اس کی طباعت ہوئی تھی، مقالات مولانا شہودی مولانا محمد انوار الحق شہودی کے مطبوعہ مضامین کا انتخاب ہے، جس کی ترتیب وتزئین کا کام فرد الحسن فرد نے کیا تھا۔
مصحف تاریخ کے اصل مصنف ناوک حمزہ پوری ہیں، البتہ ترتیب وپیش کش فرد الحسن فرد کی ہے۔
ڈاکٹر فرد الحسن فرد سے میرے تعلقات اچھے تھے، وہ عالم کی حیثیت سے میری قدر کرتے اور میں شاعر وادیب کی حیثیت سے ان کی پذیرائی، اثر فریدی نے مرکز دانش کی جانب سے ایک شعری نشست پھلواری میں بلائی تھی اور جس میں پٹنہ کے نامور شعراء کے ساتھ اس حقیر کو بھی بلایا گیا تھا، اس نشست میں پہلی بار میں نے ان کی اناؤنسری سنی تھی، اور میں نے سچی، جھوٹی شاعری پر اپنی بات رکھی تھی، پروفیسر علیم اللہ حالی نے اس مجلس کی صدارت فرمائی تھی، قوس صدیقی بھی اس مجلس میں شریک تھے۔
ڈاکٹر فرد الحسن فرد کی سبھی کتابیں میری نظر سے نہیں گذری ہیں، بعض کتابوں کے صرف ٹائٹل پیج تک ہی میری رسائی ہوسکی، البتہ انہوں نے ”بے ترتیب“ اور ”بے چارے لوگ“ خود سے نقیب میں تبصرہ کے لیے مجھے بھیجا تھا، ”بے ترتیب“ ان کی شاعری کا مجموعہ ہے اور بے چارے لوگ نثر میں ہے۔ بے ترتیب پر میں نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا:
”فردؔ کی شاعری میں جو چیز سب سے زیادہ ہمیں متاثر کرتی ہے، وہ سیدھے سادے لفظوں کا استعمال ہے، وہ جو کچھ کہنا چاہتے ہیں اس کے لئے انہیں الفاظ گڑھنا نہیں پڑتا، جسے آج کل تشکیل لفظیات کے بھاری بھرکم لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے،اس کا ایک دوسرا رخ یہ بھی ہے کہ ان کے یہاں تخیل کی پرواز اتنی بلند نہیں ہے کہ الفاظ کی تنگ دامانی کے لئے انہیں شکوہ سنج ہونا پڑے، فلسفیانہ خیالات اور ادق مضامین ان کے یہاں نہ کے برابر ہیں، ان کی شاعری ہمارے گرد وپیش کی شاعری معلوم ہوتی ہے ان کا دکھ، ان کی فرقت کی داستان، ماں سے ان کی محبت، زمانہ کے بدلتے اطوار اور طریق، تہذیب وثقافت کی ٹوٹتی طنابیں اور گرتے خیمے، خوابوں کا بکھر نا اور محبوب کا بچھڑجانا، امید ویاس میں گذرتی زندگی، یہی سب کچھ فرد الحسن فردؔ کی طرح سماج کے ہرفرد کی کہانی ہے، کہانی اپنی ہو تو کسے بھلی نہیں معلوم ہوتی۔“(حرف آگہی صفحہ 99)
فرد الحسن کی دوسری کتاب ”بے چارے لوگ“ بھی تبصرہ کے لیے آئی تھی، اس کے اقتباس کا بھی نقل کرنا افادیت اور دلچسپی سے خالی نہیں ہے، میں نے لکھا تھا:
”بے چارے لوگ“ فردالحسن فردؔ کے تحقیقی مضامین کا مجموعہ ہے، جس میں انتہائی دقت نظر کے ساتھ تاریخی حوالوں سے شعروادب کی بعض اہم شخصیات کی زندگی اور خدمات سے متعارف کرایا گیاہے،اس کتاب میں تنقید کے اصولوں کو برتاگیاہے جس سے یہ کتاب تحقیق،تنقید اور تاریخ کا مرقع بن گئی ہے۔“ (آوازہ لفظ وبیاں صفحہ 196)
میں نے محاکمہ کرتے ہوئے لکھاتھا:
”اتنی بات ضرور ہے اور اسے کہنے میں مجھے کوئی تکلف نہیں کہ فردالحسن فردؔ کا مطالعہ وسیع ہے،انہوں نے جن شخصیات اور جن موضوعات پر لکھا ہے وہ پوری گہرائی،گیرائی اور تجزیاتی تنقید کے ساتھ لکھاہے، آج کل جو قلم کاروں کا مزاج بن گیا ہے کہ ”کاتااور لے دوڑے“اس سے فردالحسن الگ اور اپنی تحقیق وتنقید اور اس سے نتائج کے استنباط میں فرد یعنی یکتاہیں،منفرد ہیں۔“(ایضا صفحہ 198)
ان کی بیشتر کتابوں کے نام ”بے“ سے شروع ہوتے ہیں، اس پر میں نے لکھا تھا:
”فردالحسن کو شعوری طورپر حروف تہجی میں ”بے“پسند ہے،اس پسندیدگی کی نفسیاتی وجہ مجھے نہیں معلوم،ایساہوسکتاہے کہ بچپن میں جو انہوں نے ”الف“ سے اللہ کو پہچان ”ب“سے بڑوں کا کہنا مان، پڑھاتھا، وہ اس کے ارتقائی مراحل سے گذررہے ہوں، اللہ کی معرفت کے بعد ابھی وہ بڑوں کے کہے کو ماننے تک پہونچے ہیں، تدریجی ارتقاء کی اگلی منزل ”ت“ سے توبہ کرانسان ہے، اس منزل تک پہونچنے کے بعد انسان کو دنیا وآخرت کی سرخ روئی حاصل ہوتی ہے، فردالحسن تو پہلے ہی سے سرخ رو ہیں، ان کا شعری مجموعہ بے ترتیب بہت پہلے شائع ہوکر دادتحسین حاصل کرچکاہے،”بے چارے لوگ“ آپ کے سامنے ہے”بے ربط“”بے کم وکاست“اور”بے اختیار“طباعت کے مرحلہ میں ہے،”با“سے محبت کا یہی عالم رہاتو وہ کبھی ”بے سروپا“ لے کر بھی حاضر ہوسکتے ہیں، ہمیں اس وقت کا انتظار کرنا چاہئے۔“ (ایضا صفحہ199)
”اے بسا آرزو کہ خاک شد“ اللہ تعالیٰ فرد الحسن فرد کی مغفرت فرمائے، پس ماندگان کو صبر جمیل اور زبان وادب کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے۔ آمین۔
