از قلم: محفوظ الرحمن ریاضی بن عبدالمعبود سلفی بن عبدالرشید۔

 

قدرتِ الٰہی کی عظیم نشانیوں میں سے ایک اہم نشانی آسمان سے بارش کا برسنا ہے جو انسانوں کے علاوہ روئے زمین پر بسنے والی دیگر مخلوقات کی زندگی کا ایک اہم عنصر ہے۔

توحید کے ضمن میں سورۃ البقرہ آیت 164میں غور و فکر کیلئے 7 اہم اُمور کا تذکرہ ہے

إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَالْفُلْكِ الَّتِي تَجْرِي فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنفَعُ النَّاسَ وَمَا أَنزَلَ اللَّهُ مِنَ السَّمَاءِ مِن مَّاءٍ فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَبَثَّ فِيهَا مِن كُلِّ دَابَّةٍ وَتَصْرِيفِ الرِّيَاحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ۔ (سورة البقرة: 164)

بے شک آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے اور رات اور دن کے بدلنے میں اور ان کشتیوں میں جو سمندر میں وہ چیزیں لے کر چلتی ہیں جو لوگوں کو نفع دیتی ہیں اور اس پانی میں جو اللہ نے آسمان سے اتارا، پھر اس کے ساتھ زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کردیا اور اس میں ہر قسم کے جانور پھیلا دئیے اور ہواؤں کے بدلنے میں اور اس بادل میں جو آسمان و زمین کے درمیان مسخر کیا ہوا ہے، ان لوگوں کے لیے یقیناً بہت سی نشانیاں ہیں جو سمجھتے ہیں۔

یہ آیت اس لحاظ سے بڑی جامع ہے کہ کائنات کی تخلیق اور اس کے نظم و تدبیر کے متعلق سات اہم امور کا اس میں یکجا تذکرہ ہے، جو کسی آیت میں نہیں 1۔ آسمان اور زمین کی پیدائش، جن کی وسعت و عظمت محتاج بیان نہیں۔ 2۔ رات اور دن کا یکے بعد دیگرے آنا، دن کو روشنی اور رات کو اندھیرا کردینا تاکہ کاروبار معاش بھی ہو سکے اور آرام بھی۔ پھر رات کا لمبا اور دن کا چھوٹا ہونا اور پھر اس کے برعکس دن کا لمبا اور رات کا چھوٹا ہونا۔ 3۔ سمندر میں کشتیوں اور جہازوں کا چلنا، جن کے ذریعے سے تجارتی سفر بھی ہوتے ہیں اور ٹنوں کے حساب سے سامان رزق و آسائش ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتا ہے۔ 4۔ بارش جو زمین کی شادابی و روئیدگی کے لئے نہایت ضروری ہے۔ 5۔ ہر قسم کے جانوروں کی پیدائش، جو نقل و حمل، کھیتی باڑی اور جنگ میں بھی کام آتے ہیں اور انسانی خوراک کی بھی ایک بڑی مقدار ان سے پوری ہوتی ہے۔ 6۔ ہر قسم کی ہوائیں ٹھنڈی بھی گرم بھی، بارآور بھی اور غیر بارآور بھی، مشرقی مغربی بھی اور شمالی جنوبی بھی۔ انسانی زندگی اور ان کی ضروریات کے مطابق۔ 7۔ بادل جنہیں اللہ تعالیٰ جہاں چاہتا ہے، برساتا ہے۔ یہ سارے امور کیا اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی وحدانیت پر دلالت نہیں کرتے، یقینا کرتے ہیں۔ کیا اس تخلیق میں اور اس نظم و تدبیر میں اس کا کوئی شریک ہے ؟ نہیں۔ یقینا نہیں۔ تو پھر اس کو چھوڑ کر دوسروں کو معبود اور حاجت روا سمجھنا کہاں کی عقلمندی ہے ۔

پانی کے بغیر کوئی جاندار زندہ نہیں رہ سکتا ، مختصر وقت کے لئے بھی پانی نہ ملے تو انسان ہی نہیں حیوانات بھی زندگی کی نعمت سے مرحوم ہوجاتے ہیں اور نباتات سے ان کی رونق اور سرسبزی و شادابی چھن جاتی ہے ، پھر وہ پژمُردگی کا شکار ہوجاتے ہیں ، ﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

اَوَ لَمۡ یَرَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ کَانَتَا رَتۡقًا فَفَتَقۡنٰہُمَا ؕ وَ جَعَلۡنَا مِنَ الۡمَآءِ کُلَّ شَیۡءٍ حَیٍّ ؕ اَفَلَا یُؤۡمِنُوۡنَ (سورة الأنبیاء30)

کیا کافر لوگوں نے یہ نہیں دیکھا کہ آسمان و زمین باہم ملے جلے تھے پھر ہم نے انہیں جدا کیا اور ہر زندہ چیز کو ہم نے پانی سے پیدا کیا ، کیا یہ لوگ پھر بھی ایمان نہیں لاتے؟

یقینا ہر چیز کے وجود پذیر ہونے میں اور اس کی بقا میں پانی کو بڑا دخل ہے اور پانی زندگی کا ایک اہم عنصر ہے ۔

اب کوئی رب کریم کی اس نوازش اور عظیم نعمت پر غور کرے کہ اس نے اپنے بندوں کے لئے آب رسانی کا کتنا بہترین نظام جاری فرمایا۔ سمندروں کی شکل میں پانی کا وافر ذخیرہ کرۂ ارض پر پھیلادیا ، دریاؤں اور نہروں کی شکل میں خوشگوار اور میٹھا پانی جاری کردیا ، زمین کی تہہ میں پانی کی بھاری مقدار رکھ دی جسے انسان معمولی محنت و کوشش سے زمین کھود کر کنوؤں کی شکل میں حاصل کرتا ہے۔ اگر ﷲ اس پانی کو اتنا نیچے کردے کہ اس تک پہنچنا انسان کے بس میں نہ رہے تو کیا کوئی اور معبود یا قدرت والا ایسا ہے جو انسان کو میٹھا پانی دے سکے ؟

ارشاد باری تعالی ہے کہ:  قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَصْبَحَ مَاؤُكُمْ غَوْرًا فَمَن يَأْتِيكُم بِمَاءٍ مَّعِينٍ (سورة الملک 30)

’’ تم کہہ دو ! تمہارا کیا خیال ہے اگر تمہارا پانی زمین میں نچلی سطح پر اُتر جائے تو کون ہے جو تمہارے لئے میٹھا پانی لے آئے ؟۔

پھر آب رسانی کی سب سے بہتر شکل جس کا ہر انسان مشاہدہ کرتا ہے وہ بارش کا نظام ہے کہ سورج کی گرمی جب سمندر کے پانی پر پڑتی ہے تو وہ بخارات بن کر بادل کی شکل میں اوپر کو اُٹھتا ہے ، پھر یہ بادل ہواؤں کے دوش پر سفر کرکے جدھر ﷲ کا حکم ہو ادھر برس پڑتے ہیں جس سے انسان اور دیگر مخلوق مستفید ہوتی ہے:

وَهُوَ الَّذِي يُنَزِّلُ الْغَيْثَ مِن بَعْدِ مَا قَنَطُوا وَيَنشُرُ رَحْمَتَهُ ۚ وَهُوَ الْوَلِيُّ الْحَمِيدُ (سورة الشوریٰ 28)۔

وہ ﷲ ہی ہے جو لوگوں کے نااُمید ہو جانے کے بعد بارش برساتا ہے اور اپنی رحمت پھیلا دیتا ہے، وہی کار ساز اور قابل تعریف ہے۔

بارش کا یہ پانی تالابوں اور کنوؤں کی شکل میں جمع ہوکر نہ صرف انسانوں کے پینے کے کام آتا ہے بلکہ اس سے مردہ زمین میں زندگی پیدا ہوتی ہے اور پھر اس پانی کے ذریعہ ہی زمین سے انواع و اقسام کے درخت اور پودے اُگتے ہیں۔ غلہ ، اناج اور لذیذ پھل نکلتے ہیں۔ اگر آسمان سے بارش کے نزول کا یہ بہترین نظام نہ ہو یا ﷲ تعالیٰ بندوں کی نافرمانی اور گناہوں کے سبب بارش روک لے تو کیا یہ انسان کے بس میں ہے کہ وہ پانی جیسی زندگی کے لئے ضروری چیز کا کہیں سے انتظام کرسکے ؟ یا ﷲ تعالیٰ کے سوا کوئی ذات ایسی ہے جو انھیں یہ نعمت عطا کرسکے ؟ ﷲ تعالیٰ کے اس فرمان میں غور کیجئے، ارشاد ہے :

أَفَرَ‌أَيْتُمُ الْمَاءَ الَّذِي تَشْرَ‌بُونَ أَأَنتُمْ أَنزَلْتُمُوهُ مِنَ الْمُزْنِ أَمْ نَحْنُ الْمُنزِلُ۔ ( سورة الواقعہ70-68) ۔

اچھا یہ بتاؤ کہ جس پانی کو تم پیتے ہو اسے بادلوں سے بھی تم ہی اُتارتے ہو یا ہم برساتے ہیں ؟ اگر ہم چاہیں تو اسے کڑوا زہر کردیں پھر تم ہماری شکر گزاری کیوں نہیں کرتے ؟ ۔

اسی طرح ارشاد باری تعالیٰ ہے: أَمَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَأَنزَلَ لَكُم مِّنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَنبَتْنَا بِهِ حَدَائِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ مَّا كَانَ لَكُمْ أَن تُنبِتُوا شَجَرَهَا ۗ أَإِلَٰهٌ مَّعَ اللَّهِ ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ يَعْدِلُونَ۔ ( النمل 60)

بھلا بتاؤ تو کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا ؟ کس نے آسمان سے بارش برسائی ؟ پھر اس سے ہرے بھرے بارونق باغات اُگادیئے، ان باغوں کے درختوں کو تم ہرگز نہ اُگاسکتے ، کیا ﷲ کے ساتھ اور کوئی معبود بھی ہے ؟ بلکہ ( حقیقت یہ ہے کہ ) یہ لوگ ( سیدھی راہ سے ) ہٹ جاتے ہیں۔

معبودان باطل کی عمومی نفی کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت مطلقہ کی مثالیں دے کر مشرکین مکہ سے الزامی سوال کیا ہے کہ بتاؤ یہ کس کی قدرت کا کرشمہ ہے ان چیزوں کو کس نے پیدا کیا ہے یہ نعمتیں کس نے دی ہیں؟ اور جب ہر سوال کا جواب تمہارے پاس سوائے اس کے کچھ نہیں کہ یہ سب اللہ کی کرشمہ سازی ہے تو پھر تم اسے چھوڑ کر دوسروں کو اپنا معبود کیوں بناتے ہو؟

اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ سے پہلا الزامی سوال یہ کیا کہ ان آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے اور آسمان سے تمہارے لیے بارش کس نے نازل کی ہے؟ جس کے ذریعہ ہم نے تمہارے لیے خوبصورت باغات اگائے ہیں، تم ان درختوں کو اگانے کی طاقت نہیں رکھتے تھے۔ ظاہر ہے اس کے سوا کوئی جواب نہیں کہ یہ سارے کام اللہ کے ہیں۔ تو پھر تم کیوں اللہ کے سوا کسی اور کی پرستش کرتے ہو؟

پھر آگے مزید چند دلائل اور قدرت کی نشانیوں کا تذکرہ کرنے کے بعد ارشاد ہے:

أَمَّن يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَمَن يَرْزُقُكُم مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ۗ أَإِلَٰهٌ مَّعَ ٱللَّهِۚ قُلۡ هَاتُواْ بُرۡهَٰنَكُمۡ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ . (سورة النمل64)

کیا وہ جو مخلوق کی اول دفعہ پیدائش کرتا ہے ، پھر اسے لوٹائے گا اور تمہیں آسمان و زمین سے روزیاں دے رہا ہے ، کیا ﷲ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے ؟ کہہ دیجئے اگر سچے ہوتو اپنی دلیل لاؤ۔

ایک اور جگہ بھی قدرت الٰہی کا بیان اس طرح آیا ہے، ارشاد ہے :

ذَٰلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ يُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَيُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ وَأَنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ ۔ ذَٰلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّ مَا يَدْعُونَ مِن دُونِهِ هُوَ الْبَاطِلُ وَأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ۔ أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ أَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَتُصْبِحُ الْأَرْضُ مُخْضَرَّةً ۗ إِنَّ اللَّهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ۔ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۗ وَإِنَّ اللَّهَ لَهُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ۔

أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ سَخَّرَ لَكُم مَّا فِي الْأَرْضِ وَالْفُلْكَ تَجْرِي فِي الْبَحْرِ بِأَمْرِهِ وَيُمْسِكُ السَّمَاءَ أَن تَقَعَ عَلَى الْأَرْضِ إِلَّا بِإِذْنِهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ۔ وَهُوَ الَّذِي أَحْيَاكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ۗ إِنَّ الْإِنسَانَ لَكَفُورٌ۔  (سورة الحج66-61)

یہ اس لئے کہ ﷲ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور بے شک ﷲ سننے والا دیکھنے والا ہے ، یہ سب اس لئے کہ ﷲ ہی حق ہے اور اس کے سوا جسے بھی یہ پکارتے ہیں وہ باطل ہے اور بے شک ﷲ ہی بلندی والا اور کبریائی والا ہے ، کیا تم نے نہیں دیکھا کہ ﷲ تعالیٰ آسمان سے پانی برساتا ہے ، پس زمین سرسبز ہوجاتی ہے ، بے شک ﷲ مہربان اور باخبر ہے آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اسی کا ہے اور یقینا ﷲ ہی ہے بے نیاز اور تعریفوں والا ، کیا تم نے نہیں دیکھا کہ ﷲ ہی نے زمین کی تمام چیزیں تمہارے لئے مسخر کردی ہیں اور اس کے فرمان سے پانی میں چلتی ہوئی کشتیاں بھی ، وہی آسمان کو تھامے ہوئے ہے کہ زمین پر اس کی اجازت کے بغیر گر نہ پڑے ، بے شک ﷲ تعالیٰ لوگوں پر شفقت و نرمی کرنے والا اور مہربان ہے، اسی نے تمہیں زندگی بخشی ، پھر وہی تمہیں موت دے گا ، پھر وہی تمہیں دوبارہ زندہ کرے گا ، بے شک انسان بڑا ناشکرا ہے۔

ان آیات اور توحید کے دلائل میں بھی غور کیجئے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:

يَا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ. الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ فِرَاشًا وَالسَّمَاءَ بِنَاءً وَأَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَّكُمْ ۖ فَلَا تَجْعَلُوا لِلَّهِ أَندَادًا وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ (البقرة 21.22)

اے لوگو ! اپنے اس رب کی عبادت کرو ، جس نے تمہیں اور تم سے پہلے کے لوگوں کو پیدا کیا تاکہ تم پرہیز گار بن جاؤ جس نے تمہارے لئے زمین کو فرش اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے پانی اُتارا پھر اس سے پھل پیدا کرکے تمہیں روزی دی ، خبردار جانتے بوجھتے ﷲ کے لئے شریک مقرر نہ کرو۔

ﷲ ایک ہے اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ۔ کوئی غور و فکر کرے تو کائنات کا ذرہ ذرہ اسے اس حقیقت کی گواہی دیتا نظر آئے گا کہ ﷲ تعالیٰ کا کوئی شریک و ساجھی اور ہمسر نہیں ۔ ﷲ نے وحدانیت پر دلالت کرنے والی اپنی قدرت کی بے شمار نشانیاں کائنات میں پھیلادیں اوربندوں کو اس میں غور و فکر کی دعوت دی ہے لیکن انسان قدرت کی بڑی بڑی نشانیوں سے بھی منھ موڑے گزر جاتا ہے۔ یہ وسیع و عریض زمین جس کی پشت پر انسان چلتا پھرتا اور حیاتِ مستعار کے لمحات گزار رہا ہے ، سروں پر بلند و بالا بغیر ستون کے آسمان کا وجود اور اس میں ٹمٹماتے ستاروں کی رونق ، رات و دن کی آمد و رفت ، سورج کی روشنی و حرارت اور چاند کی نورانیت نیز آسمان سے بارش کا نزول اور مردہ زمین میں حیاتِ نو کا سرور ، زمین ایک طرح کی اور پانی بھی ایک ہی لیکن اسی پانی کے ذریعے زمین کے سینے پر انواع و اقسام کے سرسبز وشاداب لہلہاتے پودے رنگ برنگ کے پھول ، مختلف نوعیت کے اناج اور طرح طرح کی لذت دینے والے پھل ، ان سب کا پیدا کرنے والا کون ہے ؟ کیا یہ سب اس بات کی دلیل نہیں کہ اس کائنات میں ایک عظیم قدرت والی ہستی ایسی ہے جس نے ان سب کو انسان کے فائدے کے لئے ایک نظام میں باندھ دیا اور متعین کام پر لگادیا ہے۔ہر ایک مقررہ کام پر لگاہوا اور اپنی مفروضہ ڈیوٹی انجام دے رہا ہے۔ کسی میں سرتابی اور حکم عدولی کی مجال نہیں ، اسی ایک ذات باری تعالیٰ کا ارادہ اور حکم پوری کائنات میں کار فرما ہے ، اگر کوئی اس کا ہمسر ہوتا تو کائنات کا یہ نظام کبھی کا درہم برہم ہوجاتا ۔

قدرت ِالٰہی کی عظیم نشانی آسمان سے بارش کے نزول اور اس سے انسانوں کو حاصل ہونے والے فوائد کا تذکرہ قرآن پاک میں جگہ جگہ آیا ہے تاکہ انسان اس میں غور و فکر کرکے اپنے رب کا شکر گزار بن جائے۔ قرآن کریم میں قدرت کی بے شمار نشانیوں کا تذکرہ آیا ہے۔ ان میں بارش کے نزول کا ذکر اس طرح ہے ، ارشاد باری تعالیٰ ہے:

هُوَ الَّذِي أَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً ۖ لَّكُم مِّنْهُ شَرَابٌ وَمِنْهُ شَجَرٌ فِيهِ تُسِيمُونَ۔ يُنبِتُ لَكُم بِهِ الزَّرْعَ وَالزَّيْتُونَ وَالنَّخِيلَ وَالْأَعْنَابَ وَمِن كُلِّ الثَّمَرَاتِ ۗ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ (سورة النحل 10.11)

وہی ( ﷲ ) تمہارے فائدے کے لئے آسمان سے پانی برساتا ہے جسے تم پیتے بھی ہو اور اسی سے اُگے ہوئے درختوں کو تم اپنے جانوروں کو چراتے ہو ، اسی ( پانی ) سے وہ تمہارے لئے کھیتی اورزیتون اور کھجور اور انگور اور ہر قسم کے پھل اُگاتا ہے ، بے شک ان لوگوں کے لئے تو اس میں بڑی نشانی ہے جو غور و فکر کرتے ہیں۔

ایک اور جگہ ارشاد ہے:

اللَّهُ الَّذِي رَفَعَ السَّمَاوَاتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا ۖ ثُمَّ اسْتَوَىٰ عَلَى الْعَرْشِ ۖ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ۖ كُلٌّ يَجْرِي لِأَجَلٍ مُّسَمًّى ۚ يُدَبِّرُ الْأَمْرَ يُفَصِّلُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُم بِلِقَاءِ رَبِّكُمْ تُوقِنُونَ . وَهُوَ الَّذِي مَدَّ الْأَرْضَ وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ وَأَنْهَارًا ۖ وَمِن كُلِّ الثَّمَرَاتِ جَعَلَ فِيهَا زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ ۖ يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهَارَ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ. وَفِي الْأَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجَاوِرَاتٌ وَجَنَّاتٌ مِّنْ أَعْنَابٍ وَزَرْعٌ وَنَخِيلٌ صِنْوَانٌ وَغَيْرُ صِنْوَانٍ يُسْقَىٰ بِمَاءٍ وَاحِدٍ وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلَىٰ بَعْضٍ فِي الْأُكُلِ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ (سورة الرعد 2.4)

ﷲ وہ ہے جس نے آسمان کو بغیرستون کے بلند کر رکھا ہے کہ تم اسے دیکھ رہے ہو ، پھر وہ عرش پر قرار پکڑے ہوئے ہے ، اسی نے سورج اورچاند کو ماتحتی میں لگا رکھا ہے ، ہر ایک میعادِ معین پر گشت کررہا ہے ، وہی کام کی تدبیر کرتا ہے۔وہ اپنے نشانات کھول کھول کر بیان کر رہا ہے کہ تم اپنے رب کی ملاقات کا یقین کرلو ، اسی نے زمین پھیلا کر بچھادی ہے اور اس میں پہاڑ اور نہریں پیدا کردی ہیں اور اسی میں ہر قسم کے پھلوں کے جوڑے دہرے پیدا کردیئے ہیں ، وہ رات کو دن سے چھپادیتا ہے ، یقینا غور و فکر کرنے والوں کے لئے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں اور زمین میں مختلف ٹکڑے ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں اور انگور کے باغات ہیں اور کھیت ہیں اور کھجوروں کے درخت ہیں ، شاخ دار اور بعض ایسے ہیں جو بے شاخ ہیں سب ایک ہی پانی پلائے جاتے ہیں ، پھر بھی ہم ایک کو ایک پر پھلوں میں برتری دیتے ہیں ، اس میں عقلمندوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں۔

ایک ہی زمین سے اور ایک ہی پانی کی سیرابی سے انواع و اقسام کے درختوں کا وجود اور مختلف لذتوں والے پھلوں کی پیداوار بھی قدرت کی عظیم نشانی ہے۔ اس پہلو سے غور فکر کی بھی قرآن نے دعوت دی ہے ، جیساکہ مذکورہ بالا فرمان باری تعالیٰ میں یہ بات واضح ہے اسی طرح اﷲ تعالیٰ کا یہ ارشاد بھی ملاحظہ کیجئے:

وَهُوَ الَّذِي أَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجْنَا بِهِ نَبَاتَ كُلِّ شَيْءٍ فَأَخْرَجْنَا مِنْهُ خَضِرًا نُّخْرِجُ مِنْهُ حَبًّا مُّتَرَاكِبًا وَمِنَ النَّخْلِ مِن طَلْعِهَا قِنْوَانٌ دَانِيَةٌ وَجَنَّاتٍ مِّنْ أَعْنَابٍ وَالزَّيْتُونَ وَالرُّمَّانَ مُشْتَبِهًا وَغَيْرَ مُتَشَابِهٍ ۗ انظُرُوا إِلَىٰ ثَمَرِهِ إِذَا أَثْمَرَ وَيَنْعِهِ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكُمْ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ (سورة الأنعام 99)

اور وہ ( ﷲ ) ایسا ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا ، پھر ہم نے اس کے ذریعہ سے ہر قسم کے نباتات کو نکالا پھر ہم نے اس سے سرسبز شاخ نکالی کہ اس سے ہم اوپر تلے دانے چڑھے ہوئے نکالتے ہیں اور کھجور کے درختوں سے یعنی ان کے گپھے میں سے خوشے ہیں جو نیچے کو لٹکے جاتے ہیں اور انگوروں کے باغ اور زیتون اور انار کے بعض ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہوتے ہیں اور کچھ ایک دوسرے سے ملتے جلتے نہیں ہوتے ، ہر ایک کے پھل کو دیکھو جب وہ پھلتا ہے اور اس کے پکنے کو دیکھو ، ان میں دلائل ہیں ، ان لوگوں کے لئے جو ایمان رکھتے ہیں۔

الغرض قدرتِ الٰہی کی عظیم نشانیوں میں ایک اہم نشانی آسمان سے بارش کا نزول ہے جو انسانوں کے علاوہ روئے زمین پر بسنے والی دیگر مخلوقات کی زندگی اور بقاء کا ایک اہم عنصر ہے ، یہی بارش ہے جس سے مردہ زمین میں زندگی کے آثار نمودار ہوتے ہیں ، اس سے لہلہاتے پودے اور انواع و اقسام کے درخت اُگتے ہیں ، جسے چوپائے بھی کھاتے ہیں اور اس کے پھل انسانوں کی غذا بنتے ہیں، ہر قسم کے اناج اور غلہ کی پیداوار اسی بارش کے سبب ہے ، اگر ﷲ آسمان میں بارش کو روک لے تو کوئی طاقت نہیں جو آسمان سے بارش نازل کر سکے۔ قرآن پاک میں جگہ جگہ غور و فکر کے لئے ﷲ تعالیٰ نے اپنے ان انعامات کا ذکر فرمایا ہے تاکہ بندے قدرت کی ان نشانیوں میں غور کرکے ﷲ کی معرفت حاصل کریں اور اس کے شکر گزار بن جائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے