محمدیوسف رحیم بیدری ، بیدر، کرناٹک
۱۔ بے حیازندگی
بے حداچھی بیوی ہے ۔ اس قدراچھی ہے کہ جی چاہتاہے اس کاگلا دبا کر خود بھی خودکشی کرلوں ۔ مجھے مگر دونوں کام سے ڈر لگتاہے۔ اسلئے بے عزتی والی بے حیا زندگی جی رہاہوں ۔
ہنسیں نہیں ، مجھ میں اورآپ میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہے۔ دراصل مردوں کی بے روزگاری اور روزگار میں عورتوں کی حصہ داری اور انھیں پہلے ملنے والے روزگارکے مواقع نے ملازمت پیشہ خواتین کوشوہروں پر شدید ظلم کی Opportunity دے رکھی ہے۔ اس بارے میں آپکی رائے کیاہے ۔ کیامیں صحیح کہہ رہاہوں ؟
براہ ِ کرم ،برسر روزگار خواتین اپنی رائے اپنے پاس رکھیں۔ ظالم کی رائے تو اس کے اپنے حق میں ہی ہوگی نا؟
۲۔ قانع ہنرمند
اسکے استاد نے تاکید کی تھی ، کام کیاکر ، پیسہ نہ دیکھ ۔وہ اپنے استادکی نصیحت پر عامل رہا۔ اورکام میں اس قدرڈوب گیاکہ پیسوں کے کئی ڈھیراس کے اطراف جمع ہوکر اسکو دیکھنے لگے۔
انھیں لگاکہ وہ بہت اندرکہیں بیٹھاہوا کام میں بے حد مشغول ہے۔ اور پیسوں کے ان تمام ڈھیرکی طرف دیکھنے کی اس کو فرصت بھی نہیں ہے۔
۳۔ بے شرم آئینے
شرم کے چاروں اور برہنہ کرنے والے بے شرم آئینے لگائے جارہے تھے ۔ اور اس جارحانہ اقدام سے شرم آہستہ آہستہ پگھلتی ہوئی تیزی سے لمبی لمبی آخری سانسیں لے رہی تھی ۔ سماج کے غلط عناصر اس منظر پر حیوانی مسرت سے مغلوب ہوکر سیٹیاں بجارہے تھے۔
۴۔ خود پرستی
ہم نے دوسروں کے پاؤں سے کانٹے نہیں نکالے مگربخدا اپنی راہ کو صاف وشفاف اورہموار رکھا۔ اپنامؤقف زندہ باد
۵۔ زندگی کے قیدی
پینٹ اُتر جائے یا چڈی ساتھ چھوڑ دے ۔ زندگی کا ساتھ تو نبھانا پڑتاہے، ہنسنے والوکچھ تو احترام کرواس زندگی کا
۶۔ آپسی حسد
وہ بہت خوبصورت تھی ۔پھر بھی اُس کو کوئی نظر نہیں لگاسکا۔آخرکا روہ خود اپنوں کے نظر ِ بد کا شکارہوگئی۔
۷۔ گمنام موت
ہاں وہ شادی شدہ خاتون بھاگ نکلی۔ کہاں گئی پتہ نہیں چلا۔ ڈاکٹر تھی وہ ، اس کی محبت اس کو بلارہی تھی ۔ پھر وہ لاپتہ ہوگئی۔ کہتے ہیں کہ دراصل اس کے شوہر نے اس کو ڈھونڈنکالاتھا اور پھر زمین کھود کر اس کوکہیں گاڑھ دیاتھا۔مگر پولیس اس مقام کی آج تک شناخت نہ کرسکی۔ اس کہانی کوسننے والوں میں سے کئی ایک نے کہا’’درست کیااس نے ، عزتیں اُچھالنے والوں کاانجام غیر متوقع اور گمنام موت ہی ہوناچاہیے‘‘
۸ ۔ تازہ دم
شیطان تھک چکاتھا مگر پھر وہی کام اس کو انجام دیناتھا۔ اُس نے چندنوجوانوں کو سوشیل میڈیا سے نکال کر زندگی کا بے التفات اور بھیانک چہرا دِکھایا
تب کہیں جاکر آج 10؍نوجوانوں نے خودکشی کرلی ۔ شیطان نے تالیاں بجاکر خود اپنی پیٹھ تھپتھپائی اور پھرایک بار تازہ دم ہوگیا۔
۹۔ فہیمانہ گریز پائی
شعراچھاساتھا جوواٹس ایپ گروپ میں شیئر کیاگیاتھا۔ لیکن کسی بھی گروپ ممبر نے اس شعر کی تعریف نہیں کی۔ شعرتھا ؎
ہر دور کے یزید کی محفل میں بیٹھ کر
دیتے ہیں لوگ گالیاں گزرے یزیدکو
اس نے اس بات کاشکویٰ کیاتو میں نے کہا’’دل چھوٹا نہ کرو، بعض شعر چکما دینے کی خفیہ صلاحیت اپنے اندر رکھتے ہیں۔اس لئے لوگوں کے فہم میں آ نہیں پاتے ‘‘وہ بولا’’وہ توٹھیک ہے سر، تعریف والا ایک انگوٹھا شیئرکرنے میںکیابرائی تھی ، گروپ کے کسی ممبر نے ایسا نہیں کیا، جب کہ یہی لوگ ہیں جوخود کو ادب نواز کہتے نہیں تھکتے ‘‘
مجھے ہنسی آگئی ۔میں نے کہا’’میاں ، تم اس بات کو یوں سمجھوکہ میری یہی بات تمہاری فہم میں جگہ بنانہیں پارہی ہے۔ اور تم اصرار کرتے جارہے ہو۔ بالکل ایساہی معاملہ دوسروں کی فہم وفراست کا ہوتاہے ‘‘ وہ مانا تو نہیں لیکن خاموشی چھاگئی تھی۔
۱۰۔ درست تاریخ
عشق کرنا اورگھر سے بھاگ کھڑا ہونا یہ عمل چھنالوں کی پیداوار ہرگز بھی نہیں ہے۔ آپ نوٹ کرسکتے ہیں۔
دراصل شرفاء کی یہ وہ دوشیزائیں تھیں جو وِش کنیا بن کر شرفاء کے گھروں میں پید اہوئیں، جوان ہوئیں اورپھر اپنے اپنے عاشقوں کے ساتھ بھاگ کھڑی ہوکر سارے خاندان کوایک عذاب میں مبتلاکردِیا۔
صرف اتناہی نہیں کیا جب عاشقوں نے ان سے بے وفائی کی توعشاق سے بدلہ لینے کے لئے کوٹھے آباد کرڈالے۔ یہ اس لئے کہاجارہاہے کہ شرفاء کی تار یخ درست رہے ۔ان کی دوشیزاؤں کے نیک عمل کسی چنڈال گروپ یا چھنالوں سے وابستہ نہ ہوں۔
